پروفیسرڈاکٹر محمد عقیل |

مسلمانوں کے ایمان اور اخلاق میں کمزوریوں کی جدید اندازمیں نشاندہی کرنااور اصلاح کے لئے سائنٹفک طرز پر حل تجویز کرنا اس سائٹ کے مقاصد ہیں۔۔۔۔۔۔۔قد افلح من زکھا۔

بیوی پر شک اور بدگمانی

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Sunday Apr 3, 2016

بیوی  پر شک  اور بدگمانی

کہتے ہیں مرد عام طورپر شکی  ہوتے ہیں۔شک کا ایک بڑا سبب عادت و مزاج ہوتا ہے۔ چنانچہ  کچھ مرد اپنی  بیویوں پر بلاجواز شک کرتے اور ان پر کڑی نگاہ رکھنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ وہ انہیں ایک ایسے پولیس مین کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جو ہر شخص کو مجرم سمجھتا ہے۔ ایسے شوہر   اپنی بیوی کو مجرم گردانتے اور ہر دوسرے دن اس سے یہ توقع کرتے ہیں کہ وہ اپنی عفت کا ثبوت پیش کرے۔

اس قسم کے لوگ باآسانی بدگمانی کا شکار ہوجاتے ہیں۔  یہ بیوی کی  ہر ٹیلفون کل پر نظر رکھتے ، اس کے ایس ایم ایس سے غلط معنی اخذ کرنے کی کوشش کرتے، اس کے مو ڈ سوئینگ کو الٹی سیدھی توجیہہ دینے کی  کوشش کرتے ، اس کی مسکراہٹ کے پیچھے کسی کا خِیال محسوس کرتے، اس کی چہل قدمی  کو کسی کا انتظار سمجھتے  اور اسکے میک اپ کو اپنی بدگمانی کی عینک سے مشکوک بنادیتے ہیں۔ جب بیوی ذرا بھی ان کے سوالات کا جواب دینے میں چوک جاتی اور انہیں مطمئین نہیں کرپاتی تو ان کے شک  کا سانپ اور سرکش ہوجاتا ہے۔ ایک وقت آتا ہے  شک کا یہ اژدہا پورے خاندان کو نگل لیتا ہے۔

شک  کا تعلق  ماحول سے بھی ہوتا ہے۔ بعض  اوقات ایک  ایک  بند ماحول میں رہنےوالا شخص باآسانی بدگمانی کی جانب مائل ہوجاتا ہے۔ اور اگر بیوی ذرا آزاد ماحول کی ہو  بس پھر تو معاملہ خراب۔ بیوی کا کسی سے ہنس کر بات کرنا، کسی کی بات پر مسکرادینا، کسی  کی تعریف میں دو بول بول دینا، کسی پر تبصرہ کردینا ایک تنگ نظر میاں کو ایک آنکھ نہیں بھاتا۔ ہر  آنے والا دن بیوی کوایک بے حیا عورت کے روپ میں  پیش کرتا  رہتا ہے۔ایسا مرد اپنی بدگمانی میں طرح طرح کی باتیں سوچتا اور الٹے سیدھے اندازے لگاتا رہتا ہے۔ اس کی بدگمانی کبھی اس کی مردانگی پر سوالیہ نشان ڈالتی، کبھی بیوی کے کردار کو براپیش کرتی، کبھی بیوی کی بے تکلفی کو فحاشی گردانتی تو کبھی اس کی سرگرمیوں کی ٹوہ لینے پر اکساتی ہے۔

