پروفیسرڈاکٹر محمد عقیل |

مسلمانوں کے ایمان اور اخلاق میں کمزوریوں کی جدید اندازمیں نشاندہی کرنااور اصلاح کے لئے سائنٹفک طرز پر حل تجویز کرنا اس سائٹ کے مقاصد ہیں۔۔۔۔۔۔۔قد افلح من زکھا۔

شب قدر اور فرشتوں سے متعلق اہم سوالات

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Friday Jun 23, 2017

شب قدر اور فرشتوں سے متعلق اہم سوالات
ڈاکٹر محمد عقیل
سورہ کا پس منظر کیا ہے؟
سورہ القدر کے مقام نزول پر اختلاف ہے کہ آیا کہ مکی سورۃ ہے یا مدنی۔ لیکن اس کا لہجہ بتاتا ہے کہ یہ مکہ کے آخری دور کی سورہ ہے۔اس سورہ میں دراصل تین اہم باتوں کو بیان کیا ہے۔ پہلا مضمون یہ کہ قرآن کا نزول اس رات میں ہوا ہے جس میں قوموں کی تقدیروں کے فیصلے ہوتے اور خدا کے منصوبوں کو پڑھنا جاری رکھیں »


درست عالم اور ڈاکٹرکا انتخاب

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Tuesday Aug 23, 2016

سوال : ایک انسان کس طرح کسی درست ڈاکٹر یا عالم کا انتخاب کرسکتا ہے ؟
جواب: آج سے چند سال قبل میری بیٹی جو اس وقت سات آٹھ سال کی ہوگی اس کے پیٹ میں درد اٹھا۔ ایک علاقے کی ڈاکٹر کو دکھایا تو اس نے کہا کہ اسے آپ ہاسپٹل لے جائیں۔ میں قریبی ہسپتال کے کر گیا تو ڈاکٹر نے بتایا کہ اپینڈکس ہے اور بس فوری آپریشن کرنا ہوگا اور بس ابھی سرجن صاحب آرہے ہیں اور آپریشن کروالیں۔ مجھے لگا کہ یہ ڈاکٹر بے وقوف بنا رہا ہے کیونکہ درد کی نوعیت ایسی معلوم نہیں ہورہی تھی۔ میں ایک اور ڈاکٹر کے پاس لے گیا جو بہت پرانے تھے اور تجربہ رکھتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ اپینڈکس کا کوئی ٹیسٹ نہیں ہوتا اور یہ صرف کلینکل ڈائگنوسس کی بنیاد پر ہی طے ہوتا ہے کہ اپینڈکس ہے یا نہیں۔ پھر انہوں نے خود چیک کیا اور مجھے بھی ہاتھ رکھ کر چیک کروایا کہ آنتوں کی نرمی بتارہی ہے اپینڈکس نہیں ہے ۔ انہوں نے دوا دی اور سب ٹھیک ہوگیا۔
یہاں دیکھا جائے تو میں میڈیکل کا بالکل علم نہیں رکھتا تھا ، صرف کامن سینس کی بنیاد پر میں نے کوشش کی اور درست ڈاکٹر تک پہنچ گیا۔ یہی رویہ عالم دین کے انتخاب میں بھی ہوتا ہے۔ ایک عالم دین جب کوئی مسئلہ بتاتا ہے تو اس کے ساتھ دلیل بھی دیتا ہے اور اگر نہیں دیتا تو دینا چاہیے۔اگر اس کی دلیل سمجھ آرہی ہے تو بہت اچھی بات ہے ۔ لیکن اگر کچھ شک ہے تو اس پر عمل کرنے سے قبل کسی دوسرے مکتبہ فکر کے عالم سے رائے لینے اور دلیل معلوم کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ دونوں کے دلائل سمجھنے کے لیے عالم دین ہونا لازمی نہیں ۔ جس طرح ہم دو ڈاکٹروں، دو دوکانداروں، دو ٹھیکیداروں اور دو اسکولوں کا انتخاب بخوبی کرلیتے ہیں اسی طرح درست رائے جاننا بھی کوئی مسئلہ نہیں۔
اب ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس طرح تو ہم عالم دین کے چکر ہی لگاتے رہیں گے اور ہمیں بیسیوں کام کرنے ہوتے ہیں تو اس کا جواب بہت سادہ ہے۔ ہمیں ڈاکٹروں کے پاس بھی اسی وقت جانا ہوتا اور موازنہ کرنا ہوتا ہے جب کوئی بڑا مسئلہ درپیش ہو۔ اور ایسا کبھی کبھار ہی ہوتا ہے۔ اسی طرح ہمیں دین کے ایسے مسائل کا سامنا بھی شاذو نادر ہی کرنا پڑتا ہے جب موازنہ کرنا پڑے ۔
یعنی جس طرح ہمارا کام یہ نہیں کہ روزانہ ہم ہسپتال میں یہ خاک چھانتے پھریں کہ کون سا ڈاکٹر صحیح ہے اور کون غلط۔ ایسے ہی ہم پر یہ فرض نہیں کہ ہر وقت صحیح اور غلط علما ہی تلاش کرتے رہیں۔ نہیں جب ضرورت پڑے تب تلاش کرلیں اور یہ کبھی کبھی ہی ہوتا ہے۔
پروفیسر محمد عقیل


