پروفیسرڈاکٹر محمد عقیل |

مسلمانوں کے ایمان اور اخلاق میں کمزوریوں کی جدید اندازمیں نشاندہی کرنااور اصلاح کے لئے سائنٹفک طرز پر حل تجویز کرنا اس سائٹ کے مقاصد ہیں۔۔۔۔۔۔۔قد افلح من زکھا۔

روحانیت کا تعارف

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Sunday May 29, 2016

روحانیت کا تعارف

از پروفیسر محمد عقیل

۱۔ اسلام میں روحانیت سے کیا مراد ہے؟

جواب: قرآن میں لفظ “روح” دو معنی میں استعمال ہوا ہے۔  ایک مفہوم میں “روح  “جبریل امین کے لیے استعمال ہوا ہے۔ اس تحریر میں اس روح پر بات نہیں کی جارہی جس سے مراد جبریل امین ہیں۔ دوسری جانب روح کے لغوی معنی پھونک ، راحت ، سکون اور قرار کے ہیں۔  یہیں سے  یہ لفظ روحانیت نکلا ہے یعنی  وہ عمل جس سے سکون حاصل کیا جائے۔ قرآن میں  سورہ الحجر (آیت ۲۹) اور سورہ  ص (آیت ۷۲)میں پھونک والے مفہوم کا ذکر ان الفاظ میں بیان ہوا ہے:

فَاِذَا سَوَّيْتُهٗ وَنَفَخْتُ فِيْهِ مِنْ رُّوْحِيْ فَقَعُوْا لَهٗ سٰجِدِيْنَ    29؀

ترجمہ: تو جب میں اسے درست کر چکوں اور اس میں اپنی روح (پھونک )پھونک دوں تو تم اس کے سامنے سجدہ ریز ہوجانا۔

وضاحت : اس آیت میں فرشتوں سے خطاب جاری ہے۔ اور کہا جارہا ہے کہ  جب میں کھنکھناتی مٹی سے ایک بشر پیدا کرنے لگا ہوں ۔ جب میں اس کی نوک پلک درست کرکے اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم اسی وقت اس کے سامنے سجدہ میں گر پڑنا”۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس روح سے کیا مراد ہے؟ اس پر علما نے  بہت کلام کیا اور روح کی ماہیت کو طے کرنے کی کوشش کی ہے۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ یہ Divine Spark یا نور یزدانی ہے جس سے انسان اور حیوان میں تمیز پیدا ہوتی ہے، کچھ نے کہا کہ یہ خدا کی صفات کا پرتو یعنی عکس ہے ۔ یعنی خدا نے اپنی روح پھونک کر انسان میں اپنی صفات منتقل کیں۔ کچھ نے روح سے مراد صرف زندگی کی انرجی لیا۔ دوسری طرف کچھ  صوفیا نے یہیں سے  اپنے نظریات اخذ کیے کہ روح پھونک کر خدا انسان میں حلول کرگیا یا انسان اور  خدا ایک ہی ہیں  اور یہاں سے وحدت الوجود کی بنیادیں تلاش کی گئیں۔

روح کی  اصل حقیقت تو اللہ ہی بہتر جانتے ہیں لیکن چند چیزیں ہم  منطقی طور پر قرآن سے اخذ کرسکتے ہیں۔پہلی بات یہ کہ روح جو کچھ بھی ہے اس کے بنا انسان نامکمل ہے اسی لیے سجدے کا حکم اس وقت آیا جب روح پھونک دی گئی ، اس سے پہلے نہیں۔ دوسرا یہ  اس سے قبل اللہ  نے انسان کا جسم  کھنکناتی مٹی اور گارے بنالیا تھا ۔ مٹی مادے کی علامت ہے ۔ جبکہ روح کی جانب اللہ نے اپنی طرف نسبت کی کہ جب میں اپنی روح یا پھونک پھونک دوں  تو سجدے میں گر جانا۔ اسی لیے روح سے مراد لطافت اور مادے کی ضد   کےلیے جاتے ہیں۔ یعنی مادیت سے مراد مادی  عناصر اور روح  سے مراد  غیر مادی عناصر ہیں۔آخری بات یہ کہ روح وہ عنصر ہے جس سے زندگی کا آغاز ہوتا اور اس کے نکل جانے سے زندگی کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔

اوپر کی بحث سے اندازہ ہوگیا کہ روح کے   لغوی معنی پھونک اور اصطلاحی معنی سکون ، راحت، لطافت کے بنتے ہیں۔یہ  روح خدا کی قربت کی علامت ہے کیونکہ اسے خدا نے اپنی جانب براہ راست نسبت دی ہے۔ گوکہ ہم نسبت کی نوعیت نہیں جانتے لیکن اتنا ضرور جانتے ہیں کہ خدا نے اپنی روح (پھونک) انسان میں پھونکی۔ اس کو سمجھنے کے لیے اگر ہم ” دم ” کو لے  لیں  تو بات کچھ واضح ہوجائے گی۔ جس طرح ہمارے ہاں بچے پر دم کیا جاتا ہے تو پھونک ماری جاتی ہے۔ یہ دم کرنا دراصل اپنی جانب سےایک خاص  روحانی تاثیر کو اس بچے میں منتقل کرنا ہوتا ہے۔ خدا کے پھونک پھونکنے کی حقیقت تو اللہ ہی بہتر جانتے ہیں البتہ ہم دم کرنے کی مثال سے کسی حد اس عمل کو سمجھ سکتے اور اس کے مقاصد جان سکتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ اس پھونک یا روح کی ضرورت کیو ں پیدا ہوئی جبکہ انسان کا ایک ظاہری اور مادی وجود موجود تھا۔ اس پھونک یا روح کا جو مطلب سمجھ آتا ہے وہ یہ ہے جس طرح اللہ نے اپنے ہاتھوں سے انسان کا ظاہری وجود مادے سے تخلیق کیا ، اسی طرح اپنی پھونک یا روح کے ذریعے انسان کا ایک باطنی وجود بھی تخلیق کردیا۔ اس کا فنکشن  اس کے مادی وجود سے مختلف تھا ۔ اس کا کام غیر مادی امور کو طے کرنا تھا۔ مادی اور روحانی وجود میں ایک اور فرق یہ ہے کہ مادی وجود مادی دنیا (یعنی عالم ناسوت)اور غیر مادی وجود یعنی روح غیر مادی دنیا  (عالم لاہوت )کے لیے مخصوص ہے۔ واضح رہے کہ لاہوت غیر مادی عالم کے لیے بولا جاتا ہے جس میں فرشتے، عرش ، لوح محفوظ اور امور تکوینی سب شامل ہیں۔

اگر ہم اپنے مادی وجود پر غور کریں تو یہ ہاتھ پاؤں چہرہ جسم ، دل گردے پھیپڑے اور دیگر اعضا پر مبنی ہے جن کا اپنا اپنا کام ہے۔ باطنی وجود  کو دیکھیں تو ایک الگ دنیا انسان کے اندر موجود ہے۔ یہاں جذبات ، احساسات، خوشی ، غمی، بے چینی ، سکون اور اس طرح کی دیگر کیفیا ت ہیں جنہیں ہم محسوس کرسکتے اور ان کا اظہار کرسکتے ہیں لیکن کسی کو دکھا نہیں سکتے۔

باطنی وجود کے اعضاء کا تعین اگر ہم مادی طور پر ہاتھ پاؤں اور چہرے وغیرہ کی طرح کرنا چاہیں تو ناکام ہوجاتے ہیں۔ اسی لیے باطنی کیفیات کے لیے  قرآن کو اصطلاح استعمال کرتا ہے وہ بھی ظاہری اعضاء سے مستعار لی ہوئی ہے ۔ جیسے قرآن نے بار بار باطنی کیفیات کا مرکز قلب یعنی دل کو ٹہرایا ہے ۔  چنانچہ قرآن جگہ جگہ اس باطنی وجود کو بیان کرتے ہوئے    مختلف باتیں بتاتا ہے جیسے اللہ کے ذکر سے دلوں کو سکون ملتا ہے،  ان کے دل ٹیڑھے ہوگئے، دلوں کو زنگ لگ گیا، دل اندھے ہوتے ہیں، دلوں پر مہر لگ جاتی ہے وغیرہ۔کبھی اسی باطنی وجود کے ایک مظہر یعنی تعقل کو بیان کرنے کے لیے قرآن یہ بیان کرتا ہے کہ جو لوگ عقل سے کام نہیں لیتے وہ بدترین جانور ہیں۔ اسی طرح  باطنی وجود کے سننے اور سمجھنے کو سماعت، بصارت سے تعبیر کرتا ہے۔ غور کریں تو عقل بھی نظر نہیں آتی ہے۔باطنی وجود کے چند مظاہر کو قرآن ایمان، یقین، خشوع، خضوع، انابت، اخبات وغیرہ سے تعبیر کرتا ہے۔

اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ جس طرح انسان کا ظاہری وجود ہے اسی طرح باطنی وجود بھی ہے۔ باطنی وجود کو صرف محسوس کیا جاتاہے ، انہیں دیکھا یا چھوا نہیں جاسکتا اس کے باوجود یہ ایک مستقل حیثیت رکھتا ہے۔ یہ وہی باطنی وجود ہے جو اللہ نے اپنی روح کے ذریعے یعنی پھونک کے ذریعے انسان میں پیدا کردیا۔ اب انسان دو عناصر کا مجموعہ بن گیا ایک مادی عنصر اور دوسرا غیر مادی یا روحانی  عنصر۔ مادی وجود کو خدا نے کھنکناتی ہوئی مٹی سے تخلیق  کیا اور غیر مادی وجود کو روح سے۔انسانی نفس دراصل مکمل  شخصیت کا نام ہے جو اسی ظاہری و باطنی یا مادی و غیر مادی وجود وں کا مجموعہ ہے۔

یہاں  یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ  جس طرح ظاہری وجود کا مذہب سے  براہ راست تعلق نہیں ایسے ہی باطنی وجود کا بھی مذہب سے براہ راست کوئی تعلق نہیں۔ جس طرح فزکس یا بائلوجی کے قوانین ایک عیسائی ، ہندو، یہودی ، ملحد سب کے لیے برابر ہیں اسی طرح روحانیت یا نفسی علوم کے  معاملات بھی ایک بدھ مت، جین مت یا ملحد و مسلمان سب کے لیے برابر ہیں۔ جس طرح ایک  ایک ہندو  اور مسلمان دونوں کے ہاتھ پاؤں ناک کان ہوتے ہیں اسی طرح ان کے احساسات و جذبات کامن ہوتے ہیں۔ جس طرح ظاہری وجود کو استعمال کرنے کے قوانین مذہب سے ماوارا ہیں اسی طرح باطنی  وجود کو استعمال کرنے کے قوانین بھی یونیورسل ہیں۔ مذہب ان اصولوں کا  درست استعمال سکھاتا ہے ۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ “روحانیت ” سے کیا مراد ہے؟  یہ سمجھنے کے لیے ہمیں روحانیت کے تین پہلووں کو الگ الگ سمجھنا ہوگا۔ روحانیت کا پہلا پہلو  اپنی ذات کی معرفت ، دوسرا پہلو خارج یا خدا کی معرفت اور تیسرا پہلو اس معرفت کے  نتائج کو عملی شکل میں ڈھال کر شخصیت کی  تعمیر کرنا  ہے۔ابتدائی دو پہلو علمی اور تیسرا پہلو عملی ہے۔

پہلا پہلو اپنی ذات کو پہچاننا  یا اپنی ذات کی معرفت ہے۔یہاں  روحانیت اپنے باطنی وجود سے رجوع کرنے کا نام ہے، یہ اسے جاننے، اسے سمجھنے، اسے قابو کرنے اور درست طور استعمال کرنے کا نام ہے۔یہاں ایک انسان اپنے جذبات ، احساسات، شہوات، رغبات ، رحجانات ،اپنی شخصی کمزرویاں اور اپنی اچھائیاں جاننے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ جتنا جانتا چلا جاتا ہے اتنا ہی معرفت حاصل کرتا جاتا ہے۔