بیوی سے بدگمان ہونے کی ایک اور وجہ کوئی واقعہ، قصہ، ڈرامہ   یا  کہانی  ہوتی ہے ۔ کبھی کسی فلم سے متاثر ہوکر  میاں اپنی بیوی کو اسی روپ میں دیکھنے لگ جاتا ہے جس میں ایک بے حیا عورت کے کردار کو دکھایا گیا ہوتا ہے۔ اب اسی مفروضے پر جب وہ روزمرہ کا جائزہ لیتا ہے تو بیوی کی بہت سے باتیں اس کردار سے ملتی جلتی معلوم ہوتی ہیں۔ اس کی  بیوی اس  بے حیا کردار کی طرح فیس بک  بھی استعمال کرتی، وہاٹس ایپ بھی چلاتی، ای میل بھی کرتی اور ایس ایم ایس بھی بھیجتی نظر آتی ہے۔ اسے اپنی بیوی بالکونی میں بھی کھڑی دکھائی دیتی  اور کبھی چھت پر جاتی نظر آتی ہے۔ اب اسے یہ  خیال  آتا ہے کہ کسی طرح بیوی کی جاسوسی کرے۔ اس جاسوسی میں  کوئی نہ کوئی ایسی بات مل سکتی ہے جو شک کو قوی کردے۔ اس کے بعد اعتماد متزلزل ہونا شروع ہوجاتا ہے۔

بدگمانی کی اس کے علاوہ بھی بے شمار وجوہات ہوسکتی ہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ایک بدگمان شخص اس مفروضے پر سوچتا ہے کہ اس کی بیوی غلط راہوں پر جارہی ہے یہی اصل خرابی کی جڑ ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایک شخص کا شک درست ہوسکتا ہے لیکن اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ یہ شک غلط بھی ہوسکتا ہے۔چنانچہ عا م اصول کے تحت ہر شخص کو شک کافائدہ دینا چاہئے اور اسے اس وقت تک بے قصور سمجھنا چاہئے جب تک کہ اس کے قصور وار ہونے کے قوی ثبوت نہ مل جائیں۔

بدگمانی  کے کئی حل ہیں۔ اول تو بدگمانی جب بھی پیدا ہو تو اسے  پہلے مرحلے پر جھٹک دینا چاہئے۔اگر اس سے کام نہ بنے تو بدگمانی کی وجہ معلوم کرکے اس کا قلع قمع کرنے کی کوشش کرنا چاہئے۔  اگر شک بہت  قوی ہو تو اسے بات چیت کے  ذریعے ڈسکس کرلینا چاہئے۔ اس سے رشتے میں دراڑ کی بجائے مضبوطی پیدا ہوگی۔ اگر معاملہ اس سے بھی حل نہ ہو تو چند بزرگوں کو  بیچ میں ڈال کر سماجی دباؤ کے تحت کام کروایا جاسکتا ہے۔ اس کے باوجو بھی اگر  معاملہ حل نہ ہو تو کیا کریں؟ فرض کریں ایک شخص کی بیوی واقعی کسی دوسرے مرد میں دلچسپی رکھتی ہے تو جذبات سے قطع نظر ہوکر دیکھیں تو کیا کیا جاسکتا ہے اس معاملے کو خوش اسلوبی سے حل کریں اور حل نہ ہونے کی صورت میں خوش اسلوبی سے علحیدگی اختیار کرلیں۔

پروفیسر محمد عقیل

 