دوسرے مسلک کے عالم سے رجوع

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Monday Aug 22, 2016

سوال : کسی دوسرے عالم دین سے رجوع کرنے کی صورت میں تو خواہش پرستی جنم لے گی؟
جواب: یہ ایک اشکال ہے کہ اگر ایک شخص کو مسلک اور عالم تبدیل کرنے کی اجازت دے دی جائے تو کیا خواہش پرستی جنم نہیں لے گی۔ یعنی ایک شخص نے اگر اپنی بیوی کو ایک ساتھ تین طلاقیں دے دیں تو حنفی مسلک کے تحت طلاق واقع ہوگئی۔ لیکن وہ حنفی مسلک کے عالم سے مطمئین نہیں ہوتا کیونکہ اس کا مسئلہ حل ہوتا دکھائی نہیں دے رہا تو وہ اہل حدیث کے پاس جاتا ہے جہاں اسے بتادیا جاتا ہے کہ یہ تین طلاقیں ایک ہیں اور وہ اپنی بیوی سے تعلق قائم کرسکتا ہے۔
ا س کا جواب یہ ہے کہ جو لوگ خواہش پرست ہوتے ہیں وہ تو عام طور پر ویسے بھی دین کی حددود قیود کا خیال نہیں رکھتے۔لہٰذا اس بنیاد پر تقلید جامد کو فروغ دینا مناسب نہیں۔نیز اگر کسی نے خواہش کی بنیاد پر کسی مسئلے کو ماننے یا رد کرنے کا فیصلہ کر ہی لیا ہے تو وہ تو اس پابندی کو بھی نہیں مانے گا کہ کسی دوسرے مسلک کے عالم سے پوچھنا جائز نہیں ہے،
اس کے علاوہ ایسے مسائل بہت کم ہوتے ہیں جس میں انسان خواہش کی بنا پر کوئی فیصلہ کرتا ہے۔ اکثر مسائل میں ایک صالح مسلمان کی یہی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی بتائی ہوئی بات تک پہنچ جائے۔ بہرحال کسی کو خواہش پرستی سے روکنے کے لیے سب کو اندھی تقلید پر مجبور کرنا مناسب نہیں۔
پروفیسر محمد عقیل


ڈاکٹر اور عالم سے علمی اختلاف

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Monday Aug 22, 2016

سوال۔ کیا ڈاکٹر اور عالم سے ایک عام انسان علمی اختلاف کرسکتا ہے جبکہ اس کے پاس خود علم نہیں؟
جواب: آج سے بیس سال قبل پاکستان میں میڈیکل ڈاکٹروں کا رویہ یہ ہوتا تھا کہ وہ مریض کو بہت کم باتیں بتاتے تھے اور خاموشی سے اسے دوائیں تجویز کردیتے۔وہ مرض کے بارے میں تفصیل سے مریض کو نہیں سمجھاتے تھے اور نہ ہی اپنی تشخیص کے دلائل دیتے تھے۔ چنانچہ ان کی اندھی تقلید کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔ آج صورت حال مختلف ہےاب مریض ڈاکٹروں سے اس مرض کی تفصیل جاننا چاہتا اور اپنے مرض کی تشخیص پر اطمینان بخش جواب چاہتا ہے۔ چنانچہ آج مریض کو اچھے ڈاکٹر مرض کے بارے میں بھی بتاتے اور اس کے ٹیسٹ کی رپورٹ ثبوت کے طور پر اسے دیتے اور اسے مطمئین کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مریض مطمئین نہ ہو تو کسی بھی دوسرے داکٹر کے پاس جاسکتا ہے ۔
علمائے دین کا معاملہ بھی یہی ہونا چاہیے۔ جب کسی عالم سے کوئی مسئلہ دریافت کیا جائے تووہ پوچھنےوالے کو اپنی رائے بھی بیان کرے اور اس کے ساتھ ساتھ آسان الفاظ میں اس کے دلائل بھی پیش کرے۔ سوال پوچھنے والا اگر مطمئین نہ ہو تو اسے سمجھائے کہ اس نے یہ رائے کیوں اختیار کی۔ اگر سوال پوچھنے والا مطمئین نہ ہو تو وہ کسی دوسرے عالم دین کی جانب رجوع کرسکتا ہے۔
تو حتمی جواب یہ ہے کہ عالم دین سے ٹیکنکل معاملے میں اختلاف کرنے کے لیےتو عالم ہونا ضروری ہے لیکن عالم کی بات سمجھنے کے لیے اور اس کی پیش کردہ دلیل سے مطمئین ہونے کے لیے عالم ہونا لازمی نہیں۔ ایک عام پڑھا لکھا شخص یہ کام کرسکتا ہے۔ دلیل سے مطمئین کرنا عالم کا کام ہے اور اس کا بنیادی فرض ہے۔
پروفیسر محمد عقیل