روحانیت کا ایک پہلو تو اوپر بیان کیا کہ اپنی باطنی شخصیت سے تعلق پیدا  اور انفس میں مراقبہ کرنا ہے۔ اس کا  دوسرا بنیادی مقصد آفاق یعنی خارج کی معرفت ہے۔ یعنی روحانیت کا دوسر ا مقصد خدا  اور کائنات کی معرفت ہے۔یہ معرفت مختلف مذاہب میں مختلف انداز میں  پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اگر ہم اسلام میں دیکھیں تو خدا سےاس تعلق کو سب سے پہلے اس پر ایمان و یقین کے ذریعے پیدا کیا گیا ہے ۔ یعنی خدا کو مانے بنا  اسلام میں کوئی داخل ہی نہیں ہوتا۔ اس کے بعد خدا  اور بندوں کے درمیان ایک دوسرے اہم تعلق یعنی  فرشتوں   پر ایمان کے ذریعے اس کمیونکیشن چین جو جوڑا گیا جو خدا اور بندے کے درمیان مسنگ تھی۔ یعنی ایسا نہیں ہوا کہ انسان براہ راست خدا سے وحی لے ، اکثر پیغمبروں سے فرشتوں کے ذریعے ہی خدا نے رابطہ کیا ہے۔ خدا ور فرشتے غیب میں ہیں یعنی ہم انہیں دیکھ نہیں سکتے۔اسے ہم عالم بالا کہہ سکتے ہیں۔ اس کے بعد پیغمبروں  اور کتابوں   پر ایمان لانے کو کہا گیا۔ ان پیغمبروں یا کتابوں کا چونکہ مادی وجود ہے اس لیے ہم انہیں عالم زیریں کہہ سکتے ہیں۔اور اس عالم کا رابطہ عالم لاہوت سے ہوتا ہے۔

روحانیت کا تیسرا اور آخر پہلو شخصیت کی تعمیر ہے۔ جب انسان نے اپنے باطنی وجود کو جان لیا، اس نے خدا کی مطلوبہ معرفت بھی حاصل کرلی  اور زندگی کا مقصد واضح کرلیا تو اب ایک ایسی شخصیت کو تعمیر کرنا ہے جو ان کثافتوں سے پاک ہو جو اسے  رب کی بارگاہ میں نامقبول بنادیں۔چنانچہ اس کے لیے عبادات و اخلاقیات  کا ایک سلسلہ شروع ہوتا ہے جس مِیں علم و عمل ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ عبادات میں  نماز، روزہ ، زکوٰۃ و حج کے ذریعے  شخصیت کو خدا کی جانب جوڑا جاتا ہے تو دوسری جانب اخلاقیات کے  مخلوق سے اچھے تعلق کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔ یہاں ہم دیکھیں تو صرف ظاہری وجود ہی اللہ سے تعلق میں شامل نہیں بلکہ باطنی وجود نہ صرف شامل ہے بلکہ اصل تحریک بھی وہیں سے اٹھتی ہے۔

تو اگر ہم روحانیت کی تعریف کریں تو یوں بنتی ہے :

روحانیت سے مراد اپنی ظاہری اور باطنی اصل شخصیت کو جاننا، اپنے خالق کی معرفت حاصل کرنا اور اس علم کی بنیاد پر شخصیت   کا تزکیہ کرنا ہے۔

روحانیت = ذاتی معرفت+خارجی معرفت+تعمیر شخصیت

۲۔ کیا روحانیت کے حصول کے لیے تصوف اختیار کرنا لازمی ہے؟

جواب : روحانیت کو  اختیار کرنے کے جیسا کہ اوپر بیان کیا کہ تین اہم پہلو ہیں۔ ایک پہلو اپنی ذات کی معرفت اور اس کا کنٹرول حاصل  کرنے کا عمل ہے۔ اس  باطنی وجود سے رابطے کا تعلق ایک تکنیکی معاملہ ہے اور اس  میں  کسی مذہب کی کی مدد بھی لی جاسکتی ہے اور اس کے بغیر بھی یہ رابطہ کیا جاسکتا ہے۔  اس رابطے کا ایک پہلا طریقہ غور و فکر ہے۔ یہ غورو فکر اورتعقل کے ذریعے کیا جاسکتا ہے۔اس میں نفسانی علوم آجاتے ہیں جیسے علوم نفسیات  وغیرہ۔یہ طریقہ عام انسان استعمال کرتے ہیں لیکن اس کی اپنی محدودیت ہے۔ اس   کا دوسرا طریقہ وحی سے مدد لینا ہے  کہ وحی نے کس طرح انسان کے داخلی وجود کو بیان کیا ہے۔ یہ بہت مستند ذریعہ ہے لیکن  وحی میں بالعموم جنرل باتیں ڈسکس ہوتی ہیں ۔ یہ کسی فرد کی داخلی شخصیت کے متعلق متعین طور پر نہیں بیان کرسکتی کہ اس کی داخلی شخصیت کا یہ پہلو ہے۔ اس کاایک اور طریقہ وجدان اور نفسانی معاملات  کے ذریعے اپنی  اندر ونی شخصیت کو جاننا ہے۔ مراقبے کے ذریعے ایک فرد  عمومی نہیں بلکہ خصوصی باتیں بھی جان سکتا ہے کہ اس کی باطنی شخصیت اصل میں ہے کیا۔ لیکن اس طریقہ کی محدودیت یہ ہے کہ ایک تو ہر انسان کے وجدان کی پرواز مختلف ہوتی ہے اور دوسرا یہ کہ اس  طریقہ کا ر میں زیادہ تر باتیں خواب اور تمثیل کی صورت میں ہوتی ہیں۔ انہیں سمجھنے کے لیے کسی نہ کسی راہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔

روحانیت کا دوسرا پہلو خدا اور بندے کے روحانی تعلق کو بیان کرتا ہے۔ یہ پہلو ہر صورت میں مذہب کا محتاج ہے۔ ہر مذہب خدا کی کوئی نہ کوئی معرفت بیا ن کرتا ہے ۔ اس معرفت کے صحیح ہونے میں دو چیزیں اہم ہیں۔ایک تو وہ مذہب جو یہ تعلیمات بیان کررہا ہے ۔ اگر مذہب کی تعلیمات مستند نہیں تو حاصل  ہونے والی معرفت بھی ناقص ہوگی۔ دوسرا پہلو اس مذہب کی تعلیمات کو سمجھنا ہے۔ اگر کسی نے یہ تعلیمات غلط سمجھیں تو معرفت کا حصول بھی غلط ہوگا۔

روحانیت کا تیسرا پہلو ذاتی معرفت اور خدائی معرفت سے حاصل ہونے والے علم کو استعمال کرنا اور اسے عمل کی شکل میں ڈھالنا ہے۔ چونکہ اس عمل کا اظہار ہمار شخصیت ہی سے ہوتا ہے ، اسی لیے اسے تعمیر شخصیت کہا جاتاہے۔ یعنی ایک ایسی شخصیت جو ظاہر و باطن کو جانتی ہو، خدا کی معرفت رکھتی ہو اور اس کے مطابق درست عمل کرکے اپنی شخصیت کو اس سانچے میں ڈھال لیتی ہو جو خدا کو مطلوب ہے۔ تعمیر شخصیت کے بعض پہلو چونکہ مادی دنیا سے متعلق ہیں اس لیے ان پہلووں کے لیے مذہب کی ضرورت نہیں۔ لیکن  اگر اس شخصیت نے عالم ناسوت سے عالم لاہوت کی جانب سفر کرنا ہے تو اب لازم ہے کہ و ہ مذہب اور وحی کا سہارا لے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا تصوف  روحانیت کے حصول کے لیے تصوف اختیار کرنا لازمی ہے یا نہیں۔ اس کا جواب دینے سے قبل ہمیں تصوف کے تین اہم پہلووں کو سمجھنا ہوگا۔ پہلی بات تو یہ کہ تصوف صرف اسلام کا خاصہ نہیں بلکہ یہ دیگر مذاہب میں بھی  موجود رہا ہے۔ تصوف  روحانیت کے حصول کے لیے  ایک جامع پیکج دیتا اور روحانیت کے ان تینوں پہلووں کو ایڈریس کرتا ہے جس کا ہم نے اوپر ذکر کیا۔ البتہ یہ ضروری نہیں کہ اس کی تمام تعلیمات درست ہوں۔ اس کا پہلا کام انسان کی معرفت کا حصول ہے۔ یہ انسان کے باطن کے بارے میں علم دیتا ہے کہ وہ کن کن احساسات ، رغبات، شہوات، میلانات وغیرہ کا مرقع ہے۔ یہاں تصوف وہی کام کرتا ہے جو کسی حد علم نفسیات کرتا ہے۔ تصوف میں ایک استاد جسے مرشد کہتے ہیں وہ  انسان کو سب سے پہلے اپنے اندر جھانکنے کی تعلیم دیتا ہے۔

اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ یہ خدا کی معرفت کی کچھ تھیوریز دیتا ہے۔ یہاں تصوف مذہب کو بائی پاس کرکے اپنی تھیولاجی پیش کرتا ہے۔ عام طو ر پر تصوف خدا اور کائنات کی جو توجیہات پیش کرتا ہے ان میں تین سر فہرست ہیں ۔ ایک نظریہ وحدت الوجود ہے، دوسرا وحدت الشہود اور تیسرا حلول کا نظریہ ہے۔ وحدت الوجود کا کلمہ لاموجود الااللہ یعنی اللہ کے سوا کوئی موجود نہیں۔ وحدت الوجود کا مقصد فنافی اللہ ہے۔ وحدت الشہود میں کائنات کی تشریح خدا کے سائے طور پر کی جاتی  ہے۔ جبکہ حلول میں خدا انسانوں کی شکل میں زمین پر اوتار یا کسی اور صورت میں آجاتا ہے۔ یہ تینوں نظریات خلاف عقل  بھی ہیں اور اسلام کی تعلیمات کے خلاف بھی۔ نیز مذہب کی وضاحت کے بعد ان تشریحات کی ضرورت ہی نہیں محسوس ہوتی۔مذہب واضح طور پر خدا اور بندے کا تعلق بیان کرتا اور اس کا مقصد واضح کردیتا ہے۔

تصوف کا تیسر اکام اپنے مندرجہ بالا نظریات کی روشنی میں تعمیر شخصیت کرنا ہے۔ اس کے لیے مراقبے ، چلے، ضربیں، نفس کشی، وظائف، عملیات، تصور شیخ، رہبانیت  وغیرہ کی مشقیں کروائی جاتی ہیں۔ ان کی حیثیت ویسی ہی ہے جیسے آج کے دور میں لوگوں کو تربیت دینے کے لیے انٹرنیٹ، پاورپوائینٹ، وڈیو ،آڈیو کا استعمال کروایا جائے۔ سوال یہ ہے کہ آیا تصوف  کے تعمیر شخصیت پیکج میں  جو مشقیں ہیں وہ جائز ہیں یا ناجائز۔ اس میں کچھ مشقیں تو اپنی اصل صورت  ہی میں اسلام کی تعلیمات کے خلاف ہیں  تو ان کے جواز کا تو کوئی امکان ہی نہیں۔ جیسے رہبانیت، تصور شیخ وغیرہ۔ اس کے علاوہ باقی مشقوں کو اگر دین کا حصہ نہ سمجھا جائے اور ان میں کوئی اخلاقی یا شرعی قباحت نہ ہو تو ان کے استعمال میں کوئی حر ج نہیں۔

تو خلاصہ یہ ہے کہ تصوف  کا پہلا پہلو نفس کی معرفت ہے جس میں عمومی طور پر بات درست ہے۔ دوسرا پہلو خدا کی معرفت ہے جو عمومی طور پر غلط ہے۔ تیسرا پہلو تعمیر شخصیت ہے جس میں معاملہ بین بین   ہے۔

۳۔ کیا قرآن روحانیت کا کوئی تصور دیتا ہے؟ اگر ہاں تو کیا دیتا ہے؟

جواب: قرآن کا اصل موضوع ہی  تزکیہ نفس یعنی ایسی شخصیت پیدا کرنا جو جنت کی شہریت کی حامل ہوسکے۔ قرآن کا مرکزی خیال انسان ہی  نہیں بلکہ انسان کی فلاح  بھی ہے۔ یہ فلاح دنیا و آخرت دونوں کے لیے ہے۔ چنانچہ اگر ہم روحانیت کے تین پہلووں کو دیکھیں تو قرآن حیرت انگیز طور پر ان تینوں پہلووں کو ایڈریس کرتا اور ایک واضح پلان پیش کرتا ہے۔

سب سے پہلا پہلو اپنے نفس کو جاننا ہے یعنی انسان کو جاننا۔ قرآن آدم وابلیس، ابراہیم و نمرود، لوط و قوم لوط، موسی  و فرعون، یوسف و برادران یوسف، ، ، طالوت و جالوت  ،محمد و بولہب ، یہود ومومومنین اور صحابہ و کفار کی کیس اسٹڈی کے ذریعے جگہ جگہ یہ بتاتا ہے کہ اچھے اور برے انسان کی کیا کیا خصوصیات ہوتی ہیں، کون سی خصلتیں خدا کوپسند ہیں اور کون لوگ اسے ناپسند ہیں۔ کس طرح تعصب  حق کو ماننے سے روکتا، کیسے حسد  عداوت پر مجبو ر کرتا، کس طرح مذہبی پیشوائیت مادی مفادات کا تحفظ کرتی  اورکس طرح انا پرستی انسان کی ناک رگڑنے کا باعث بنتی ہے۔دوسری جانب  حق پرستوں کی کیس اسٹڈی بیان کی گئی ہے کہ کس طرح  لوگ اپنی شخصیت کی کمزوریوں پر قابو پاکر قربانیاں دیتے اور دنیا و آخرت میں سرخرو ہوتے ہیں۔