دین کے بنیادی تقاضے

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Thursday Mar 10, 2016

دین کے بنیادی تقاضے

پروفیسر محمد عقیلؔ

اللہ تعالیٰ نے انسان کو محض اپنی بندگی کیلئے پیدا کیا ہے۔ اس بندگی کا بنیادی تقاضا یہ ہے کہ خدا ہی کی بات مانی جائے۔ اسی کے احکامات پر اپنے ظاہر و باطن کو جھکا دیا جائے اور طا غوت کی بات ماننے سے گریز کیا جائے۔ اسی بندگی اور تسلیم و رضا کو جا نچنے کیلئے اللہ تعالیٰ نے زندگی و موت کا نظام پیدا کیا تاکہ آزمائے کہ کون بہتر عمل کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت میں خیرو شر کا شعور رکھ دیا اور ساتھ ہی وحی کے ذریعے صراط مستقیم کا تعین کردیا تاکہ لوگ خدا کی مرضی کے مطابق زندگی گذارکر جنت کی ابدی نعمتوں سے مستفید ہوں۔ اس اہتمام کے باوجود انسان اکثر گناہوں کی غلاظت میں ملوث ہوجاتا اور نیکیوں سے دور ہوجاتا ہے ۔ اس نافرمانی کی بنا پر انسانی ذات آلودگی کا شکار ہوجاتی ہے اور کوئی بھی شخص نافرمانی کی آلودگی کے ساتھ جنت میں داخل نہیں ہوسکتا ۔ چنانچہ اللہ کی رضا کے حصول کے لئے لازمی ہے کہ خود کو گناہوں سے پاک اور نیکیوں سے آراستہ کیا جائے۔ اس عمل کو تزکیہ نفس کہا جاتا ہے۔
یہ تزکیہ نفس اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ایک مومن ان کاموں سے نہ رک جائے جن سے اس کا رب روکے اور ان امور پر عمل کرے جن کو کرنے کا حکم دیا جائے۔ شریعت کی اصطلاح میں انہیں اوامر و نواہی سے جانا جاتا ہے۔ ان اوامرو نواہی پر عمل کرنے کا پہلا قدم یہ ہے کہ ان کے بارے میں علم حاصل کیا جائے اور دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ اس علم پر عمل کیا جائے۔
اسلام کی یہ خوبی ہے کہ ایک دیہاتی شخص بھی اس پر عمل کرسکتا ہے اور ایک عالم فاضل اسکالر بھی۔ اسی لئے اسلام کو دین فطرت بھی کہا گیا ہے۔ یہ مختصر کتاب اسی مقصد کے تحت ترتیب دی گئی ہے کہ مسلمانوں کو ان احکامات کی مختصر فہرست دے دی جائے جن پر ان کا رب عمل کروانا چاہتا ہے۔ اس کتاب میں اوامرو نواہی کی ایک جامع فہرست دی گئی ہے۔ یہ فہرست ان منکرات کے بارے میں بتاتی ہے جن سے بچنا لازم ہے اور ان اچھے اعمال کی نشاندہی کرتی ہے جن پر عمل کرنا ضروری ہے۔ اگر کوئی شخص خود کو ان منکرات سے محفوظ نہیں رکھتا یا ان لازمی اعمال کو نہیں اپناتا تو وہ اپنا نفس آلودہ کرتا اور خدا کی نافرمانی کا مرتکب ہوجاتا ہے۔ اس نافرمانی میں وہ جتنا آگے بڑھتا ہے اتنا ہی جنت سے دور اور جہنم کے قریب ہوتا جاتا ہے۔ چنانچہ ان اوامرو نواہی کو جاننا اور ان پر عمل کرنا ہر مسلمان کے لئے لازم ہے۔
اس کتاب میں بیان کردہ احکامات کی فہرست میں قرآن و حدیث کی وضاحت بھی بیان کی گئی ہے تاکہ اصل حکم تک رسائی ممکن ہوسکے۔آپ سے گذارش ہے کہ ان احکامات کو غور سے دیکھیں ، ان کے بارے میں اپنے علم میں اضافہ کریں اور پھر ان پر بھرپور عمل کرنے کی کوشش کریں کیونکہ یہی علم و عمل کی کاوش آخرت میں ہمیں سرخرو کرنے میں معاون ہوسکتی ہے جبکہ ایسا کرنے میں ناکامی کا انجام خد ا کی ناراضگی ہے جس کا متحمل ہم میں سے کوئی بھی نہیں ہوسکتا۔
پروفیسر محمد عقیل

کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نیچے کلک کریں

https://drive.google.com/open?id=0B6YkBK5vWD-tZHl1Z3dhWWZkMTA


فحاشی اور اس کی اشاعت

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Sunday Mar 1, 2015

پہلا حصہ: فحاشی کی نوعیت
اللہ تعالی نے مرد اور عورت کے رشتے میں ایک عمومی حرمت قائم کی ہے یعنی عورت اور مرد کے آزادانہ جنسی اختلاط پر پابندی لگائی ہے۔ اس پابندی کے دو مقاصد ہیں ۔ ایک تو یہ کہ ایک ایسی سوسائیٹی قائم ہو جس کی بنیاد آزادانہ جنسی تعلق کی بجائے نکاح کے اصول پر ہو تاکہ ایک مضبوط خاندانی نظام کو فروغ دیا جاسکے۔ اس پابندی کا دوسرا مقصد انسان کو آزمانا ہے کہ کون اپنے نفس کے منہ زور تقاضوں کو لگام دے کر خدا کی اطاعت و بندگی اختیار کرتا ہے اور کون اپنے نفس کو آلودہ کرکے اللہ کی پڑھنا جاری رکھیں »