تنہائی، غصہ اور ڈپریشن

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Thursday Jun 2, 2016

سوال: میں بہت تنہائی محسوس کرتی ہوں۔ مجھے بہت غصہ آتا ہے۔ غصے سے اندر ہی اندر کڑھتی رہتی ہوں ۔ دو دن غصہ رک جاتا ہے۔ تیسرے دن میں کنٹرول نہیں کرسکتی۔ غصہ مجھ پراتنا حاوی ہوجاتا ہے کہ میں اس سے لڑ نہیں سکتی۔ پھر میں بہت روتی ہوں۔ اور اس تیسری رات میں سو بھی نہیں پاتی۔ دم گھٹنے لگتا ہے۔ دل پر بوجھ محسوس ہوتا ہے۔ جیسے دل بند ہوجائے گا ۔ کوئی بات یاد آجائے تو ساری رات کیا، کیوں اور کیسے ہوا سوچتے ہوئے گزرجاتی ہے۔ سوچیں میرے دماغ سے نکلتی نہیں ہیں۔ جب سے میرا پالتو طوطا میری غلطی کی وجہ سے مر گیا ہے میں مزید ڈپریش کا شکار ہو چکی ہوں ۔میری امی مجھے اکثر کہتی تھیں اور ابھی بھی انکا یہی خیال ہے کہ میں ذہنی مریض ہوں۔ اب مجھے بھی یہی محسوس ہوتا ہےکہ واقعی میں مینٹلی ٹھیک نہیں ہوں۔ ایک مہینے سے دماغ نے ساتھ دینا بالکل چھوڑ دیا ہے۔ مجھے کسی سے کوئی شکایت نہیں سب ٹھیک ہیں بس میں ٹھیک نہیں ہوں۔ یہ جانتے ہوئے بھی میں اس کیفیت کو کنٹرول نہیں کرپاتی ۔ لوگوں کی تنقید سے اور برا محسوس کرتی ہوں۔سب کچھ برا ہے میرے ساتھ۔۔میری شادی ہونے والی ہے مگرلگتا ہے سب کچھ مل کے بھی خالی ہاتھ ہوں۔ کبھی میرا دل کرتا ہے باہر جاؤں ۔۔فرینڈز کے ساتھ گھوموں باتیں کروں اور کبھی بالکل تنہا رہنے کا دل کرتا ہے جہاں کوئی نہ ہو۔۔میں بہت ڈپریش میں ہوں ۔۔مدد چاہیے۔
جواب:آپ کے سوال میں بہت سی الجھی ہوئی سوچیں اور بے ربط خیالات ہیں۔۔دیکھیں آج دنیا میں بے شمار لوگوں کو آپ سے ملتے جلتے مسائل کا سامنا ہے یعنی گھر میں توجہ نہ ملنا،جسمانی خوبصورتی نہ ہونا،تنہائی،کسی عزیز کا بچھڑ جانا۔۔۔اور اپنی ناکامیوں پر مزید مایوس کن خیالات کی بھرمار۔۔۔لیکن اصل بات یہ مسائل نہیں بلکہ ان مسائل پر ہمارا ردعمل ہے۔ آج دنیا میں شاید ہی کوئی انسان ہو جو کسی نہ کسی پریشانی کا شکار نہ ہو۔ آپ بالکل بھی ذہنی مریض نہیں صرف آپ میں قوت ارادی کی کمی اور زود حسی ہے۔یہ سب مسائل حل طلب ہیں اگر آپ ان کے آگے خود کو بےبس سمجھ کر ہتھیار نہ پھینکیں بلکہ مثبت سوچوں اور مثبت رویے کے ساتھ ان کا مقابلہ کریں۔یقین مانیں اگر آپ انہی لایعنی قسم کی سوچوں کے ساتھ زندگی بسر کرنا چاہتی ہیں تو دنیا کا کوئی بھی انسان آپ کی مدد نہیں کر سکتا ، نہ کوئی ہینگ آؤٹ اور نہ ہی کوئی دوست۔۔
اللہ نے ہر انسان کو اس کی ضروریات کے مطابق بے شمار نعمتوں اور صلاحیتوں سے نوازا ہے اور جن چیزوں سے محروم رکھا ہے یہ بھی اس کے لا محدود علم اور مصلحت کے تحت ہے جس کو ہمارا محدود ذہن نہیں سمجھ سکتا۔ مگر ہم اپنی اپنی محرومیوں کو خود پر اسقدر حاوی کر لیتے ہیں کہ اپنی صلاحیتوں کو استعمال ہی نہیں کر پاتے اور ان بے شمار نعمتوں کو سرے سے نظر انداز کر دیتے ہیں جو ہمیں حاصل ہیں بغیر ہماری کسی کوشش کے۔
اب آپ کی مرضی کے مطابق آپ کی شادی ہونے والی ہے۔یہ آپ کے پاس اپنی زندگی کو نارمل کرنے کا سنہری موقع ہے،اب اگر آپ نے خود کو کنٹرول نہ کیا تو آگے بھی خدا نہ کرے ،سوائے مسائل کے،کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔میرا مشورہ ہے کہ:
۔اپنے گھر والوں کے رویے کو یہ سمجھ کر نظر انداز کر دیں کہ وہ آپ کی کمزوریوں کو دور کرنے کے لیے ایسا کرتے ہیں ۔ بے شک ان کا طریقہ کار غلط ہے مگر ان کی نیت ہو سکتا ہے درست ہو، ان کی باتوں پر کڑھنے کی بجائے برداشت اور حوصلے کے ساتھ کوشش کریں کہ محبت کا برتاؤ کریں۔
۔آپ کو کسی مثبت ذہنی اور جسمانی سرگرمی کی شدید ضرورت ہے مثلاً اچھی کتابوں کا مطالعہ ،ہلکی پھلکی ورزش وغیرہ۔
۔دوسروں سے زیادہ توقعات وابستہ مت کیجئے۔ یہ فرض کر لیجئے کہ دوسرا آپ کی کوئی مدد نہیں کرے گا۔ بڑی بڑی توقعات رکھنے سے انسان کو سوائے مایوسی کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
۔خوشی کی چھوٹی چھوٹی باتوں پر خوش ہونا سیکھئے اور بڑے سے بڑے غم کا سامنا مردانہ وار کرنے کی عادت ڈالئے۔
۔اللہ کے ساتھ تعلق بنانے کی کوشش کریں،اپنی چھوٹی بڑی ہر بات اس کے سامنے کریں اس یقین کے ساتھ کہ وہ قادر مطلق ضرور سنتا ہے۔۔یقین مانیں دل پرسکون ہو جاتا ہے۔۔
ان تمام طریقوں سے بڑھ کر سب سے زیادہ اہم رویہ جو ہمیں اختیار کرنا چاہئے وہ رسول اللہ ﷺ کے اسوہ حسنہ کے مطابق اللہ تعالیٰ کی ذات پر کامل توکل اور قناعت ہے۔ توکل کا یہ معنی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہا جائے۔ اس کا انتہائی معیار یہ ہے کہ انسان کسی بھی مصیبت پر دکھی نہ ہو بلکہ جو بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو ، اسے دل و جان سے قبول کرلے۔ ظاہر ہے عملاً اس معیار کو اپنانا ناممکن ہے۔ اس لئے انسان کو چاہئے کہ وہ اس کے جتنا بھی قریب ہو سکتا ہو، ہو جائے۔
آپ نے جس خیالی دنیا کا ذکر کیا ہے ، یقیناً وہ دنیا انسان کو ملے گی۔بس ہمیں خود کو اس کا اہل ثابت کرنا ہے اور وہ دنیا کا سکون بھی ہو سکتا ہے اور آخرت کا ہمیشہ کا آرام بھی۔ کیا ہی اچھا ہو اگر ہم یہ سوچیں کہ دنیا کی اس چند روزہ زندگی سے ہم نے اپنی آخرت کا سامان کیسے اکٹھا کرنا ہے؟؟یہ مشکل تو ہو گا مگر اس کے بعد ہمیشہ کا سکون مقدر بن سکتا ہے۔۔
اللہ آپ کو قوت برداشت اور ہمت دے کہ آپ خود کو بدلنے میں کامیاب ہو سکیں۔۔آمین
از: راعنہ نقی سید