قرآن روحانیت کا دوسرا پہلو بھی بہت خوبصورتی سے ڈسکس کرتا اور خدا و بندے کے درمیان تعلق کو علمی اور فلسفیانہ سطح پر واضح کرتا ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ خدا تنہا ہے ، اکیلا ہے، نہ و کیس کا باپ ہے نہ بیٹا۔ وہ بادشاہ ہے، وہ رحمان و رحیم ہے، وہ رب ہے ، علم وحکمت کا مالک ہے، وہی پیدا کرتا اور مارتا ہے، وہی طاقت کا منبع ہے۔ خدا کی صفات کی صورت میں وہ خوبصورت تعارف قرآن پیش کردیتا ہے کہ اس کے بعد صرف اس کو سمجھا  تو جاسکتا ہے ، کوئی اضافہ نہیں  کیا جاسکتا۔

قرآن روحانیت کا تیسرا پہلو یعنی تعمیر شخصیت بھی موضوع بحث بناتا ہے۔ چنانچہ عبادات کی شکل میں نماز ، روزہ حج زکوٰۃ پیش کرتا ۔ معاشرت کے لیے نکاح   کو پسند کرتا اور اس کی بنیاد پر وجود میں آنے والے رشتوں کوتقدس عطا کردیتا ہے۔ معیشت کی بنیاد ظلم وعدوان سے پاک کرنے کی ہدایت کرتا، اخلاقیات میں  اصل الاصول خیر خواہی کو قراردیتا ہے۔

خلاصہ یہ کہ قرآن روحانیت کے تینوں پہلووں پر جامع لیکن اصولی ہدایات دیتا ہے۔جس کی روشنی میں کوئی بھی فرد اپنے لیے لائحہ عمل طے کرسکتا ہے۔

۴۔ کیا روحانیت کا شخصیت کے ارتقا سے کوئی تعلق ہے؟

جواب: جیسا کہ اوپر بیان کیا کہ روحانیت ک ے تینوں پہلوو ں کا اصل مقصد  شخصیت کا ارتقا ہی ہے۔ ابتدا کی دو معرفتیں یعنی معرفت نفس اور معرفت رب علمی بنیادوں کا تزکیہ کرتیں اور تعمیر شخصیت کے ٹولز عملی بنیادوں کی اصلاح کرتی ہیں۔ یہ علم و عمل جب مل جاتے ہیں تو ایک ربانی یا روحانی شخصیت پیدا ہوتی ہے۔ یہ شخصیت ایک جانب دنیا میں کامیاب ہوتی اور بندوں سے معاملات میں ان کے حقو ق پوری کررہی ہوتی ہے۔یہ دنیاوی معاملات میں مشکل پیش آنے پر واویلا مچانے کی بجائے صبر کرتی، کسی پریشانی پر ہول کھانے کی بجائے توکل کرتی، بیماری میں تحمل کا مظاہر کرتی ہے۔ دوسری جانب یہ شخصیت لوگوں کے لیے سراپا رحمت بن جاتی اور نہ صرف اپنی ذات سے دوسروں کو نقصان پہنچانے سے گریز کرتی بلکہ آگے بڑھ کر انہیں مشکللات سے نکالنے کی حتی المقدور کوشش کرتی ہے۔

دوسری جانب یہ شخصیت خدا کی معرفت سے لبریز ہوتی ہے۔ یہ خدا کے لیے جان و مال لٹانے پر تیار ہوتی ہے۔اس کے بعد اس کا سونا جاگنا چلنا پھرنا سب عبادت بن جاتا ہے۔

اس قسم کی شخصیت کی پہلی مثال پیغمبر ہیں۔ یہ پیغمبر بہت برگزیدہ ہونے کے باوجود انسان تھے اور یہی ان کا کمال ہے۔ انہیں بھی بھوک پیاس لگتی تھی، انہیں بھی پتھر لگنے پر تکلیف محسوس ہوتی تھی، انہیں بھی لوگوں کے طنزیہ جملے تکلیف دیتے تھے، انہیں بھی معاش کے مسائل درپیش تھے، انہیں بھی اپنے خاندان والوں کی مخالفت کا سامناتھا، انہیں  بھی قتل کی دھمکیاں دی جاتی تھیں۔ ان سب کے باوجود ان کا اس اعلی اوصاف کا مظاہر ہ کرنا ہی اصل کمال تھا۔ کیونکہ یہ اپنی معرفت بھی رکھتے تھے اور خدا کی بھی ۔ساتھ ہی اس علم کو اپنے عمل میں ڈھالنے کا فن بھی جانتے تھے۔ یہی وہ روحانی شخصیات ہیں جن کے اسوہ کی پابندی کا ہمیں کہا گیا ہے۔ لیکن ہم ہیں کہ انہیں انسان ہی ماننے کو تیار نہیں۔ایک گروہ تو انہیں نور قرار دے کر ان کی تمام قربانیوں پر سوالیہ نشان کھڑا کردیتا ہے۔ دوسری جانب جو لوگ انبیا کو نور نہیں انسان مانتے ہیں وہ بھی یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ہمہ وقت خدا کے فرشتوں کے جلو میں رہتے  اور ان کو کوئ تکلیف دامن گیر نہ ہوتی تھی۔ نہیں ایسا نہیں۔ انہیں ہم سے زیادہ تکالیف ملیں لیکن پھر  بھی انہوں نے خدا کی پسندیدہ شخصیت بننے کا بیڑا اٹھایا اور خدا کے لیے تن من دھن قربان کیا۔ یہی ہمارا کام ہے کہ ان کی سنت پر عمل کریں۔

۵۔ کیا روحانیت اور توہمات میں فرق ہے، اگر ہے تو کیا؟

روحانیت کی بنیادیں فطرت، وحی، عقل  اور دیگر محکم علوم کی مضبوط بنیادوں پر ہیں۔،جبکہ توہمات اسی وقت پیدا ہوتے ہیں جب انسان کے پاس علم کی کمی ہوتی ہے۔ جو لوگ روحانیت کے نام پر توہمات کے قائل ہوتے ہیں وہ مطلوبہ نتائج پیش کرنے میں ناکام ہوجاتے ہیں ۔ یہی توہمات اور روحانیت کے درمیان حد فاصل ہے۔

۶۔ کیا مراقبہ کرنے کو اگر اسلامی نہ سمجھا جائے تو یہ جائز ہے؟

جیسا کہ اوپر ڈسکس کیا کہ  مراقبہ اپنی شخصیت میں جھانکنے اور اسے مضبوط بنانے کا ایک ٹول ہے۔ جس طرح انٹرنیٹ کے ذریعے دین کی دعوت دینا بدعت نہیں ایسے ہیں مراقبہ اپنی ذات میں بدعت نہیں۔

۷۔ کیا مراقبے میں میوزک سننا جائز ہے؟

میوزک سننا اپنی ذات میں حرام نہیں بلکہ میوزک کا غیر شرعی استعمال حرام ہے۔ اس لیے اگر میوزک جائز حدود میں ہے تو یہ مراقبے میں سننا جائز ہے۔