نامناسب القاب سے منسوب کرنا

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Wednesday Sep 4, 2013


نامناسب القاب سے منسوب کرنا
(تحقیق و تحریر: پروفیسر محمد عقیل)
کسی کی تحقیر کرنے اور اذیت پہنچانے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ اسے ایسے لقب سے منسوب کیا جائے جس سے اسے تکلیف یا اذیت پہنچے۔ مثال کے طور پر کسی کو لنگڑا یا لولا کہہ کر اسے دکھ پہنچایا جائے۔ اس روئیے سے تعلقات متاثر ہوتے اور تلخی پیدا ہوجاتی ہے۔ اگر مخاطب کمزور ہو تو نتیجہ اس کی دل آزاری اور نفسیاتی اذیت کی صورت میں برآمد ہوتا ہے۔ دوسری جانب اگر مخاطب طاقتور ہو تو وہ بھی اسی قسم کے القابات سے بولنے والے کو نوازتا ہے اور بات لڑائی جھگڑے تک پہنچ جاتی ہے۔ اسی بنا پر مہذب معاشروں میں اس قسم کا رویہ قابل مذمت ہوتا ہے۔ اس اخلاقی قباحت کی بنا پر اس روئیے کی قرآن و حدیث میں سختی سے مذمت کی گئی ہے۔جیسا کہ سور ہ الحجرات میں بیان ہوتا ہے:
“اور نہ(ایک دوسرے کو) برے القاب سے پکارو۔ ایمان کے بعد گناہ کا نام لگنا برا ہے۔اور جو توبہ نہ کریں تو وہی ظالم لوگ ہیں”۔(الحجرات۔۴۹:۱۱)
اس آیت میں واضح طور پر اس روئیے کو برا سمجھا گیا اور اس کی مذمت کی گئی ہے اور جو لوگ اس سے باز نہ آئیں انہیں ظالموں کی صف میں شامل کیا گیا ہے۔
برے القاب سے کسی کو پکارنا درحقیقت ایک اذیت دینے کا عمل ہے اور اذیت دینے کی احادیث میں سختی سے ممانعت کی گئی ہے۔ جیسا کہ اس حدیث میں بیان ہوتا ہے:
“مسلمان کو اذیت نہ دو انہیں عار نہ دلاؤ اور ان میں عیوب مت تلاش کرو۔ کیونکہ جو شخص اپنے کسی مسلمان بھائی کی عیب جوئی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی عیب گیری کرتا ہےاور جس کی عیب گیری اللہ تعالیٰ کرنے لگے وہ ذلیل ہو جائے گا۔ اگرچہ وہ اپنے گھر کے اندر ہی کیوں نہ ہو۔( جامع ترمذی:جلد اول:حدیث نمبر 2121 )
اسی طرح ایک اور جگہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان ایذا نہ پائیں۔(صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 9 )
برے القابات سے پکارنا بدگوئی کا ایک پہلو ہے جس کے بارے میں حدیث میں بیان ہوتا ہے ۔”جو شخص اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اس کو چاہئے کہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے”۔( صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 977 )
برے ناموں سے منسوب کرنا درحقیقت مسلمان کی عزت کی اس قدر حرمت ہے کہ جو کوئی اس حرمت کو نقصان پہنچائے ، اس کی نمازیں تک قبول نہیں ہوتیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے۔
“جو کوئی کسی مسلمان کی آبروریزی کرتا ہے تو اس پر اللہ فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہوتی ہے اس کی نفل اور فرض عبادت قبول نہیں ہوتی”۔( صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 440 )
نامناسب القاب سے منسوب کرنے کا مفہوم
برے القاب سے منسوب کرنے کا مفہوم یہ ہے کہ کسی متعین شخص کو ایذا پہنچانے کی نیت سے کوئی لقب دینا یا کسی ایسےلقب سے منسوب کرنا جس سے مخاطب کو ناحق تکلیف پہنچے یا کوئی ایسا نام یا لقب استعمال کرنا جو اپنی نوعیت کے اعتبار سے غیر اخلاقی ہو ۔
شرائط
برےلقب سے موسوم کرنے کے لئے درج ذیل میں سے کسی ایک شرط کا پورا ہونا لازمی ہے۔
۱۔ لقب کو کسی شخص کو اذیت دینے کی نیت سے موسوم کرنا یا
۲۔ کسی کو اس لقب سے ناحق اذیت ہو یا