اللہ کے رزق کی فراہمی پر سوالات

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Sunday Apr 3, 2016

اللہ کے رزق کی فراہمی پر سوالات

قرآن میں رزق کی فراہمی سے متعلق کئی آیات موجود ہیں لیکن سب سے اہم اور فیصلہ کن آیت یہ ہے:

وَمَا مِنْ دَاۗبَّةٍ فِي الْاَرْضِ اِلَّا عَلَي اللّٰهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَــقَرَّهَا وَمُسْـتَوْدَعَهَا  ۭ كُلٌّ فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ        Č۝

زمین میں چلنے والا کوئی جاندار ایسا نہیں جس کا رزق اللہ کے ذمےنہ ہو ۔ وہ اس کی قرار گاہ کو بھی جانتا ہے اور دفن ہونے کی جگہ کو بھی۔ یہ سب کچھ واضح کتاب  (لوح محفوظ) میں لکھا ہوا موجود ہے۔ (ہود ۶:۱۱)

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے رزق کی فراہمی سے کیا مراد ہے؟ اوپر والی آیت کو اگر دیکھا جائے تو علم ہوگا کہ اللہ نے ہر جاندار کا رزق اپنے ذمے لیا ہے  اور اس سے بظاہر یہ نتیجہ بھی نکلتا ہے کہ کوئی ذی روح کم از کم رزق کی عدم فراہمی کی بنا پر نہیں مرسکتا ۔ پہلے ان آیات کو اس کے سیاق سباق کے ساتھ دیکھتے ہیں ۔ یہ سورہ ہود کی چھٹی آیت ہے جس سے قبل یہ مضمون چل رہا ہے:

ا ل ر۔ فرمان ہے 1 ، جس کی آیتیں پختہ اور مفصّل ارشاد ہوئی ہیں 2 ، ایک دانا اور باخبر ہستی کی طرف سے،

کہ تم نہ بندگی کرو مگر صرف اللہ کی ۔ میں اس کی طرف سے تم کو خبردار کرنے والا بھی ہوں اور بشارت دینے والا بھی ۔

اور یہ کہ تم اپنے رب سے معافی چاہو اور اس کی طرف پلٹ آؤ تو وہ ایک مدّتِ خاص تک تم کو اچھا سامانِ زندگی دے گا 3 اور ہر صاحب فضل کو اس کا فضل عطا کرے گا ۔ 4 لیکن اگر تم منہ پھیرتے ہو تو میں تمہارے حق میں ایک بڑے ہولناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں ۔

تم سب کو اللہ کی طرف پلٹنا ہے اور وہ سب کچھ کر سکتا ہے ۔

دیکھو ! یہ لوگ اپنے سینوں کو موڑتے ہیں تاکہ اس سے چھپ جائیں ۔5 خبردار ! جب کہ کپڑوں سے اپنے آپ کو ڈھانپتے ہیں، اللہ ان کے چھپے کو بھی جانتا ہے اور کھلے کو بھی، وہ تو ان بھیدوں سے بھی واقف ہے جو سینوں میں ہیں ۔

زمین میں چلنے والا کوئی جاندار ایسا نہیں ہے جس کا رزق اللہ کے ذمّے نہ ہو اور جس کے متعلق وہ نہ جانتا ہو کہ کہاں وہ رہتا ہے اور کہاں وہ سونپا جاتا ہے، 6 سب کچھ ایک صاف دفتر میں درج ہے ۔

اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا۔۔۔۔ جبکہ اس سے پہلے اس کا عرش پانی پر تھا 7 ۔۔۔۔۔۔ تاکہ تم کو آزما کر دیکھے تم میں کون بہتر عمل کرنے والا ہے ۔8 اب اگر اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)، تم کہتے ہو کہ لوگو، مرنے کے بعد تم دوبارہ اٹھائے جاؤ گے تو منکرین فوراً بول اٹھتے ہیں کہ یہ تو صریح جادوگری ہے ۔9

اور اگر ہم ایک خاص مدّت تک ان کی سزا کو ٹالتے ہیں تو وہ کہنے لگتے ہیں کہ آخر کس چیز نے اسے روک رکھا ہے ؟ سنو ! جس روز اس سزا کا وقت آگیا تو وہ کسی کے پھیرے نہ پھر سکے گا اور وہی چیز ان کو آگھیرے گی جس کا وہ مذاق اڑا رہے ہیں ۔ ؏١