عمل صالح کا محدود تصور

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Friday Apr 15, 2016

عمل صالح کا محدود تصور
پروفیسر محمد عقیل
ہم جانتے ہیں کہ انسان کی نجات دو چیزوں پر منحصر ہے۔ ایمان اور عمل صالح یا نیک اعمال۔ ایمان کا معاملہ تو بہت حد تک واضح ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عمل صالح سے کیا مراد ہے؟کیا اس سے مراد صرف نماز روزہ حج زکوٰۃ ہے ؟ کیا یہ تصور صرف دینی اعمال تک محدود ہے ؟ کیا اس میں دنیا کے حوالے سے کی گئی کوئی اچھائی شامل نہیں ہوسکتی؟ یہ وہ سوالات ہیں جو آج کے جدید ذہن میں پیدا ہوتے ہیں۔ وہ دیکھتا ہے کہ سائنسدانوں نے انسان کے لیے میڈیکل، ایجوکیشن، کمیونکیشن غرض ہر میدا ن میں بے شمار سہولیات پیدا کردیں لیکن مذہبی طبقہ اسے عمل صالح ماننے کو تیار نہیں۔
مذہبی طبقہ مدرسے میں پڑھنے کو تو نیکی مانتا ہے لیکن دنیاوی علوم پڑھنے کو نیک عمل تصور نہیں کرتا۔ وہ مسجد کی تعمیر کو تو صدقہ جاریہ کہتا ہے لیکن ہسپتال یا اسکول کی تعمیر کو صدقہ کہنے سے کتراتا ہے۔ وہ تسبیحات کو دس ہزار مرتبہ پڑھنے کو تو باعث اجرو ثواب کہتا ہے لیکن اچھی بات کرنے کو کوئی اہمیت نہیں دیتا۔ دوسری جانب ہم دیکھیں تو ہماری روزمرہ زندگی کے محض چند گھنٹے ہی عبادات اور دینی امور میں گذرتی ہے۔ ہماری زندگی کے اکثر لمحات دنیاوی معاملات میں گذرتے ہیں۔ 
گذشتہ مضمون میں ہم نے بات کی تھی کہ نیکی سے مراد ہر وہ عمل ہے جو خدا کی بیان کردہ حلا ل و حرام کی حدود قیود میں رہتے ہوئے خلوص نیت اور خوش اسلوبی کے ساتھ کیا جائے اور جس کا مقصد کسی بھی مخلوق کو جائز طور پر فائدہ پہنچانا ہو۔ اس تعریف سے یہ بات واضح ہوگئی کہ کسی عمل کے نیک ہونے کے لیے لازمی نہیں کہ اس کا تعلق دین سے ہو۔ کوئی بھی دنیاوی عمل جو اس تعریف پر پورا اترے وہ نیکی ہے اور اسی طرح اللہ کے ہاں مقبول ہے جیسے کوئی بھی دینی عمل۔
دوسری جانب جب ہم قرآن و سنت کی بات کرتے ہیں تو نیک اعمال صرف دین ہی نہیں دنیاوی امور سے متعلق بھی ہیں۔ جیسے سورہ البقرہ میں نیکی کے بارے میں یہ بیان ہوا کہ نیکی محض مشرق و مغرب کی جانب منہ کرلینے کا نام نہیں بلکہ نیکی میں ایمان لانے کا عمل بھی شامل ہے، اس میں معاشرے کے مختلف مستحقین کو صدقہ دینا بھی شامل ہے ، نماز اور زکوٰۃ کی عبادات بھی ہیں اور مختلف مواقع پر صبر کرنا بھی شامل ہے۔ یعنی نیکی کا دائرہ کار صرف دینی امور ہی نہیں بلکہ دنیوی معاملات تک وسیع ہے۔ اسی طرح ہم احادیث کو دیکھیں تو وہاں تو روزی کمانا، گناہ سے خود کو روکنا، کسی کو سواری پر چڑھنے میں مدد کردینا حتی کہ کتے کو پانی پلانے تک کو نیکی کہا گیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر و ہ کون سے محرکات تھے جنہوں نے دنیا وی کاموں کو خدا کے نزدیک ناقابل قبول بنانے کی کوشش کی۔ ذیل میں ہم ان اعمال کا جائزہ لے رہے ہیں:
۱۔عمل صالح کی فہرست مرتب کرنا
اس میں سب سے پہلا محرک تو ظاہر ی متن بنا۔ یعنی جن باتوں کا ذکر قرآن و سنت میں صراحت کے ساتھ آگیا اسے تو نیکی قراردیا گیا لیکن جن کا ذکر نہیں آیا انہیں نیکی نہیں مانا گیا۔ مثال کے طور پرکسی بھوکے کو کھانا کھلانے کا عمل قرآن میں نیکی کے طور پر بیان ہوا ہے تو اسے تمام مذہبی طبقات نیکی مانتے ہیں۔ لیکن کسی بچے کی اسکول فیس ادا کرنے کو اس درجے میں نیکی نہ مانا جاتا ہے اور نہ اسے بیان کیا جاتا ہے۔ حالانکہ بھوکے کو کھانا کھلانا تو ایک وقت کا کام ہے لیکن اسکول یا کالج میں بچے کو پڑھا کر اسے مچھلی پکڑنے کا کانٹا دیا جارہا ہے جس کی مدد سے وہ مستقبل میں ہزاروں مرتبہ کھانا کھاسکتا ہے۔یعنی یہاں نیکی کا تعین کرتے ہوئے استقرائی یعنی Inductive اپروچ سے کام نہین لیا گیا۔اگر لیا جاتا تو سارے اچھے کام اس میں آجاتے۔
۲۔ دنیا سے نفرت
دنیاوی امو ر کو نیکی یا عمل صالح میں شمار نہ کرنے کا ایک اور سبب دنیا سے نفرت ہے۔ ہمارے مذہب پر کچھ صدیوں بعد ہی تصوف کی ترک دنیا کی تعلیمات کا غلبہ ہوگیا۔ چنانچہ دنیا کو حقیر کو اس کے عمل کو شیطانی عمل سمجھا جانے لگا۔ اس کی وجہ سے روزی کمانا، میعار زندگی بلند کرنا، دنیاوی ہنر یا تعلیم حاصل کرنا، مفاد عامہ کے لیے فلاحی کام جیسے سڑک بنوانا، پناہ گاہیں تعمیر کرنا وغیرہ کو عمل صالح میں شمار کرنے سے انکار نہیں تو پہلو تہی ضرور کی گئی۔ حالانکہ دین میں اصل تقسیم دنیا و دین کی نہیں دنیا و آخرت کی ہے۔ اگر ہم دیکھیں تو صدقہ جاریہ میں کنواں کھدوانا حدیث میں صراحتا عمل صالح بیان ہوا ہے ۔ اس بنیاد پر سارے وہ کام جو عوام کے فائدے کے ہوں اور نیکی کی مندرجہ بالا تعریف پر اترتے ہوں وہ عمل صالح میں شامل ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح ایک شخص اگر اپنی فلاح کا کوئی کام کررہا ہے اور وہ دین کے دائرے میں ہے تو وہ بھی نیکی ہے۔ اس اصول کے تحت روزی کمانا، بچوں کی تربیت، سب کچھ آجاتا ہے۔
۳۔ عمل کی ظاہری ہیت
عمل صالح میں دنیاوی معاملات شامل نہ ہونے کی ایک وجہ عمل کی ظاہری ہیت بھی ہے۔ کچھ اعمال اپنے ظاہر ہی میں نیکی نظر آتے ہیں جبکہ کچھ اعمال اس حیثیت سے نیکی نہیں دکھائی دیتے۔ مثال کے طور پر نماز ، روزہ ، حج ، زکوٰۃ ، قربانی، تسبیحات ، تلاوت وغیرہ اپنے ظاہر ہی میں اعمال صالح معلوم ہوتے ہیں کیونکہ ان کا مقصد اللہ سے تعلق کو مضبوط کرنا ہے۔ دوسری جانب حقوق العباد سے متعلق نیک اعمال اپنے ظاہر میں اس طرح نیکی معلوم نہیں ہوتے جیسے تعلق باللہ کے امور۔ اسی بنا پر عوام اور کچھ علماء کو ان معاملات کو نیکی کے طور پر لینے میں ایک نفسیاتی تردد محسوس ہوتا ہے۔ حالانکہ جس اصول کے تحت تعلق باللہ کے امور اعمال صالح ہیں اسی اصول کے تحت روزمرہ کی زندگی کے معاملات بھی صالح اعمال ہیں۔ اصول وہی ہے یہ کوئی بھی عمل جو مخصوص شرائط کے ساتھ کیا جائے اور جس کا مقصد اپنی یا کسی مخلوق کی فلاح ہو۔
۴۔ دین و دنیا کی تقسیم 
ایک اور وجہ دنیا کو دین سے الگ سمجھنا ہے۔ حالانکہ اصل تقسیم دین و دنیا کی نہیں بلکہ دنیا و آخرت کی ہے۔ دنیاوی زندگی میں تمام امور بشمول دین شامل ہیں ۔اگرکوئی شخص دین کا کام کررہا ہے تو دراصل وہ خدا کو کوئی فائدہ نہیں پہنچارہا بلکہ خدا کی مخلوق کو پیغام پہنچا کر ان کے لیے نفع کا کام کررہا ہے۔ یہی کام ایک ایک ڈاکٹر ، انجنئیر ، مصنف یا کوئی دوسری دنیا وی عمل کرنے والا شخص کررہا ہوتا ہے۔ فرق صرف یہ ہوسکتا ہے کہ دنیاوی کاموں کی بالعموم کوئی فیس لی جاتی ہے اور دینی کام عام طور پر بغیر کسی فیس کے ہوتے ہیں۔ لیکن نوعیت کے اعتبار سے دونوں کاموں میں کوئی فرق نہیں ، دونوں مخلوق کی فلاح کے لیے ہیں اور دونوں کا اجر آخرت میں ملنے کا امکان ہے۔ایک اور مثال یہ ہے کہ اگر کوئی استاد مدرسے میں کمپیوٹر کی تعلیم دے رہا ہے اور اس کے چالیس ہزار روپے لے رہا ہے تو اس کی تدریس کو نیکی کہا جاتا ہے کیونکہ وہ یہ کام ایک دینی مدرسے میں کررہا ہے۔ لیکن اگر وہ یہی کورس کسی یونی ورسٹی میں پڑھائے اور اتنی ہی فیس لے تو اسے نیکی نہیں گردانا جاتا۔ حالانکہ دونوں کا مقصد فلاح پہنچانا ہے اور اس لحاظ سے دونوں اعمال نیکی میں شمار ہوتے ہیں۔ 
۵۔تمام غیر مسلموں کو کافر جاننا
ایک اور وجہ یہ مفروضہ ہے کہ تمام غیر مسلم کافر ہیں اور ان کے اعمال رائگاں ہیں۔ مثال کے طور پر ایک سائنسدان جب کوئی چیز ایجاد کرتا ہے اور اس سے لاکھوں لوگ مستفید ہوتے ہیں۔ لیکن اس پر سب سے پہلے یہ چیک لگایا جاتا ہے کہ وہ مسلمان ہے یا نہیں۔اگر وہ غیر مسلم ہو تو ہم سب پہلے ہی فتوی لگا دیتے ہیں کہ اس کا تو عمل قابل قبول ہی نہیں۔حالانکہ ہمیں علم نہیں کہ کیا اس پر اتمام حجت ہوچکی یا نہیں، کیا اس تک خدا کا پیغام صحیح معنوں میں پہنچ گیا؟ کیا اس نے سب کچھ سمجھ کر، جان کر اور مان کر اسلام کا انکار کردیا؟ ظاہر ہے ہمارے پاس کوئی پیمانہ نہیں ۔ اس کا حل یہی ہے کہ ہم اس کے بارے میں حسن ظن رکھیں اور فیصلہ خود کرنے کی بجائے حقیقت جاننے والی ہستی کو سونپ دیں۔ 
۶۔ نیت کا پوشید ہونا
ایک اور وجہ نیت کا ظاہر اور پوشیدہ ہونا ہے۔ دینی اعمال میں نیت باقاعدہ نظر آتی ہے کہ یہ عمل خدا کے لیے خاص ہے۔ مثال کے طور پر نماز یا روزے میں باقاعدہ یہ نیت ہوتی ہے کہ یہ عمل اللہ کے لیے ہے۔دوسری جانب دنیاوی عمل خواہ کتنا ہی فلاح و بہبود کا کام کیوں نہ ہو ، اسے نیکی تسلیم کرنے کے لیے فلٹریشن سے گذرنا ہوتا ہے۔ جیسے دنیاوی تعلیم حاصل کرنے کا عمل اپنی فلاح سے متعلق ہے اور نیکی ہے۔ لیکن اسے بلاکسی تخصیص کے دنیاداری سمجھا جاتا ہے اور نیکی نہیں مانا جاتا۔حالانکہ ایک تعلیم یافتہ شخص اپنے اور اپنی فیملی کے روزگار کا ذریعہ بنتا ہے، وہ اپنی خدمات سے سوسائٹی کی خدمت کرتا ہے، وہ اپنی آمدنی سے ملک کے جی ڈی پی میں خاطر خواہ اضافہ کرتا ہے اور اس طرح ملک کی ترقی میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ یہ سارے کام چونکہ اپنی یا مخلوق کی فلاح کے ہیں اس لیے نیکی ہیں۔ 
خلاصہ
اس بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ نیکی کا تصور دین میں محدود نہیں بلکہ وسیع ہے۔ اس کا دائرہ کار صرف دینی نہیں بلکہ دنیاوی اعمال تک پھیلا ہوا ہے۔ خدا کے نزدیک ہر وہ عمل نیکی ہے جو اس کی حرام و حلال کی قیود میں رہتے ہوئے نیک نیتی اور اخلاص کے ساتھ کیا جائے اور جس کا مقصد اپنی یا مخلوق کی براہ راست یا بالواسطہ فلاح ہو۔
پروفیسر محمد عقیل