۳۔لقب اپنی نوعیت کے اعتبار سے غیر موزوں ہو۔
وضاحت:
کسی نام سے منسوب کرنے کی تین شرائط میں سے کوئی ایک بھی پوری ہوجائے تو یہ گناہ سرزد ہوجائے گا۔ پہلی شرط یہ ہے کہ کسی کو نام سے منسوب کیا جائے اور اس کا مقصد اس شخص کی تحقیر وتذلیل کرکے اس کو اذیت دینا ہو۔ مثال کے طور پر زاہد نے فرحان کو اس کی پستہ قامتی کا احساس دلانے کے لئے اور اسے اذیت پہنچانے کے لئے جملہ کہا” اور بونے صاحب ! کہاں چل دئیے”۔ یہاں بونے صاحب کہنے کا مقصد چونکہ ایذا رسانی اور تنگ کرنا ہے اس لئے یہ برے لقب سے منسوب کرنے کا عمل ہے۔
دوسر ی شرط یہ ہے کہ لقب سے کسی کو ناحق اذیت پہنچے۔ یعنی کہنے والے کی نیت تو اذیت پہنچانے کی نہیں تھی لیکن سننے والے کو یہ لقب جائز طور پر برا لگا۔ مثلا الیاس نےغفار سے کہا ” اور ملا جی ! کہاں غائب تھے اتنے دنوں سے؟” الیاس کا مقصد ایذا پہنچانا نہیں تھا لیکن غفار کو ملا کے نام منسوب ہونا برا لگا تو یہ بھی ممنوع ہے۔
تیسری شرط یہ ہے لقب اپنی نوعیت کے اعتبار سے غیر موزو ں اور غیر اخلاقی ہو۔ مثال کے طور پر سلمان نے عزیر سے بے تکلفی میں کہا” او کمینے! بات تو مکمل کرنے دے، پھر اپنی کہنا”۔ یہ سن کر عزیر ہنسنے لگا۔ یہاں سلمان نے بے تکلفی میں جملہ کہا اور عزیر نے بھی مائنڈ نہ کیا یعنی اوپر بیان کی گئی دونوں شرائط پوری نہیں ہورہی ہیں لیکن کمینہ کہنا ایک غیر اخلاقی لقب ہے جس سے احتراز لازمی ہے۔
استثنیٰ
ہر سوسائٹی میں عرفیت کا رواج ہوتا ہے یا پھر لوگوں کو اس کی کسی علامت کی بنا پر مشہور کردیا جاتا ہے جیسے کسی کو لنگڑا، چھوٹو ، موٹو، کانا، چندا، کلو، لمبو وغیرہ کہنا یا پپو، گڈو، منا،چنا، بے بی، گڈی، گڑیا،چنی وغیرہ کے نام سے منسوب کرنا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ لوگوں کو ان ناموں سے منسوب کرنا کیسا ہے؟
اگر ان ناموں میں کوئی اخلاقی و شرعی قباحت نہیں اور ان میں ایذا کا کوئی پہلو موجود نہیں تو اس طرح مخاطب کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ لیکن عام طور پر یہ دیکھا یہ گیا ہے کہ ایسے افراد جب بچپن کی حدود سے نکلتے اور پختگی کی جانب مائل ہوتے ہیں تو انہیں ان ناموں سے مخاطب ہونا اچھا نہیں لگتا۔خاص طور پر ایسےافراد اجنبی لوگوں کے سامنے ان ناموں کو پسند نہیں کرتے جو ان کی عرفیت سے ناواقف ہوتے ہیں۔ چنانچہ اس صورت میں انہیں ان کے اصل نام ہی سے پکارنے میں عافیت ہے بلکہ اصل نام سے مخاطب کرنے میں اس قسم کے لوگ بالعموم بڑی عزت محسوس کرتے ہیں۔
دوسری جانب کچھ القاب ایسے ہوتے ہیں جو کسی شخص کو عزت دینے، اس کا رتبہ بڑھانے یا بیان کرنے یا اسے عزت و توقیر کے لئے دئیے جاتے ہیں۔ جیسے فاروق، صدیق، غنی، قائد اعظم ،علامہ وغیر۔ ان میں کسی قسم کا کوئی حرج نہیں۔
القاب کی اقسام
عام طور پر ہمارے معاشرے میں درج ذیل بنیادوں پر القاب استعمال ہوتے ہیں۔
۱۔ جسمانی بنیادوں پر القاب جیسے چھوٹو، موٹو، ٹھنگو، لمبو، کلو، چٹا، منا، کبڑا، لنگڑا، ٹنٹا ، اندھا، کانا وغیر کہنا۔
۲۔ مذہبی حوالے سے القابات جن میں منافق، فاسق، کافر، بنیاد پرست، یہودی، نصرانی، مشرک ، بدعتی ، وہابی وغیرہ شامل ہیں۔
۳۔قومیت کی بناد پر القاب میں پناہ گیر، مکڑ، پینڈو ، چوپایا ، اخروٹ ، ڈھگا، بھا ئو غیرہ مشہور ہیں۔