سور ہ ہود آیات نمبر ۱ تا ۸

ان آیات پر اگر تدبر کیا جائے تو پہلی آیت میں کفار مکہ کو یہ بتایا جارہا ہے کہ یہ قرآن  کی آیات جس ہستی کی جانب سے نازل کی گئی ہیں وہ لامتناہی طورپر ایک حکیم یعنی دانا اور لامتناہی طور پر باخبر ہستی ہے۔ اگلی دو آیات میں بتایا ہے کہ صرف اسی کی بندگی کرو۔ اگر ایسا کروگے تو دنیا کا سامان  زندگی   بہترین انداز میں عطا کیا جائے گا اگر ایسا نہ کروگے تو  اس زندگی سے عذاب کے ذریعے محروم کردئیے جاؤگے۔ معاملہ یہاں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ تم ایک دن دوبارہ زندہ کئے جاؤگے اور وہاں تمہیں دوبارہ اسی ہستی کے سامنے کھڑا کردیا جائے گا جو کوئی کمزور نہیں بلکہ ہر شے پر قادر ہے۔  اگلی آیات میں   اللہ کی  ا نہی صفات کی تشریح ہے  جو پہلی آیت اور چوتھی آیت میں بیان ہوئیں یعنی  وہ حکیم ہے، خبیر ہے اور قدیر ہے۔چنانچہ پانچویں آیت میں اللہ خبیر ہے اس صفت کی تشریح ہے کہ وہ کھلے اور چھپے سب کو جانتا ہے۔  چھٹی آیت جو اصل  زیر بحث آیت ہے اس میں یہی قدرت کا بیان ہے کہ تمہارا واسطہ جس ہستی سے ہے وہ کوئی معمولی ہستی نہیں، اسی کے ذمے پوری کائنات کے جانداروں کے رزق کی فراہمی ہے ۔ پھر دوبارہ اس کے علم کا بیان ہے کہ وہ کہاں ٹہرے گا اور کہاں سونپا جائے گا اور یہ سب کچھ ایک کتاب مبین میں ہے۔اگلی دو آیات اللہ کی اسی قدرت کا بیان ہیں کہ وہ قادر ہے کہ تمہیں سزا دے، اگر اس نے اپنی حکمت کے تحت ابھی تک عذاب نہیں دیا تو اس تاخیر کو اس کی کمزوری مت سمجھو وغیرہ ۔

اس روشنی میں ایک مرتبہ پھر اوپر کی ایات کو پڑھ لیں۔

سوالات

۱۔اس آیت کے مطابق کیا رزق کی فراہمی سے مراد یہ ہے کہ کوئی جاندار غذائی قلت سے نہیں مرسکتا؟

اس سیاق سباق کے بعد ایک مرتبہ پھر آپ اوپر بیان کی گئی ساری آیات پڑھ لیں اور خاص طور پر آیت نمبر چھ میں  تو  رزق کی فراہمی اللہ کی قدرت کا بیان ہے ۔ یعنی یہاں اللہ نے یہ نہیں فرمایا کہ ہر جاندار کا رزق اللہ نے فراہم کرنا ہے اس لئے نہ کسی بستی میں قحط پڑ سکتا ، نہ کوئی بھوک سے مرسکتا، نہ کوئی سوسائٹی قلت غذا کا شکار ہوسکتی اور نہ کسی قوم کا خاتمہ رزق ہے عدم فراہمی سے ہوسکتا ہے۔ غور سے ایک مرتبہ پھر ان چھ آیات کو پڑھ لیں تو اس قسم کا کوئی نتیجہ نہیں نکل سکتا۔ البتہ جونہی ہم اس آیت کو سیاق و سباق سے کاٹتے ہیں تو یوں لگتا ہے کہ قرآن رزق کی فراہمی کا غیر مشروط  دعوی کررہا ہے ۔ اس کے بعد ضمنا وہ سوالات وارد ہوسکتے ہیں جو اوپر بیان کئے گئے۔چنانچہ ان آیات کو سیاق و سباق میں رکھ کر ہی سمجھا جانا چاہئے وگرنہ غلط نتائج نکل سکتے ہیں۔

۲۔ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس آیت میں رزق کی فراہمی سے کیا مراد ہے ؟

رزق کی فراہمی سے سادہ طور پر مراد یہ ہے کہ اللہ نے جس طرح   اس کائنات میں جاندار پیدا کرکے یونہی نہیں  چھوڑدئیے بلکہ ا ن کے رزق کی فراہمی کا پورا سامان رکھ دیا،  پورا بندوبست کردیا اورسارے اسباب مہیا کردئیے۔ گویا یہاں رزق کی فراہمی کا ایک عمومی بیان ہے کہ انسان ، جانور چرند ، پرند، آبی مخلوق، پودے ، کیڑی مکوڑے سب کے لئے یہ سامان رزق انکی ضروریات کے مطابق موجود ہے۔ البتہ یہاں مخصوص کرکے یہ بات بیان نہیں کی جاسکتی  کہ پھر قحط زدہ علاقے میں اسلم ، احمد یا اکرم نامی اشخاص کیوں بھوک سے مرگئے؟ یہ ایک جنرل بیان ہے اسے تخصیص سے بیان نہیں کیا جاسکتا۔

۳۔ ایک اور سوال یہ کہ  رزق کی فراہمی  کیا غیر مشروط ہے یا مشروط ہے؟

رزق کی فراہمی مکمل طور پر مشروط عمل ہے ۔ چنانچہ ایک کسان کو رزق اس وقت ملے گا جب وہ ہل چلا کر بیج بوئے گا اور پانی سے فصل کی آبیاری کرے گا۔ ایک مزدور کو رزق اس وقت ملے گا جب وہ محنت کرے گا۔ ایک   بزنس مین رزق اس وقت کمائے گا جب وہ کاروبار کرے گا وغیرہ۔