نیکی کا درست تصور

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Friday Apr 15, 2016

نیکی کا درست تصور

ہم سب جانتے ہیں کہ ہماری نجات اسی وقت ممکن ہے جب ہمارے نامہ اعمال میں نیکیاں گناہوں کے مقابلے میں زیادہ ہوں۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نیکی کس عمل یا عقیدے کا نام ہے؟ کیا نیکی کا تصور محض نماز روزہ حج زکوٰۃ اور دیگر ظاہری عبادات تک محدود ہے یا اس کا دائرہ کار زندگی کے ہر معاملے تک پہنچتا ہے؟ کیا اس کی کوئی فہرست قرآن و سنت میں موجود ہے یا اسے عقل و فطرت سے بھی متعین کیا جاسکتا ہے؟کیا ہر نیکی کا وزن اس کی گنتی ہے لحاظ سے ہے یا اس کی کمیت یعنی کوالٹی کے اعتبار سے متعین ہوتا ہے؟ کیا نیکی صرف ظاہری عمل کا نام ہے باطنی نیت بھی نیکی میں شامل ہوسکتی ہے؟
یہ وہ سوالات ہیں جو نیکی کے تصور کو جاننے اور درست طور پر جاننے میں بہت اہم ہیں۔ اگر ہم قرآن کا جائزہ لیں تو قرآن سب سے پہلے جو بات ہمیں بتاتا ہے وہ یہ کہ اللہ نے ہمیں صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے ۔ گویا عبادت ہی نیکی ہے اور عبادت سے گریز کرنا گناہ۔
ایک اہم سوال یہ ہے کہ کون سا عمل نیکی ہے؟ اس کےجواب میں بالعمو م روایتی حلقے ایک فہرست مرتب کردیتے ہیں جس میں اعمال صالح اور گناہوں کو بیان کردیا جاتا ہے۔ اس طرز عمل سے یہ فائدہ تو ہوتا ہے کہ اچھے اور برے اعمال کے بارے میں ایک اندازہ وہوجاتا ہے لیکن بدلتے ہوئے حالات اور ماحول میں یہ فہرست کارآمد نہیں رہتی۔ نیز اس فہرست کا دائرہ کار چند مخصوص معاملات تک محدود ہوجاتا ہے۔ اس اپروچ کا ایک اور نقصان یہ ہوتا ہے کہ بندہ عبادت، گناہ اور نیکی کو متعین کرنے کے لیے کسی مذہبی عالم کی تشریح کا محتاج رہتا ہے۔ چونکہ ہمارے مذہبی طبقے پر تصوف کا بڑا گہرا اثر ہے اس لیے دنیا سے متعلق اچھے اعمال کو عام طور پر وہ نیکیوں میں شمار نہیں کرپاتے کیوں ان کی دانست میں اس سے دنیا پرستی کو فروغ مل سکتا ہے۔
اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ نیکی کی ایک جامع تعریف قرآن و سنت کی روشنی میں پیش کی جائے اور اسی تناظر میں نیک اعمال اور گناہوں کا تعین کرنے کے عمل کو سیکھا جائے ۔ نیکی کی تعریف اگر ہم قرآن و سنت کی روشنی میں کریں تو کچھ یوں بنتی ہے:
نیکی سے مراد ہر وہ عمل ہے جو خدا کی بیان کردہ حلا ل و حرام کی حدود قیود میں رہتے ہوئے خلوص نیت اور خوش اسلوبی کے ساتھ کیا جائے اور جس کا مقصد کسی بھی مخلوق کو جائز طور پر فائدہ پہنچانا ہو۔
اس کی تشریح کی جائے تو مندرجہ ذیل نکات سامنے آتے ہیں:
۱۔ پہلی بات کہ نیکی سے مراد کوئی بھی عمل ہے ۔ ضروری نہیں کہ یہ عمل صرف دینی امور سے متعلق ہو، یہ دنیا کا بھی کوئی معاملہ ہوسکتا ہے۔شرط یہ ہے کہ آگے بیان کردہ شرائط پوری ہورہی ہوں۔جیسا کہ اس آیت کو دیکھیں:
لَيْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْھَكُمْ قِـبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَالْمَلٰۗىِٕكَةِ وَالْكِتٰبِ وَالنَّبِيّٖنَ ۚ وَاٰتَى الْمَالَ عَلٰي حُبِّهٖ ذَوِي الْقُرْبٰى وَالْيَـتٰمٰى وَالْمَسٰكِيْنَ وَابْنَ السَّبِيْلِ ۙ وَالسَّاۗىِٕلِيْنَ وَفِي الرِّقَابِ ۚ وَاَقَامَ الصَّلٰوةَ وَاٰتَى الزَّكٰوةَ ۚ وَالْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ اِذَا عٰھَدُوْا ۚ وَالصّٰبِرِيْنَ فِي الْبَاْسَاۗءِ وَالضَّرَّاۗءِ وَحِيْنَ الْبَاْسِ ۭ اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ صَدَقُوْا ۭ وَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْمُتَّقُوْنَ ١٧٧؁
نیکی یہی نہیں کہ تم اپنا رخ مشرق یا مغرب کی طرف پھر لو ۔ بلکہ اصل نیکی یہ ہے کہ کوئی شخص اللہ پر، روز قیامت پر، فرشتوں پر، کتابوں پر اور نبیوں پر ایمان لائے۔ اور اللہ سے محبت کی خاطر اپنا مال رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں ، سوال کرنے والوں کو اور غلامی سے نجات دلانے کے لیے دے۔ نماز قائم کرے اور زکوٰۃ ادا کرے۔ نیز (نیک لوگ وہ ہیں کہ) جب عہد کریں تو اسے پورا کریں اور بدحالی ، مصیبت اور جنگ کے دوران صبر کریں ۔ ایسے ہی لوگ راست باز ہیں اور یہی لوگ متقی ہیں۔ (البقرہ ۱۷۷:۲)
ان آیات کو غور سے دیکھا جائے تو علم ہوتا ہے نیکی میں ایمان لانے کا عمل بھی شامل ہے، اس میں معاشرے کے مختلف مستحقین کو صدقہ دینا بھی شامل ہے ، نماز اور زکوٰۃ کی عبادات بھی ہیں اور مختلف مواقع پر صبر کرنا بھی شامل ہے۔ یعنی نیکی کا دائرہ کار صرف دینی امور ہی نہیں بلکہ دنیوی معاملات تک وسیع ہے۔
۲۔کسی عمل کے عمل صالح ہونے کے لیے پہلی شرط خدا کی بیان کردہ حلا ل و حرام کی قید کا خیال رکھنا ہے۔ یہ بات ذہن میں رہے کہ خدا نے حلا ل و حرام کی قیود صرف وحی کے ذریعے ہی نہیں بتائی بلکہ انسان کی فطرت کے اندر بھی جائز و ناجائز کو طے کرنے کی بنیادی صلاحیت رکھ دی ہے۔ بالخصوص اخلاقیات کے اکر معاملات میں اصل فتوی دل کا ہی ہوتا ہے۔ جیسا کہ اس سورۃ میں بیان کیا گیا ہے:
وَنَفْسٍ وَّمَا سَوّٰىهَا Ċ۝۽ فَاَلْهَمَهَا فُجُوْرَهَا وَتَقْوٰىهَا Ď۝۽
اور نفس کی قسم اور جس نے اسے درست کیا ہے۔ پھر اسے اس کی بدکاری اور پرہیزگاری کا الہام (القاء) کیا۔(سورہ الشمس ۹۱، آیات ۷-۸)
تو اصل بات یہ ہے کہ کسی عمل کے نیکی ہونے کی پہلی شرط یہی ہے کہ وہ خدا کی بیان کردہ حدودو قیود کے اندر ہو۔ مثال کے طور پر اگر ایک شخص نماز پڑھ رہا ہے لیکن وہ ناپاکی کی حالت میں ہے تو اس نے خدا کی حلال و حرام کی حدود کی خلاف ورزی کی۔ چنانچہ بلاعذر ناپاکی کی حالت میں نماز پڑھنا نیکی نہیں بلکہ گناہ تصور ہوگا۔ ایسے ہی ایک شخص حج اگر حرام کی کمائی سے کررہا ہے تو یہ عمل بظاہر عبادت ہونے کے باوجود حقیقت میں نیکی نہیں۔اسی طرح ایک شخص اپنے بچوں کا پیٹ پال رہا ہے لیکن وہ اس چوری کے پیسوں سے یہ کام کررہا ہے ۔بچوں کا پیٹ پالنا ایک نیک کام ہے لیکن اس کو پورا کرتے وقت خد کے بیان کردہ حدود کی پاسداری نہیں کی گئی، اس لیے یہ نیکی نہیں۔
۳۔ کسی عمل کے نیکی ہونے کی دوسری شرط یہ ہے کہ نیت کے اخلاص کا ہونا ہے۔ یعنی جس مقصد کے لیے وہ کام کیا جارہا ہے وہ واضح طور پر یا لاشعور میں کہیں موجود ہونا چاہیے۔
إِنَّا أَنزَلْنَا إِلَیْکَ الْکِتَابَ بِالْحَقِّ فَاعْبُدِ اللّٰہَ مُخْلِصاً لَّہُ الدِّیْنَ أَلَا لِلّٰہِ الدِّیْنُ الْخَالِصُ.(الزمر ۳۹ : ۲)
’’بے شک ، ہم نے یہ کتاب تمھاری طرف مطابق حق اتاری ہے تو تم اللہ ہی کی بندگی کرو اطاعت کو اسی کے لیے خاص کرتے ہوئے۔ سن لو کہ خالص اطاعت کا سزاوار اللہ ہی ہے۔‘‘
مثلا ایک شخص روزہ رکھ رہا ہے لیکن اس کا مقصد صرف لوگوں کو دکھانا ہے تو یہاں اخلاص کی کمی ہے جس کی بنا پر اس کا روزہ عبادت یا نیکی نہیں۔ ایک شخص میدا ن جنگ میں جہاد کررہا ہے لیکن مقصد مال غنیمت ہے تو یہ نیکی نہیں۔لیکن ایک شخص اخلاص کے ساتھ اپنی محنت کی کمائی سے کسی کو ایذا پہنچائے بنا زکوٰۃ ادا کرتا ہے تو یہ عبادت یا نیکی ہے۔ یہ بات قابل غور ہے کہ بعض اوقات نیت کا اظہار باقاعدہ زبان سے نہیں کیا جاتا اور یہ لاشعور میں کہیں نہ کہیں موجود ہوتی ہے۔ جیسے ایک شخص نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہوا اور اس کچھ کہے بنا نیت باندھ لی۔ یہاں اس کا عمل یہ بتارہا ہے کہ وہ شخص نماز پڑھنے کا ارادہ رکھتا تھا اسی لیے نیت باندھی ہے۔
دینی معاملات میں تو بالعموم اور بظاہر یہ لگتا ہے کہ عمل اللہ کے لیے کیا جارہا ہے لیکن دنیوی معاملات میں عمل کو اللہ کے لیے خالص کرنے کی نیت کا اظہار اکثر اوقات نہیں ہوپاتا۔ مثال کے طور پر ایک شخص روزانہ کمانے کو گھر سے نکلتا ہے تو بظاہر یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس کے اس عمل میں اللہ کو راضی کرنے کی نیت موجود نہیں۔ اسی بنا پر کچھ لوگ کمانے کو عمل کو دنیا داری کہہ کر اسے نیکی سے خارج کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ دیکھا جائے تو وہ شخص روزی کماتے وقت اللہ کی حدود و قیود کا خیال رکھ رہا ہے ۔ چنانچہ جس طرح نماز پڑھتے وقت لازم نہیں کہ زبان سے نیت کی جائے اسی طرح دنیاوی نیکیوں میں بھی ممکن نہیں کہ شعوری سطح پر ہر مرتبہ بیان کی جاری کیا جائے۔ بس ایک عمومی ارادہ کافی ہوتا ہے۔
۴۔ عمل صالح ہونے کی تیسر ی شرط اس عمل کو محنت یا مہارت سے یا خوش اسلوبی سے انجام دینا ہے۔
وَاَنْ لَّيْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰى 39؀ۙ
اور یہ کہ انسان کے لیئے کچھ نہیں ہے مگر وہ جس کی اس نے سعی کی ہے(النجم ۳۹:۵۳)
پہلی بات تو یہ ہے کہ انسان کے لیے نیکی اتنا ہی عمل ہے جس کی اس نے کوشش کی۔ کسی دوسرے کا عمل اس کے لیے نیکی نہیں ہوسکتا تاوقتیکہ اس میں اس کی بالواسطہ کوشش شامل ہو۔ اس کے علاوہ جو بھی عمل کیا جائے وہ خوش اسلوبی کے ساتھ کیا جائے۔ اس کامطلب ہے کہ اس عمل میں جتنی بے دلی شامل ہوگی اتنا ہی وہ عبادت سے دور ہوتا چلا جائے گا۔ یعنی و ہ کام جو مارے باندھے کیے جاِئیں وہ نیکی نہیں ہوتے۔ مثال کے طور پر ایک شخص اس طرح نماز پڑھ رہا تھا کہ رکوع و سجود درست طور پر ادا نہیں ہورہے تھے ۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم دوبارہ پڑھو تمہاری نماز نہیں ہوئی۔ اسی طرح قرآن میں منافقین کی نماز کا ذکر ہے کہ وہ مارے باندھے مسجد میں آتے ہیں ۔
دنیاوی معاملات میں بھی محنت اور خوش اسلوبی ضروری ہے۔ ایک شخص جب ملازمت کرتا ہے تو کام چوری کرنا یا اپنی ذات کو آرام دینے کے لیے چور راستے تلاش کرنا نیکی کو گناہ میں بدل سکتا ہے۔
۵۔ آخری شرط یہ ہے کہ عمل کا مقصد کسی نہ کسی مخلوق کو براہ راست یا بالواسطہ نفع پہنچانا ہو۔ یہ نفع دنیا کا بھی ہوسکتا ہے اور دین کا بھی۔دین کے نفع کو نیکی ماننا تو ایک مسلمہ ہے لیکن دنیوی کاموں کو بھی متعدد احادیث میں صدقہ اور نیکی قرار دیا گیا ہے۔
۱۔ ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اعمال میں سے کونسا عمل سب سے افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اللہ پر ایمان اور اس کے راستے میں جہاد؟ میں نے عرض کیا کہ کونسا غلام آزاد کرنا سب سے افضل ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو اس کے مالک کے نزدیک سب سے اچھا اور قیمتی ہو، میں نے عرض کیا کہ اگر میں ایسا نہ کر سکوں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کسی کے کام میں اس سے تعاون کرو یا کسی بے ہنر آدمی کے لئے کام کرو، میں نے عرض کیا کہ اگر میں ان میں سے بھی کوئی کام نہ کر سکوں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھو اس لئے کہ اس کی حیثیت تیری اپنی جان پر صدقہ کی طرح ہو گی۔( صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 251)
۲۔ اچھائی کا حکم کرنا صدقہ ہے اور برائی سے روکنا صدقہ ہے۔(مسلم)
۳۔ جو اپنے اہل وعیال پر ثواب کی نیت سے خرچ کرتا ہے تو وہ اسی کے لئے صدقہ ہوگا۔(مسلم)
۴۔ تمہارے ہر ایک کی شرمگاہ میں صدقہ ہے، صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا اللہ کے رسول کیا ہم میں کوئی اپنی شہوت پوری کرے تو اس میں بھی اس کے لئے ثواب ہے فرمایا کیا تم دیکھتے نہیں اگر وہ اسے حرام جگہ استعمال کرتا تو وہ اس کے لئے گناہ کا باعث ہوتا اسی طرح اگر وہ اسے حلال جگہ صرف کرے گا تو اس پر اس کو ثواب حاصل ہوگا۔(مسلم)
۵۔ دو آدمیوں کے درمیان عدل کرنا صدقہ ہے آدمی کو اس کی سواری پر سوار کرنا یا اس کا سامان اٹھانا یا اس کے سامان کو سواری سے اتارنا صدقہ ہے اور پاکیزہ بات کرنا صدقہ ہے اور نماز کی طرف چل کر جانے میں ہر قدم صدقہ ہے اور راستہ سے تکلیف دہ چیز کا ہٹا دینا بھی صدقہ ہے۔(مسلم)
۶۔ کتے یا کسی جانور کو پانی پلانا بھی نیکی ہے ( صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 2208)
۷۔ رشتے داری کا لحاظ رکھنا، گناہوں سے بچنا، مصیبت برداشت کرنا، اچھے اخلاق اپنا، قرض دار کو مہلت دینا سب اعمال نیکی ہیں۔(بخاری)
ا ن تمام روایات کو جمع کیا جائے تو علم ہوتا ہے کہ صدقہ یا نیکی سے مراد ہر و ہ عمل ہے جس میں خود کو یا کسی دوسری مخلوق کو نفع پہنچایا جارہا ہو۔ اس اصول کے تحت مثال کے طور پر ایک قاری اگر بچوں کو قرآن پڑھا رہا ہے تو چونکہ وہ انہیں دین کے معاملے میں نفع پہنچا رہا ہے تو اس کا عمل نیکی ہے۔ اسی طرح ایک استاد اگر بچوں کو کیمسٹری پڑھا رہا ہے تو اس کا مقصد دنیوی فائدہ پہنچانا ہے تو یہ بھی ویسے ہی نیکی ہے جیسے قرآن پڑھانا۔
بعض اوقات انسان کوئی عمل کسی دوسری مخلوق کے لیے نہیں بلکہ اپنی ذات کو فائدہ پہنچانے کے لیے کررہا ہوتا ہے تو یہ بھی عبادت ہے۔ جیسے نماز پڑھنا خود کو دینی فائدہ پہنچانے کا عمل ہے،اسی طرح رزق کمانا، پڑھائی کرنا یا معلومات میں اضافہ کرنا خود کو دنیوی فائدہ پہنچانے کا عمل ہے اس لیے یہ بھی نیکی ہے۔
خلاصہ
اوپر کی بحث سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ نیکی کا دائرہ کار صرف دینی عبادات، مذہبی رسومات اور عقائد تک محدود نہیں بلکہ ہر اچھا عمل نیکی ہے بشرطیکہ اسے ان حدود قیود میں کیا جائے جن کا اوپر تذکرہ کیا گیا ہے۔
پروفیسر محمد عقیل