۴۔ جنسی بے راہروی کی نشاندہی کرنے والے ناموں میں حرافہ، بدذات، طوائف، کال گرل، لونڈا، ہیجڑا، زنخا وغیرہ ہی قابل تحریر ہیں۔ اس ضمن میں ایک بات یہ جملہ معترضہ کے طور پر یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ کچھ الفاظ کے معنی زمانے کے لحاظ سے بدل جاتے ہیں ۔ اس صورت میں اعتبار زمانی معنوں ہی کا ہوگا۔ مثال کے طور پر بھڑوا درحقیقت مڈل مین کو کہتے ہیں جو کرایہ وصول کرتا ہے۔ یہ لفظ شاید اپنی ابتدا میں اتنا معیوب نہ تھا لیکن آج یہ معیوب سمجھا جاتا ہے چنانچہ اس لفظ کے استعمال کا فیصلہ آج کے معنوں کے لحاظ سے ہوگا۔
۵۔ کسی برے عمل سے منسوب کرنا جیسے شرابی، زانی، قاتل، لٹیرا، دہشت گرد،چور وغیرہ
۶۔ کسی جانور سے منسوب کرنا جیسے کتا، گدھا، سور، الو، لومڑی ، بھیڑیا وغیرہ کہنا
۷۔ کسی غیر مرئی مخلوق سے منسلک کرنا جیسے شیطان ، چڑیل، بھوت، جن، بدروح وغیرہ کہنا
۸۔ کسی برے روئیے سے منسوب کرنا جیسے مغرور، بدخصلت، لالچی، بخیل، ذلیل، چمچہ، کنجوس،خودغرض ، فضول خرچ، عیاش وغیرہ کہنا۔
۹۔عمر کی بنیاد پر القاب بنانا جیسے کسی کو انکل ، آنٹی، چچا، ماموں، ابا ، اماں ، باجی وغیرہ کہنا۔ خاص طور پر خواتین اس معاملے میں زیادہ حساس ہوتی ہیں ۔ چنانچہ لوگوں مخاطب کرتے وقت ایسے القاب سے گریز کیا جائے جو ان کی عمر کی زیادتی کی علامت ہوں اور وہ اس سے چڑتے ہوں۔
۱۰۔ کسی کی چڑ بنالینا اور وقتا فوقتا اس چڑ سے اسے تنگ کرنا
۱۱۔ پیشے کی بنیاد پر القاب سے نوازناجیسے کسی کوموچی ،بھنگی، ڈنگر ڈاکٹر، ماسٹر،ہاری وغیرہ کہنا۔
اسباب و تدارک
چونکہ برے القاب سے منسوب کرنا بدگوئی کی ایک قسم ہے اس لئے اس فعل کے اسبا ب و تدارک جاننے کے لئے بدگوئی میں بیان کی گئی تحریر کا مطالعہ کرلیں۔
اسائنمنٹ
صحیح یا غلط بیان کریں:
۱۔ کسی کو عرف یعنی نک نیم سے پکارنا بالکل جائز نہیں۔
۲۔ برے لقب سے پکارنے کا گناہ سرزد ہونے کے لئے اوپر بیان کی گئی تینوں شرائط کا بیک وقت پورا ہونا لازمی ہے۔
۳۔برے لقب سے مخاطب کرنے کا مقصد کسی کی عزت افزائی ہوتا ہے۔
۴۔ اگر نیت ایذا دینےکی نہ ہو اور سننے والے کو بھی لقب برا نہ لگے تو اس صورت میں کسی بھی لقب سے بلانا جائز ہے۔
۵۔ ابو داؤد کی حدیث کے الفاظ ہیں” مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان ایذا نہ پائیں”۔(صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 9)
۶۔ایک شخص بہت کالا ہے اور کلو کے لقب سے مشہور ہے۔ اسے کوئی شخص طنز و تحقیر کی نیت سے مخاطب کرتا ہے ” ابے او کلو! ذرا ادھر تو آ”۔ اس طرح کلو کہنا برے لقب سے مخاطب کرنا ہے کیونکہ مقصد تحقیر ہے۔
۷۔نگہت نے رضیہ کی چالاکی کو بیان کرنے کے لئے اسے لومڑی کہا۔ یہ برے نام سے منسوب کرنے کا عمل ہے۔
۸۔ غزالہ نے اپنی کزن فرحانہ کے حسن کی تعریف کرتے ہوئے کہا ” بھئی آج تو تم چاند لگ رہی ہو”۔ فرحانہ سمجھی کہ غزالہ نے چاند کہہ کر اس کا مذاق اڑایا ہے اور وہ برا مان گئی۔ غزالہ کا چاند سے موسوم کرنا برے القاب سے پکارنے میں نہیں آتا کیونکہ نہ تو غزالہ کی نیت تحقیر کی تھی ، نہ چاند کہنے میں کوئی برائی ہے ۔ جبکہ فرحانہ کا برا ماننا ناحق ہے اورغلط فہمی کی وجہ سے ہے۔
۹۔ ذیشان نے مسلکی فرق کی بنا پر اپنے پڑوسی کو اس کی غیر موجودگی میں غلط طور پر “کافر ” کہہ دیا۔ یہ کلام غیبت بھی ہے اور اس میں برے لقب سے منسوب کرنے کا گناہ بھی شامل ہے۔
۱۰۔ اسکول میں بچوں نے ایک موٹے عینک والی بچی کو” پروفیسر ” کے لقب سے موسوم کردیا جس سے وہ بچی چڑتی تھی۔ بچی کو پروفیسر کہنا غلط لقب سے موسوم کرنے کے مترادف نہیں ہے۔