یہ شرط مختلف مخلوق اور حالات کے لئے مختلف ہے۔ چنانچہ دیکھیں جب ایک بچہ اپنی ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے تو وہاں اس بچے سے یہ تقاضا نہیں کیا گیا کہ وہ ایک مزدور کی طرح محنت کرے اور روزی کمائے۔اس کا رزق از خود ماں کی ناف کے ذریعے اس کے جسم میں پہنچ رہا ہے۔لیکن جونہی وہ بچہ ماں کے پیٹ سے باہر آتا ہے تو اب فریم آف ریفرینس بدل گیا۔ اب ناف کو کاٹ دیا جاتا ہے۔ اب اس بچے کو رزق کی فراہمی ماں کے دودھ کے ذریعے کی جاتی ہے گویا اب اس بچے کو رزق فراہم کرنے کی شرائط بدل گئیں۔جب بچہ بڑا ہوتا ہے تو اب ماں کی چھاتیوں سے دور کردیا جاتا ہے اور اب رزق اسے ہاتھوں کے ذریعے کھانا ہے۔اگر ایک بارہ سال کا بچہ ہاتھ سے کھانے سے انکار کردے اور غذا کا فراہمی کا اسی طریقے سے مطالبہ کرے جو ماں کے پیٹ میں میسر تھا تو وہ اپنے فریم آف ریفرینس کی شرط پوری نہیں کررہا۔ یوں وہ رزق سے محروم رہے گا۔گویا رزق تو دستیا ب  ہے لیکن اس کا حصول  کوشش سے مشروط ہے۔

۴۔ اگر کوئی بھوک سے مرجاتا ہے تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے رزق کی فراہمی کا وعدہ پورا نہیں کیا؟

نہیں اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں۔ جیسا کہ اوپر بتایا کہ رزق کی فراہمی سے مراد رزق کا بندوبست کرنا اور اس کے اسباب مہیا کردینا ہے ۔ لیکن اللہ نے کسی کو آزمانا ہے یا کسی کو موت دینی ہے تو اس کے جس طرح کئی طریقے ہیں تو ایک طریقہ بھوک، افلاس اور قحط بھی ہے۔

۵۔ افریقہ یا تھر اور دیگر ممالک میں غذائی قلت کو دور کرنا کس کی ذمہ داری ہے  اور اس کے کیا اسباب ہیں؟

غذائی قلت کے کئی مادی اسباب ہوسکتے ہیں جیسے غلط پلاننگ، ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا، امیر ممالک کا استحصال، دولت کی غیر منصفانہ تقسیم، آسمانی آفات وغیرہ۔ چنانچہ اللہ نے تو تمام اسباب مہیا کردیا اب یہ کام انسان کا ہے کہ وہ اس سے کس طر ح مستفید ہوتا ہے۔

بعض اوقات غلطی حکومت کی ہوتی ہے  لیکن اس کی سزا غریبوں کو ملتی ہے ۔ اسی طرح امیر  لوگ لالچ کرکے  دولت اپنے ہاتھوں میں رکھ لیتے ہیں لیکن اس کی سزا غریبوں کو ملتی ہے۔ اس کا سبب یہی ہے کہ امیر شکر کے امتحان میں ہیں اور غریب صبر کے امتحان میں۔ آخرت میں غریبوں کو اپنے ساتھ کی گئی زیادتی کا پورا بدلہ مل جائے گا  اور امیروں کو اپنے کئے کا بدلہ مل جائے گا انشاءاللہ

۶۔سوال یہ ہے کہ آزمائش تو انسانوں کے لئے ہے تو بچے، جانور اور پودے کیوں اس غذائی قلت کی بنا پر تکلیف میں آتے اور مرجاتے ہیں؟

وہ تمام مخلوق جن پر آزمائش نہیں ان میں جمادات نبادات ، حیوانات  اور غیر ذی شعور مخلوق  آتی ہے۔اس مخلوق کو اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کے تحت پیدا کرتے اور اسی حکمت کے تحت ختم کردیتے ہیں۔ اس ختم کرنے کے طریقے میں ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ بھوک یا غذا کی عدم فراہمی کے ذریعے ان کا خاتمہ کیا جائے۔ اس طرح  کا خاتمہ انسانوں کے لئے نا صرف بڑی آزمائش کا ذریعہ بنتا ہے بلکہ ان کے ضمیر کوجھنجھوڑنے   کا بھی سبب ہوتا ہے۔رہی بات اس تکلیف کی جو ان جانوروں یا بچوں کو ہوتی ہے تو ہم حتمی طور پر ایسا نہیں کہہ سکتے کہ انہیں واقعی وہ تکلیف ہوتی ہے یا نہیں۔جیسے ایک بکرے کی گردن پر چھری پھرنے کے چند سیکنڈ بعد ہی اس کا شعور سے رابطہ منقطع ہوجاتا ہے البتہ وہ بکرا تڑپتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ بالکل ایسے ہی عین ممکن ہے کہ اس مخلوق کےساتھ بھی ہوتا ہو۔ واللہ اعلم بالصواب

۷۔ اس غذائی قلت کو دور کرنے کے لئے اسلام کیا حل پیش کرتا ہے؟

اسلام میں دولت کی منصفانہ تقسیم کا ایک نظام موجود ہے۔ امیروں پر انفاق کے لئے کم از کم حد زکوٰۃ اور عشر ہے۔ اس کے بعد انفا ق کی بے تحاشہ ترغیب دی گئی ہے کہ یہ تم سے پوچھتے ہیں کتنا خرچ کریں تو کہہ دو جو ضرورت سے زیادہ ہو وہ خرچ کردو(البقرہ)۔ اسی طرح کئی احادیث میں کہا گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابوذر جب تو سالن پکائے تو اس کے شوربہ کو زیادہ کر لے اور اپنے پڑوسی کی خبر گیری کر لے۔(مسلم)۔ یہاں ممالک کے پڑوسی دوسرے ممالک ہیں۔اس کے علاوہ پروگریسو ٹیکس کے ذریعے بھی اس مسئلے کو دیکھا جاسکتا ہے۔

ھذا ماعندی والعلم عنداللہ

پروفیسر محمد عقیل

 

 

 

 

 

 