نفس کی بادشاہی

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Sunday Apr 3, 2016

نفس  کی بادشاہی

میں اور آپ جس ظاہری بدن کے ساتھ اس دنیا میں موجود ہیں یہ محض ایک ڈھانچہ ہے۔ اس ڈھانچے  کے اندر ہماری اصل شخصیت ہے جسے ہم خودی کا نام دیتے ہیں۔ہمارا ظاہری وجود  عام طور پر ہر دس سال کے بعد تبدیل ہوجاتا ہے اور ہمارے جسم کے سارے خلیات  تبدیل ہوجاتے ہیں۔ اس کے باوجود ہماری خودی  وہی رہتی ہے۔

یہ  ہماری باطنی شخصیت یا نفس  بظاہر ہمارا اپنا ہے لیکن حقیقت میں یہ ایک سرکش ،تندخو   اور آزاد منش کی مانند ہے۔یہ ایک آوارہ بادل کی طرح اپنی مرضی سے ادھر ادھر گھومنا ، اپنی مرضی سے گرجنا برسنا  اور تحلیل ہونا  چاہتاہے۔لیکن اگر اسے آزاد چھوڑ دیا جائے تو انسان  اور جانور میں کوئی فرق نہیں رہ جائے گا۔

یہ نفس بے شمار داخلی اور خارجی  عوامل سے متاثر ہوتا ہے ۔ہمارے اندر  بھوک ، پیاس ، شہوت، غصہ ، چاہے جانے کا احساس اور دیگر داعیات ہوتے ہیں ۔ اگر ان پر قابو نہ پایا جائے تو یہی ہمارے نفس کو آلودہ کردیتے ہیں ۔  مثال کے طور پر   جنسی شہوت   ایک جبلی اور فطری تقاضا ہے   جو انسان کی بقا کے لئے لازمی ہے۔ لیکن اگر اس  تقاضے کو کھلی چھٹی دے دی جائے تو   کسی کی عزت محفوظ نہیں رہتی اور انسان چوپائے کی طرح ہر جگہ منہ مارتا پھرتا ہے۔ یہی معاملہ باقی تقاضوں کا بھی ہے۔

دوسری جانب ہمار ا نفس باہر کے عوامل سے بھی متاثر ہوتا ہے ۔ اس خارج کے ماحول میں ماحول  ماں باپ ، بہن بھائی، دوست احباب اور دیگر لوگ اس نفس پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ انسان کا سب سے بڑا دشمن شیطان بھی اسی خارج کے ماحول سے دراندازی کرتا ہے۔

یہ داخلی اور خارجی ماحول مل کر انسان کی اصل شخصیت پر اثر انداز ہوتے ہیں ۔ لیکن اللہ نے انسان کو اس پورے معاملے میں تنہا نہیں چھوڑا۔ کہیں انسان کے اندر ہی ضمیر یا نفس لوامہ کی  ایک چھوٹی سی عدالت لگادی جو قدم قدم پر اسے اس کی غلطیوں پر متنبہ کرتی رہتی ہے۔ دوسری جانب وحی کے ذریعے انسان کو ان امور پر متعین طور پر راہنمائی فراہم کردی جس میں اسے ٹھوکر لگنے کا اندیشہ تھا۔

انسان کی شخصیت یا نفس کی مثال ایک سرکش گھوڑے کی مانند  ہے   جس پر سوار بیٹھا ہے۔ گھوڑے کا داخلی نقص  اس کی سرکشی ہے جس کی بنا پر ہر دم یہ خطرہ ہے کہ یہ سوار کو منزل مقصود پر لے جانے کی بجائے راستے ہی میں پٹخ دے۔ گھوڑے کے خارجی ماحول میں پرخطر راستے ہیں جس  پر چلنے سے گھوڑا انکار کردےا ور بدک جائے۔ان خطرات سے نبٹنے کے لئے گھوڑے کو تربیت دینا اشد ضروری ہے تاکہ اس کی سرکشی کو ختم کیا جاسکے اور ساتھ ہی ساتھ اسے پرخطر راستوں کا عادی بنایا جاسکے۔


فار گرانٹڈ (For Granted)

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Sunday Apr 3, 2016

فار گرانٹڈ

(For Granted)

زندگی میں بے شمار نعمتیں ہمیں   بن مانگے مل جاتی ہیں۔ ہم ان کے لئے نہ تو سوچتے ، نہ محنت کرتے، نہ پریشان ہوتے اور نہ ہی کوئی تگ و کرتے ہیں ۔اس کے باوجود یہ ہماری جھولی میں ڈال کر دے دی جاتی ہیں۔ اس میں سر فہرست  اللہ تعالیٰ کی جانب سے دی ہوئی نعمتیں ہیں۔ ہم پیدا بھی نہیں ہوتے  اور ماں کے پیٹ میں ہماری کابندوبست ہوجاتا ہے۔ جب ہم اس دنیا میں آتے ہی تو زمین کی آغوش ہمارے لئے ماں کا پیٹ بن جاتی اور زندگی گذارنے کی تمام سہولیات بن مانگے مل جاتی ہیں۔  سورج حرارت فراہم کرتا، رات سکون مہیا کرتی، چاند تارے ذوق کی تسکین کرتے، فضا  تفس کو ممکن بناتی ، زمین اپنا سینہ چاک کرکے غذا کو اگلتی اور جانور گوشت کے پہاڑ  بنے    لذت کام و دہن کا سبب بنتے ہیں۔

 

ان نعمتوں کی فراہمی کو ہم فارگرانٹڈ لیتے اور اپنا حق سمجھتے رہتے ہیں۔یہیں سے ختم نہ ہونے والی غلطیوں کا آغاز ہوتا ہے۔ پھر اس کی نعمتیں حقیر لگتیں، پھر اس کے وجود کا احساس ہی نہیں ہوتا، پھر اس کے کرم کا اندازہ نہیں ہوتا  اور اس کی لا متناہی شفقت محسوس ہی نہیں ہوتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ  خدا نعوذ باللہ ایک خودکار مشین کی مانند لگنے لگتا ہے ۔ پھر سب کچھ خود بخود ہوتا دکھائی دیتا ہے ۔آفاق میں سورج  کا طلوع و غروب، سبزہ کا اگنا ، غلہ کی پیداوار ، زمین کی گردش، بارش کا برسنا سب کچھ خود بخود ہوتا معلوم ہوتا ہے۔ انفس میں سانس و زیرو بم، دل کی دھڑکن، آنکھوں کی بصارت، زبان کا تکلم، کانوں کی سماعت، دماغ کی سوچیں سب ایک خود کار نظام کے تحت بندھے ہوئے لگتے ہیں۔

پھر لاشعور میں یہ خیال  راسخ ہوجاتا ہے جب سب کچھ خود بخود مل رہا ہے تو کیوں اس کی شکرگذاری کی جائے،  کیوں اس کی بندگی کی جائے، کیوں اس کی بات مانی جائے ، کیوں اس کے آگے جبین نیاز ٹیکی جائے؟ اس سے  اگلا قدم یہ ہوتا ہے کہ اب کسی خدا کی کیا ضرورت؟یہ تو سب خود بخود ہورہا ہے۔ اس سے آگے کچھ لوگ بڑھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خدا موجود ہی نہیں اور نعوذباللہ  انسانی ذہن کی پیداوار ہے۔

اسی صورت حال سے انسان کو بچانے کے لئے اللہ تعالیٰ براہ راست مداخلت کرتے ہیں اور یہ احسا س دلاتے ہیں کہ یہ سب نعمتیں انسان کا حق نہیں بلکہ اللہ کی عنایت ہیں اور اللہ جب چاہیں واپس لے سکتے ہیں۔ چنانچہ کبھی زمین کو ہلایا جاتا ، سمندر کے بند کھول دئیے جاتے،ہوا کی باگیں چھوڑدی جاتیں، آسمانی بجلی کو آزاد کردیا جاتا اوربارش کو طوفان میں بدل دیا جاتا ہے ۔ اس کا مقصد انسان کو یہ احسا س دلانا ہے کہ یہ سب کچھ فارگرانٹڈ لینے کے لئے نہیں۔ ان سب کے خالق کاشکر واجب ہے، اس کا احترام لاز م ، اس کی نمک حلالی ضروری ہے۔ خدا کی نعتموں کو فارگرانٹڈ نہ لیجئے ۔ ورنہ بہت جلد آپ کو یہ تجربہ کروایا جاسکتا ہے کہ یہ سب فارگرانٹڈنہیں ۔

 پروفیسر محمد عقیل

 

 

                                            

 

 


کورٹ مارشل

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Sunday Apr 3, 2016

کورٹ مارشل

ہمارے ملک میں کئی طرح کے طبقات موجود ہیں  جن میں سے ایک  فوج اور سویلین کی تقسیم ہے۔ وہ لوگ جو فوج میں شامل ہوتے ہیں بالعموم انہیں دیگر طبقات کے مقابلے میں زیاد ہ مراعات ملتی ہیں جن میں پلاٹس، فری میڈیکل کی سہولیات،  بعد از ریٹائرمنٹ ملازمت کا حصول اور سوسائٹی میں اعلی مقام  وغیرہ شامل ہیں۔ دوسری جانب سویلین افراد ان  سہولیات سے محروم ہوتے یا انہیں اس درجے میں حاصل نہیں کرپاتے ہیں۔

اس  تفریق کے باوجود یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ فوج کے لوگوں پر جس قسم کے سخت قوانین اور ڈسپلن لاگو ہوتا ہے وہ عام سولین  پر نہیں ہوتا۔ ایک فوجی ملازمت سے آسانی سے استعفی نہیں دے سکتا،  اس کی آزادانہ نقل حرکت پر  چیک رکھا جاتا ہے، اسے نظم و ضبط کا پابند بنانے کے لئے  سخت ٹریننگ سے گذارا جاتا ہے ۔ یہاں تک کہ فوجیوں  کو ڈسپلن کی خلاف ورزی پر عام عدالتوں میں نہیں بلکہ فوجی  کورٹ مارشل یعنی فوجی عدالت میں  مقدمہ کے لئے پیش کیا جاتا ہے  جس کے قوانین اور سزائیں کافی سخت ہوتی ہیں۔۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب ملک میں ایک عدالتی نظام موجود ہے تو کورٹ مارشل یا فوجی عدالتوں کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟۔ اس کا جواب یہ ہے کہ فوج ملک کے حساس اداروں میں سے ایک ہے ۔اس کا کام ملک کا دفاع ہے ۔  اس  ادارے میں معمولیسی غلطی، جرم، بغاوت یا سازش ملک و قوم کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ اسی لئے اس ادارے سے منسلک افراد کو ایک سخت قسم کے نظم و ضبط کا پابند کیا جاتا ہے۔ اس ڈسپلن کی خلاف ورزی پر  سخت قسم کی سزائیں دی جاتی ہیں جو عام عدالتوں کے برعکس کافی سخت تصور کی جاتی ہیں۔