غیبت ۔ ایک تربیتی مضمون

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Saturday May 4, 2013


غیبت ۔ ایک تربیتی مضمون
(تحریر: پروفیسر محمد عقیل)
غیبت کبیرہ گناہوں میں ایک بڑا گناہ ہے ۔ دیگر بڑے گناہوں کے برخلاف یہ گناہ بہت عام ہے اور اس میں ہر دوسرا مسلمان ملوث نظر آتا ہے۔دوسری جانب قرآن و حدیث میں غیبت کی بڑے واشگاف الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔ کہیں اس عمل کو مردہ بھائی کا گوشت کھانے کے مترادف قرار دیا گیا ہے پڑھنا جاری رکھیں »


تعطیلات میں بچوں کی تربیت

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Friday Jul 6, 2012


آج کے عدیم الفرصت دور میں اگر خوش قسمتی سے فرصت کے کچھ لمحات میسر آ جائیں اور اہلِ خانہ مل جل کر کچھ وقت گزار سکیں تو بلاشبہ یہ اللہ تعالیٰ کی کسی نعمت سے کم نہیں۔ اسی بات کی اہمیت کے پیش نظر نبی کریمﷺ نے فرمایا: ’’مصروفیت سے پہلے فرصت کوغنیمت جانو۔‘‘ ﴿المستدرک للحاکم: 7846﴾ پڑھنا جاری رکھیں »