زلزلہ پر کچھ سوالات

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Thursday Mar 10, 2016

زلزلہ پر کچھ سوالات

از پروفیسر محمد عقیل

تحریر ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے

https://drive.google.com/open?id=0B6YkBK5vWD-tOVdIVDR4eGJLMlk


نفس قابو کیوں نہیں ہوتا؟

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Saturday Dec 19, 2015

نفس قابو کیوں نہیں ہوتا؟

سوال: اگر انسان میں نفس رکھا گیا ہے اور اسے قابو کرنے کی طاقت بھی دی گئی تو
پھر کبھی کبھی ہم سے نفس قابو کیوں نہیں ہوتا؟

جواب: دیکھیں پہلے تو نفس کے بارے میں ایک غلط فہمی دور کرلیں۔ نفس سے مراد ہماری شخصیت ہے۔ اس شخصیت کے اچھے اور برے پہلو ہوتے ہیں ۔ ہمارا امتحان یہی ہے کہ برے پہلووں کو اچھا بنائیں۔ اسی برے پہلو کو نفس امارہ کہا جاتا ہے۔ نفس ہم سے قابو ہوتا ہے، البتہ بعض اوقات کچھ بری عادتیں ، سوچیں ، خیالات یا وساوس دیر سے جاتے ہیں اور ان پر محنت کرنی پڑتی ہے۔ یہی نفس کا امتحان ہے۔ بس ہمت نہیں ہارنی چاہئے اور چلتے رہنا چاہئے۔ ایک وقت آتا ہے کہ اللہ خود ہمارا نفس ہمارے قابو میں دے دیتے ہیں لیکن محنت ، حوصلہ اور صبر شرط ہے۔
از پروفیسر محمد عقیل