کچھ اسی سے ملتی جلتی تفریق عام مسلمانوں اور دین کے داعیوں کے درمیان بھیپائی جاتی ہے۔ ایک شخص جب تک عام مسلمان ہے تو اس پر عام قوانین ہی لاگو ہوتے ہیں۔ لیکن جب ایک شخص خدا کے دین کا داعی بن جاتا، اس کے دین کا پرچار کرتا، اس کی توحید  کو دنیا میں روشنا س کراتا اور اس کے دین کا علمبردار بن جاتا ہے تو اس کی نوعیت بدل جاتی ہے۔ ایک جانب تو اس کا اجر بہت بڑھ جاتا ہے ۔ وہ اپنے وقت، علم ، قابلیت اور توانائی کو دین کے کاموں میں لگا کر خدا کا تقرب حاصل کرسکتا ہے، جنت میں اعلی درجات پاسکتا اور اپنی مقام بہت بلند کرسکتا ہے۔ دوسری جانب  اس کی زندگی پر فوجی ڈسپلن لاگو ہوجاتا ہے۔ اس کی  ذمہ داریوں   میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ اسے عام مسلمانوں سے زیادہ تقوی، صبر، تعلق باللہ ، عبادات اور اخلاقیات  میں اپنی اعلی کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوتا ہے۔اور یہ سب وہ اس لئے کرتا ہے تاکہ اللہ کی بارگاہ میں سرخرو ہوجائے۔اس مقصد کے حصول کے لئے داعی کے لئے لازم ہے  وہ اپنی ذات پر عام لوگوں سے زیادہ چیک لگائے۔ وہ دوسروں سے زیادہ اپنے عیوب پر نظر رکھے، وہ لوگوں سے زیادہ اپنے آپ کو  تنقید   کے لئے پیش کرے۔ وہ ہر لمحہ اسی فکر میں غلطاں ہو کہ  کہیں  وہ دوسروں کی اصلاح  کرتے کرتے خود کو فراموش نہ کربیٹھے، وہ دوسروں   کے دامن کو آگ سے بچاتے بچاتے خود اپنے وجود کو شعلوں کی نذر نہ کردے،  لوگوں کے نفس کا تزکیہ کرتے کرتے خود اپنی شخصیت کو ہی آلودہ نہ کربیٹھے۔

خدا کے نزدیک ایسا شخص بہت برا ہے جو لوگوں کو سچائی کا درس دے اور خود جھوٹ بولے،  ناحق قتل  کی مذمت کرے  خود اس کےہاتھ خون میں رنگے ہوں، محبت کا درس دے لیکن خود  کے سینے میں نفرتوں کے سانپ لوٹ رہے ہوں، بدگمانی سے منع کرے مگر  اپنے حریفوں  کے بارے میں حسن ظن  کو گناہ سمجھے، نفاق کو برائی بیان کرے اور خود دوغلے پن کا مظاہر کرے ۔

اگر ایک داعی نے اپنی شخصیت کی اصلاح بھی کی اور اللہ کا پیغام بھی لوگوں تک پہنچایا تو اس کا اجر دوگنا ہے۔ جنت کے اعلی باغات اس کے منتظر ہیں ۔ دووسری جانب اگر اس نے اپنی ذات کو آلودہ کردیا اور اسی حالت میں خدا کے حضور پہنچا تو اس کی سزا دوگنی ہے۔ اب اس کا کیس خدا کی خصوصی عدالت میں چلے گا جہاں کی پکڑ اور سزا عام سزاؤں سے دوگنی اور اذیت ناک ہوگی۔

پروفیسر محمد عقیل

 


نیا احتساب

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Sunday Apr 3, 2016

نیا احتساب

کیا ہم حسد کرتے ہیں ؟ کیا ہم زنا کرتے ہیں؟ کیا ہم  جھوٹ بولتے  ہیں ؟  ان تمام سوالات کا جواب عین  ممکن ہے ہم    یہ دیں کہ  ہم تو ایسا نہیں کرتے۔ عام حالات میں کوئی گناہ کی جانب مائل نہیں ہوتا۔ البتہ کچھ حالات ایسے ہوتے ہیں جب انسان گناہ کی جانب مائل ہوتا  اور غلط کام کرتا ہے۔

نیکی اور گناہ کا تعلق انسان کے داخلی اور خارجی ماحول سے ہے۔داخلی ماحول میں انسان کی طبیعت، مزاج، خواہشات،رغبات اور مفادات کا دخل ہوتا ہے ۔ مثال کے طور پر ایک شخص  اپنی شخصیت میں غیض  و غضب  کا پہلو نمایاں رکھتا ہے تو وہ باآسانی غصہ کی جانب مائل ہوجائے گا۔ دوسری جانب خارجی ماحول میں انسان کے گردو پیش کے معاشرتی، معاشی، اخلاقی اور دیگر حالات کا دخل ہوتا ہے۔ جیسے کوئی شخص مغربی ماحول میں پلا بڑھا تو اس کے لئے زنا کرنے کے مواقع زیادہ ہوتے ہیں۔  ایک انسان کے لئے  اپنے داخل و خارج کے موافق  حالات میں نیکی کرنا  عام طور پر آسان ہوتا ہے۔ دوسری جانب اگر حالات ناموافق ہوں تو ایسی صورت میں نیکی کرنا  اور گناہ سے بچنا  ایک جہاد بن جاتا ہے۔ یہی اصل آزمائش کا وقت ہوتا ہے اور یہیں انسان کے رخ کا تعین ہوجاتا ہے کہ وہ کس سمت جارہا ہے۔

عام طور پر جب ہم اپنا احتساب کرتے ہیں تو ان حالات کو ذہن میں رکھتے ہیں جو موافق اور نارمل ہیں۔ چنانچہ جب ہم اپنا جائزہ لیتے ہیں تو علم ہوتا ہے کہ ہم تو جھوٹ نہیں بولتے ، ہم تو حسد کا شکار نہیں ہوتے، ہم تو بدگمانی نہیں رکھتے، ہم کسی کے خلاف بات نہیں کرتے ، ہم تو شاید کچھ بھی نہیں کرتے۔ اس طرح ہم اپنے آپ کو دھوکا دے رہے ہوتے ہیں۔ اگر ہم اپنے دیکھنے کا زاویہ بدل لیں تو صورت حال برعکس بھی  ہوسکتی ہے۔ممکن ہے ہماری زندگی میں سچ بولنے کا امتحان آیا ہی صرف دس مرتبہ ہو اور اس ان تمام ناموافق مواقع پر ہم یہ کہہ کر جھوٹ بول گئے کہ کبھی کبھی تو چلتا ہے۔ ممکن ہے ہمیں اپنے مدمقابل  صرف چار لوگ ہی ایسے ٹکرائے ہوں جنہیں دیکھ کر حسد محسوس ہو اور ہم ان چاروں مواقع پر حسد کا شکار ہوچلے ہوں۔ ممکن ہے ہمیں زندگی میں چندہی مرتبہ کسی  اپنے مفادات کے خلاف کوئی  حق بات پیش کی گئی ہو اور ہر موقع پر ہم  نے عصبیت و ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرکے حق کو رد کردیا ہو۔

چنانچہ ہم سب کو نئے سرے سے اپنا احتساب کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنے کردار کا جائزہ لیتے وقت اپنی شخصیت  کو ناموافق حالات  میں رکھ کر سوچنا چاہئے۔ہمیں خود یہ یہ سوال کرنا چاہئے کہ آیا ہم خود کو اس وقت بھی     سچ بولنے پر آمادہ کرلیتے ہیں جب  مادی نقصان سامنے ہو، کیا ہم اس وقت صبر کا مظاہرہ کرتے ہیں جب  دل شدت غم سے پھٹا جارہا ہو، کیا ہم اس وقت لوگوں کو معاف کردیتے ہیں جب ان کی غلطی ایک مسلم حقیقت بن چکی ہوتی  ہے، کیا ہم اس وقت بھی اپنے آپ کو  چھوٹا مان لیتے ہیں جب ہماری انا بری طرح مجروح ہورہی ہے۔اگر ایسا ہے تو ٹھیک ہے لیکن اگر ایسا نہیں تو پھر ہمیں اصلاح کی ضرورت ہے۔ ہمیں نئے سرے سے امتحان کی تیاری کی ضرورت ہے کیونکہ آزمائش کے وقت ہم ناکام ہوجاتے ہیں۔

پروفیسر محمد عقیل


ڈپریشن، تھکاوٹ اور بدمزاجی کیوں؟

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Sunday Apr 3, 2016

ڈپریشن، تھکاوٹ اور بدمزاجی  کیوں؟

عظمی عنبرین/ اقصی ارشد

اگر گھر میں ایک ہی ٹی وی ہو تو  تین گروپ بن جاتے ہیں ۔ مردوں کو سیاسی ٹاک شوز پسند آتے ہیں ، خواتین انٹرٹینمنٹ اور شو بز کے چینل لگانا چاہتی ہیں اور بچے کارٹونز پر پل پڑنے کے لئے تیار ہوتے ہیں۔  تینوں کا واحد مقصد ہوتا ہے اور وہ یہ تسکین کا حصول ۔ سب یہی سمجھ رہے ہیں کہ اس طرح وہ لطف، مزا یا تسکین حاصل کرکے اپنے آپ کو ریلیکس کرلیں گے۔ لیکن ہم ایک اہم بات بھول جاتے ہیں۔ تسکین  حاصل کرنے کے لئے دو عوامل کا ہونا لازمی ہے۔ ایک تو تسکین کا موقع اور دوسرا تسکین حاصل کرنے کی صلاحیت۔ مثال کے طور پر آپ چھولوں کی چاٹ کھاکر لذت حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن ساتھ ہی  آپ کے منہ کا ذائقہ بخار اور گلے میں درد کی بنا پر کڑوا ہوچکا ہے۔ تو اب آپ چھولے کھاکر بھی تسکین حاصل نہیں کرسکتے کیونکہ آپ  میں اس سے لطف اندوز ہونے کی صلاحیت موجود نہیں۔

بالکل ایسے ہی ہماری پوری زندگی میں یہ دو عوامل ہونا لازمی ہیں یعنی تسکین کا موقع اور تسکین  کے حصول کی صلاحیت۔ ایک بہت ہی خوشی کے موقع پر بھی ایک پاگل یا نفسیاتی شخص محظوظ نہی ہوسکتا۔ ایک منفی ذہن کا شخص بارش سے لطف اندوز ہونے کی بجائے خوفزدہ ہوجاتاہے، ایک  دولت مند شخص  ڈپریشن کے باعث اپنی دولت سے فائدہاٹاحنے سے قاصر ہوتا ہے وغیرہ۔

ہماری ساری توجہ تسکین کے ذرائع تلاش کرنے  پر ہوتی ہے ۔ لیکن اگر ہم سکون  حاصل کرنے کی صلاحیت پر بھی توجہ دیں تو کم چیزوں میں زیادہ بہتر نتائج مل سکتے ہیں۔ ہمارے سکون ی راہ میں سب سے بڑی  رکاوٹ  منفی سوچ، احساس کمتری، چرچڑاہٹ، موڈ کی باربار تبدیلی، ذہنی تناؤ اور ڈپریشن جیسے مسائل ہیں۔ جب تک ان پر قابونہ پایا جائے  ہم کسی طور تفریح تو کیا ایک نارمل لائف بھی نہیں گزارسکتے۔

ان تمام بیماریوں کی کئی وجوہات  ہوسکتی ہیں۔ لیکن ایک تحقیق  کے مطابق  ہماری سوسائیٹی میں اس کی ایک بڑی وجہ  کچھ مخصوص وٹامن کی کمی ہے۔ اس میں سرفہرست وٹامن بی ۱۲  ہے۔ یہ بات تشویشناک ہے کہ عوام الناس وٹامن بی 12   کی اہمیت سے کماحقہ آ گاہ نہیں ہیں ،جبکہ نفسیاتی امراض کے سلسلہ میں یہ جزو لا ینفک کی حیثیت رکھتا ہے وٹامن بی  انسانی صحت میں ہاضمے سے لے کر  دماغ کی صحت تک کے لیے انتہائی ضروری ہے جبکہ پاکستان  میں یہ وٹامن فراہم کرنے والی غذا کی قلت کی بنا پر لوگ بڑ ے پیمانہ پر اس اہم اور ضروری وٹامن  کی کمی  کا شکا  ر  ہوتے ہیں اور اکثر نفسیاتی بیماریاں اس وٹامن کی کمی کی ہی وجہ سے جنم لیتی ہیں۔