بچوں کی دینی تعلیم

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Sunday May 13, 2012


“تمہارے بچے کس اسکول میں پڑھتے ہیں؟”۔اس نے اپنے دوست سے سوال کیا۔
“سٹی اسکول میں پڑھتے ہیں۔ بھئی آج کل کے بچے بہت مصروف ہوتے ہیں۔ صبح اسکول، شام میں ٹیوشن اور رات میں ہوم ورک ۔ بے چاروں کو کھیلنے کودنے کے لئے بھی وقت نہیں ملتا”۔دوست نے جواب دیا۔
“یہ سب تو ٹھیک ہے لیکن بچوں کی دینی تعلیم کے لئے تم کیا کرتے ہو؟” اس نے ایک سوال اور داغ دیا۔
“ہاں ایک مولوی صاحب پڑھنا جاری رکھیں »


’بچوں کی تربیت – بزرگ والدین کا کردار

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Friday Apr 27, 2012

بچوں کی تربیت کے حوالےسے جب بات ہوتی ہے تو عموماً والدین پر آ کر ختم ہو جاتی ہے، جب کہ ان کی تربیت میں دوسرے رشتے داروں کا بھی کچھ نہ کچھ حصہ ہوتا ہے۔ یہ حصہ یہ رشتہ دار غیر شعوری طور پر ادا کرتے ہیں۔ دادا دادی اور نانا نانی کا اپنا ایک کردار ہوتا ہے۔ انہیں ہم بزرگ والدین کہہ سکتے ہیں۔ یہ تربیت میں اپنے حالات کے لحاظ سے کچھ نہ کچھ کردار ضرور ادا کرتے ہیں، لیکن اس کی ضرورت ہے کہ یہ کردار شعوری طور پر ادا کیاجائے اور بزرگ والدین پڑھنا جاری رکھیں »


حسد – ایک تفصیلی مطالعہ

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Thursday Nov 17, 2011


اس مضمون کے مطالعے بعد آپ جان لیں گے کہ
۱۔کس فعل کو حسدکہتے ہیں اور کونسا عمل حسد نہیں ہے؟۔
۲۔ حسد اور رشک میں کیا فرق ہے؟
۳۔حسد کن وجوہات کی بنا پر ہوتا ہے؟
۴۔ حسد سے کس طرح بچا جاسکتا ہے؟
قرآن کی آیت:
اور(میں پناہ مانگتا ہوں رب کی) حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرے۔( الفلق ۵:۱۱۳)
احادیث:۱
۔حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔۔۔۔”مجھے اس کا ڈر بالکل نہیں ہے کہ تم میرے بعد مشرک ہو جاؤ گے البتہ میں اس بات کا اندیشہ کرتا ہوں کہ تم آپس میں ایک دوسرے سے دنیا کے مزوں میں پڑ کر حسد نہ کرنے لگو ۔( صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 1218) پڑھنا جاری رکھیں »


بچوں کی تربیت پر مکمل گائیڈ از بشرٰی تسنیم

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Sunday Sep 18, 2011


گود سے کے کر جوانی تک مختلف عمر کے بچوں کی تربیت پر ایک مکمل مضمون جو ہر ذمہ دار والد اور والدہ کے لئے پڑھنا ضروری ہے۔”
(مصنفہ: بشری تسنیم، بشکریہ www.quranurdu.com )
پہلا حصہ :تخلیق(حمل) کے عمل کے دوران والدین کا رویہ
عورت کے لئے بچے کی پیدائش سے پہلے کا زمانہ ایک سخت تکلیف دہ مرحلہ ہوتا ہے۔ وہ مختلف ذہنی، نفسیاتی اور جسمانی تبدیلیوں سے گزرتی ہے۔ ہر بچہ اللہ تعالی کی طرف سے انسانیت کے لئے ایک پیغام ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ کون سا بچہ والدین کے پڑھنا جاری رکھیں »