اگر آپ مندرجہ  ذیل  علاما ت  سےگزر رہے ہیں تو یہ آپ  کے  جسم  میں وٹامن 12 –B کی  شدید  کمی کا عندیہ ہے :

1.احساسات  و جذبات  کا  غیر معمولی  اتا ر چڑھاؤ۔

2.روزمرہ  کے  کاموں  میں بے رغبتی  ،خواہ  وہ  اپنی  مرضی و منشا  کے پسندیدہ  مشاغل  ہی  کیوں  نہ ہوں 3.دماغ  کا چکرانا ۔

4.سونے  کے  اوقات  کی بے  اعتدالی ۔

5.سستی و بے ہمتی والا رویہ ، ٹینشن، ڈپریشن

6.معمولی  سی  باتوں پر  بدمزاجی  اور جھلاہٹ

7.دیگر معاشرتی دباؤ یا   پسپائی والی  علامات

اس وٹامن کی کمی کو یوں تو ٹیسٹ کے زریعے معلوم کرایا جاسکتا ہے لیکن اگر کوئی شخص اس وٹامن کو زیادہ مقدار  میں لے بھی لے تو یہ نقصان دہ نہیں کیونکہ یہ قدرتی طریقوں سے جسم سے از خود خارج  ہوجاتا ہے ۔ بالعموم نفسیاتی  بیماریوں کا علاج کرنےوالے ڈاکٹرز اس  کے بارے میں لوگوں کو ایجوکیٹ نہیں کرتے کیونکہ اس سے ان کی کمائی متاثر ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔

عام خوراک میں وٹامن  کی دستیابی  کا  بڑا  ذریعہ بچھڑے  کا جگر ہے ۔کسی حد تک یہ مرغی کے جگر اور انڈوں میں بھی پایا   جاتا ہے ،مگر ہمارے ملک میں جو برائلر  چکن  دستیاب ہے جس میں  اس  وٹامن  کی حسب ضرورت مقدار نہیں ہوتی ۔ اس  کے علاوہ مارکیٹ میں وٹامن بی کی سپلمنٹس (ادویات) بھی ملتی ہیں اور انجکشن کی مدد سے بھی یہ کمی دور کی جاتی ہے۔ اس وٹامن کے سالانہ صرف دس انجکشن لگوانا کافی ہیں۔ہر انجکشن کے بعد  ایک  دن کا وقفہ اور پھر  اگلا  انجکشن ،اسی طرح دس مکمل کریں ۔ کچھ کیسز ایسے ہوتے ہیں جن میں ایک سال  میں  ہر تین ماہ بعد ہ کورس کرنا چاہیے؛ اس بارے میں حتمی فیصلہ کوئی ماہر نفسیات یا یا ڈاکٹر  ہی کرسکتا ہے تاہم اس معاملے میں آپ کو انتہائی محتاط اور با خبر رہنے کی ضرورت ہے تاکہ آپ وٹامنز کی کمی سے ہونے والی نفسیاتی الجھنوں نے نجات حاصل کرسکیں۔

 


یور ٹائم اسٹارٹس ناؤ

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Sunday Apr 3, 2016

یور ٹائم اسٹارٹس ناؤ

جب ایک طالب علم امتحان دینے جاتا ہے  تو اس کی ابتدا اور انتہا کا وقت مقرر ہوتا ہے۔ کوئی شخص نہ تو اس مقررہ وقت سے پہلے امتحان شروع کرسکتا اور نہ اس مقررہ وقت کے بعد امتحان جاری رکھ سکتا ہے۔

جس طرح دنیوی امتحانات کا ایک وقت مقرر ہے تو اسی طرح آخرت کے امتحان کا بھی ٹیسٹ مقررہ وقت پر شروع ہوتا اور اس وقت کے بعد ختم ہوجاتا ہے۔ مثال کے طور پر غیبت کے ٹیسٹ کا وقت ایک خاتون کے لئے اس وقت شروع ہوتا ہے جب اسے اپنے ارد گرد  کے ماحول میں لوگوں سے حسد  ، جلن اور بدگمانی ہو۔جونہی وہ اس ماحول سے نکل کر ایک ایک دودراز ملک میں جاکر رہنا شروع کرتی ہےجہاں کوئی نہیں  جس سے وہ باتیں کرسکے تو اس  ٹیسٹ کا وقت ختم ہوچکا ہوتا ہے۔ اب اگر اس نے ناموافق حالات میں تو دل کھول کر اپنے مخالفین کی برائی کی ۔ لیکن جب اسے تنہائی ملی اور کوئی غیبت کرنے والا نہ ملا تو خاموش ہوگئی اور یہ سمجھنے لگی کہ میں تو غیبت نہیں کرتی تو غلط فہمی کا شکار ہے۔ اس نے غیبت کے ٹیسٹ پیریڈ میں  ناکامی کا مظاہرہ کیا اور فیل ہوگئی۔ اب وہ خاموش اس لئے ہے کہ حالات بدل گئے ہیں۔

جس طرح نماز وں کا وقت مقرر ہے، روزے کا متعین وقت ہے، زکوٰۃ کی ادائیگی کا ایک خاص موقع ہے اور حج کا مخصوص موسم ہے ایسے  ہی دین کے بیشتر امتحانات  کا موقع  متعین وقت میں ہی ہوتا ہے۔ والدین کے ساتھ حسن سلوک کا موقع ان کی زندگی تک ہے موت کے بعد نہیں، عفو درگذر کے  ٹیسٹ  کا آغاز اسی وقت ہوتا ہے جب کسی کے خلاف غصہ عروج پر ہو، شوہر یا بیوی کے حقوق کی ادائیگی کا ٹیسٹ ازدواجی زندگی کے دوران ہے۔

ہم سب کو چاہئے کہ اپنے اپنے امتحانات اور ان کے اوقات کو پہنچانیں۔ ہم دیکھیں کہ اس وقت ہم کس قسم کی آزمائش میں ہیں  اور پھر اسی مناسبت سے اپنی کاردگی پیش کرنے کی کوشش کریں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ کسی خاص معاملے مسئلے کے امتحان کا وقت  آئے اور گذر بھی جائے لیکن ہمیں پتا تک نہ چلے۔ امتحانی اوقات کو پہچاننا بذات خود ایک آزمائش ہے۔ جو اس آزمائش میں ناکام ہوگیا وہ امتحان میں کامیاب ہو ہی نہیں سکتا۔

پروفیسر محمد عقیل

 


بیوی پر شک اور بدگمانی

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Sunday Apr 3, 2016

بیوی  پر شک  اور بدگمانی

کہتے ہیں مرد عام طورپر شکی  ہوتے ہیں۔شک کا ایک بڑا سبب عادت و مزاج ہوتا ہے۔ چنانچہ  کچھ مرد اپنی  بیویوں پر بلاجواز شک کرتے اور ان پر کڑی نگاہ رکھنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ وہ انہیں ایک ایسے پولیس مین کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جو ہر شخص کو مجرم سمجھتا ہے۔ ایسے شوہر   اپنی بیوی کو مجرم گردانتے اور ہر دوسرے دن اس سے یہ توقع کرتے ہیں کہ وہ اپنی عفت کا ثبوت پیش کرے۔

اس قسم کے لوگ باآسانی بدگمانی کا شکار ہوجاتے ہیں۔  یہ بیوی کی  ہر ٹیلفون کل پر نظر رکھتے ، اس کے ایس ایم ایس سے غلط معنی اخذ کرنے کی کوشش کرتے، اس کے مو ڈ سوئینگ کو الٹی سیدھی توجیہہ دینے کی  کوشش کرتے ، اس کی مسکراہٹ کے پیچھے کسی کا خِیال محسوس کرتے، اس کی چہل قدمی  کو کسی کا انتظار سمجھتے  اور اسکے میک اپ کو اپنی بدگمانی کی عینک سے مشکوک بنادیتے ہیں۔ جب بیوی ذرا بھی ان کے سوالات کا جواب دینے میں چوک جاتی اور انہیں مطمئین نہیں کرپاتی تو ان کے شک  کا سانپ اور سرکش ہوجاتا ہے۔ ایک وقت آتا ہے  شک کا یہ اژدہا پورے خاندان کو نگل لیتا ہے۔

شک  کا تعلق  ماحول سے بھی ہوتا ہے۔ بعض  اوقات ایک  ایک  بند ماحول میں رہنےوالا شخص باآسانی بدگمانی کی جانب مائل ہوجاتا ہے۔ اور اگر بیوی ذرا آزاد ماحول کی ہو  بس پھر تو معاملہ خراب۔ بیوی کا کسی سے ہنس کر بات کرنا، کسی کی بات پر مسکرادینا، کسی  کی تعریف میں دو بول بول دینا، کسی پر تبصرہ کردینا ایک تنگ نظر میاں کو ایک آنکھ نہیں بھاتا۔ ہر  آنے والا دن بیوی کوایک بے حیا عورت کے روپ میں  پیش کرتا  رہتا ہے۔ایسا مرد اپنی بدگمانی میں طرح طرح کی باتیں سوچتا اور الٹے سیدھے اندازے لگاتا رہتا ہے۔ اس کی بدگمانی کبھی اس کی مردانگی پر سوالیہ نشان ڈالتی، کبھی بیوی کے کردار کو براپیش کرتی، کبھی بیوی کی بے تکلفی کو فحاشی گردانتی تو کبھی اس کی سرگرمیوں کی ٹوہ لینے پر اکساتی ہے۔

بیوی سے بدگمان ہونے کی ایک اور وجہ کوئی واقعہ، قصہ، ڈرامہ   یا  کہانی  ہوتی ہے ۔ کبھی کسی فلم سے متاثر ہوکر  میاں اپنی بیوی کو اسی روپ میں دیکھنے لگ جاتا ہے جس میں ایک بے حیا عورت کے کردار کو دکھایا گیا ہوتا ہے۔ اب اسی مفروضے پر جب وہ روزمرہ کا جائزہ لیتا ہے تو بیوی کی بہت سے باتیں اس کردار سے ملتی جلتی معلوم ہوتی ہیں۔ اس کی  بیوی اس  بے حیا کردار کی طرح فیس بک  بھی استعمال کرتی، وہاٹس ایپ بھی چلاتی، ای میل بھی کرتی اور ایس ایم ایس بھی بھیجتی نظر آتی ہے۔ اسے اپنی بیوی بالکونی میں بھی کھڑی دکھائی دیتی  اور کبھی چھت پر جاتی نظر آتی ہے۔ اب اسے یہ  خیال  آتا ہے کہ کسی طرح بیوی کی جاسوسی کرے۔ اس جاسوسی میں  کوئی نہ کوئی ایسی بات مل سکتی ہے جو شک کو قوی کردے۔ اس کے بعد اعتماد متزلزل ہونا شروع ہوجاتا ہے۔

بدگمانی کی اس کے علاوہ بھی بے شمار وجوہات ہوسکتی ہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ایک بدگمان شخص اس مفروضے پر سوچتا ہے کہ اس کی بیوی غلط راہوں پر جارہی ہے یہی اصل خرابی کی جڑ ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایک شخص کا شک درست ہوسکتا ہے لیکن اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ یہ شک غلط بھی ہوسکتا ہے۔چنانچہ عا م اصول کے تحت ہر شخص کو شک کافائدہ دینا چاہئے اور اسے اس وقت تک بے قصور سمجھنا چاہئے جب تک کہ اس کے قصور وار ہونے کے قوی ثبوت نہ مل جائیں۔

بدگمانی  کے کئی حل ہیں۔ اول تو بدگمانی جب بھی پیدا ہو تو اسے  پہلے مرحلے پر جھٹک دینا چاہئے۔اگر اس سے کام نہ بنے تو بدگمانی کی وجہ معلوم کرکے اس کا قلع قمع کرنے کی کوشش کرنا چاہئے۔  اگر شک بہت  قوی ہو تو اسے بات چیت کے  ذریعے ڈسکس کرلینا چاہئے۔ اس سے رشتے میں دراڑ کی بجائے مضبوطی پیدا ہوگی۔ اگر معاملہ اس سے بھی حل نہ ہو تو چند بزرگوں کو  بیچ میں ڈال کر سماجی دباؤ کے تحت کام کروایا جاسکتا ہے۔ اس کے باوجو بھی اگر  معاملہ حل نہ ہو تو کیا کریں؟ فرض کریں ایک شخص کی بیوی واقعی کسی دوسرے مرد میں دلچسپی رکھتی ہے تو جذبات سے قطع نظر ہوکر دیکھیں تو کیا کیا جاسکتا ہے اس معاملے کو خوش اسلوبی سے حل کریں اور حل نہ ہونے کی صورت میں خوش اسلوبی سے علحیدگی اختیار کرلیں۔

پروفیسر محمد عقیل