جادو اور نفسی علوم کی نوعیت

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Wednesday Oct 28, 2015

جادو اور نفسی علوم کی نوعیت
پروفیسر محمد عقیل

جادو ،سحر یا نفسی علوم کی حقیقت کیا ہے؟
ہمیں سحر کی نوعیت کو مختصرا جان لینا چاہئے۔کچھ اسکالرز درست طور پر بیان کرتے ہیں کہ جس طرح اللہ نے انسان کو مادی علوم دیے ہیں اسی طرح نفسی یا روحانی علوم بھی دیے ہیں۔ میری دانست میں مادی علوم اپنی ذات میں حرام نہیں بلکہ ان کا حصول اور استعمال انہیں حرام بناتا ہے۔ بالکل ایسے ہی نفسی یا روحانی علوم اپنی ذات میں حرا م نہیں بلکہ ان کے حصول کا طریقہ اور استعمال انہیں ناجائز بناتا ہے۔
نفسی علوم حرام ہیں یا حلال؟
نفسی علوم کو دو حصوں میں منقسم کیا جاسکتا ہے ایک وہ جو جائز ہیں اور دوسرے وہ جو ناجائز ہیں۔جائز نفسی علوم کو عام طور پرپیراسائکولوجی، روحانی علوم، ہپناٹزم، ٹیلی پیتھی وغیرہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ جبکہ ناجائز نفسی علوم کو جادو، سحر، سفلی علم ، کالا علم وغیرہ سے موسوم کیا جاتا ہے۔
نفسی علوم دووجوہات کی بنا پر ناجائز ہوتے ہیں۔ایک تو ان کے حصول کا طریقہ اور دوسرا ان کے استعمال کا طریقہ۔ اگر کوئی نفسی علم شیطانی قوتوں سے مدد لے کر حاصل کیا جائے تو ناجائز ہے۔ ماہرین کے مطابق کہ جنات میں موجود شیاطین انسان کو مدد فراہم کرتے ہیں اور اس کے بدلے میں وہ انسان سے شرک کرواتے ، اپنی پوجا کرواتے، اپنے کسی دیوی یا دیوتا کی پوجا کراتے ، کسی انسان کو قتل کراتے یا کسی اور گناہ کبیرہ کا ارتکاب کراتے ہیں۔ چونکہ اس علم کا حصول شرک و کفر پر مبنی ہے اسی لئے اس علم کو حرام قرار دیا گیا ہے۔
نفسی علوم کی دوسری قسم اپنی ذات میں جائز ہے انہیں ہم جائز نفسی علوم یا پیراسائکوکولوجی کہہ سکتے ہیں۔ ان کے جائز ہونے کی وجہ ان کا حصول کا طریقہ ہے۔ ان کے حصول میں کسی شیطانی قوت یا شرک کی آمیزش نہیں ہوتی۔ یا تو اس علم جائز مذہبی روایات سےاخذ کیا جاتا ہے یا پھر نیوٹرل طریقہ لیا جاتا ہے جس پر کوئی شرعی یا اخلاقی قدغن نہیں۔ البتہ یہ علم اس وقت ناجائز ہوجاتا ہے جب اس سے غلط قسم کے مقاصد حاصل کیے جائیں جیسے کسی کو قتل کرادینا، کسی کو ایذا پہنچانا وغیرہ۔
نفسی علوم کی کیا حدود ہیں؟
اس بارے میں ہمیں اطمینا ن رکھنا چاہیے کہ نفسی علوم خواہ کسی بھی نوعیت کے ہوں ، ان کا اثر محدود ہوتا ہے۔ کچھ نفسی علوم محض آنکھوں کو دھوکا دے کر اپنا کام کرتے ہیں، کچھ کسی اور ذریعے سے۔ لیکن ان کا ثر اتنا ہی محدود ہوتا ہے جتنا ماد ی علوم کا۔ مثال کے طور پر انسان ٹیکنالوجی کی مدد سے آج ہوائی جہاز تو بنا سکتا ہے لیکن اس کی اپنی محدودیت ہے۔ یعنی ایسا نہیں کہ یہ جہاز ایک مخصوص اسپیڈ سے زیادہ تیز اڑے جیسے لائٹ کی اسپیڈ، یا یہ بغیر رن وے کے اڑ پائے ، یا بنا ایندھن چلے یا لوہے کی بجائے کاغذ کا بن جائے یا کروڑوں لوگوں کو ایک ساتھ اپنے اندر سمولے۔ بالکل اسی قسم کی محدودیتیں نفسی علوم میں بھی ہوتی ہیں۔
نفسی علوم کے ذریعے کوئی دنیا فتح نہیں کرسکتا اگر ایسا ہوتا تو دنیا پر جادوگروں اور پیراسائکلوجی کے ماہرین کا راج ہوتا۔ نفسی علوم کے ذریعے کوئی انسان کو جانور اور جانور کو کسی اور شکل میں تبدیل نہیں کرسکتا ورنہ جادوگر اپنے دشمنوں کو نہ جانے کیا بناچکے ہوتے۔ ان کے ذریعے دولت کو اٹھا کر ایک جگہ سے دوسری جگہ نہیں لے جاسکتا ورنہ سارے کالے علم کے ماہر اپنے گاہک تلاش کرنے کی بجائے یہی کام کررہے ہوتے اور آج سب سے زیادہ مالدار ہوتے۔ ان علوم کے ذریعے مادے کی ہیت نہیں بدلی جاسکتی ورنہ دنیا کی ساری مٹی سونا ہوچکی ہوتی اور کاریں یا دیگر چیزیں سائنس دان نہیں جادوگر بنارہے ہوتے۔ جادو اور سحر کی محدودیت کو اسی طرح کامن سینس اور مشاہدے کی بنیاد پر چیک کیا جاسکتا ہے۔
سحر یا نفسی علوم کا طریقہ واردات کیا ہے؟
نفسی علوم دو یا تین طریقوں سے کام کرتے ہیں لیکن سب کا اثر انسان کی نفسیات پر پڑتا ہے۔ ایک طریقہ موکل کے ذریعے عمل میں آتا ہے۔ اس میں ہمزاد یا جنات کو اپنا تابع یا دوست بنا کر کام کیاجاتا اور ان سے اپنا کام کرایا جاتا ہے۔ یہ جنات لوگوں کی نفسیات پر حملہ کرتے، انہیں ڈراتے ،دھکماتے ، مختلف روپ میں آتے ، انہیں ٹیلی پتھی کی ذریعے اپنے شیطانی خیالات سے پریشان کرتے ہیں تاکہ اپنے وکیل کے مذموم مقاصد پورا کرسکیں۔ ان کو البتہ یہ اختیار نہیں ہوتا کہ کسی کی جان لے لیں۔ اگر ایسا ہوتا تو شیطان سب سے پہلے اللہ کے نیک بندوں اور داعیوں کو ہلاک کردیتا ۔ ان شریر جنات کا اثر زیادہ تر کمزور نفسیات رکھنے والے لوگوں پر ہوتا ہے جبکہ مضبوط نفسیات والے لوگ اس سے محفوظ رہتے ہیں۔ شیطان یا جنات کسی کو نفسیاتی طور پر مایوس کرکے خودکشی پر تو مجبور کرسکتا ہے لیکن براہ راست قتل کرنے کی طاقت اس میں نہیں۔
جادو کا دوسرا طریقہ کچھ غیب کی خبریں معلوم کرنا ہوتا ہے۔ قرآن کے مطابق اس کاا یک طریقہ تو یہ ہے کہ جب ملائے اعلی سے احکامات کا نزول ہوتا اور اوپر کے فرشتوں سے یہ بات نیچے زمین کے فرشتوں کو بتائی جارہی ہوتی ہے جو کچھ شریر جنات یہ باتیں سن لیتے ہیں۔ گوکہ انہیں مار کر بھگادیا جاتا ہے لیکن وہ کچھ باتیں الٹے سیدھے طریقے سے سن کر اپنے وکیلوں کو بتادیتے ہیں جن میں وہ دس جھوٹی باتیں ملاکر بات بیان کردیتا ہے۔
ایک ماہر کے مطابق اس کا دوسرا طریقہ کسی شخص کی نفسیات کوپڑھنا ہوتا ہے۔ ٹیلی پیتھی کے ذریعے شیاطین انسان کی موجودہ سوچ کو پڑھ سکتے ہیں ۔ یعنی ایک انسان اس وقت کیا سوچ رہا ہے اس کو شیاطین پڑھ کر اپنے وکیلوں کو بتاسکتے ہیں البتہ انہیں انسان کی ماضی کی سوچ کو جاننے کا اختیار اس وقت تک نہیں ہوتا جب تک کہ وہ انسان ان سوچو ں کو خیالات میں نہیں لاتا۔ لیکن یہ علم بھی بہت ادھورا ہوتا ہے کیونکہ ایک انسان کی کچھ وقت کی سوچ سے پورے معاملے کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔
کیا عامل صحیح علم رکھتے ہیں؟
ایک اندازے کے مطابق نوے پچانوے فی صد سے زائد عامل جعلی ہوتے یا ادھورا علم رکھتےاور عوام کی نفسیات سےکھیلتے ہیں۔
اس بات کا کس طرح پتا چلے گا کہ یہ علم جادو یعنی حرام عمل ہے یا ایک نفسی علم؟
اس کا بہت آسان جواب ہے۔اگر کوئی شخص یہ دعوی کرتا ہے کہ یہ کالا علم ہے تو اس کے پاس تو پھٹکنا بھی نہیں چاہیے۔ جو لوگ روحانی علم کے ذریعے علاج کا دعوی کرتے ہیں ان کے تعویذ وغیرہ کو کھول کر دیکھنا چاہئے ۔ اگر اس میں شیطانی کلمات لکھے ہوں یا ایسے کلمات ہوں جو ناقابل فہم ہوں تو فورا اجتناب برتنا چاہیے۔ اگر کوئی ایسا عمل ہو جس میں گندگی وغیرہ کی ہدایت ہو تو گریز کرنا چاہیے جیسے کچھ عملیات باتھ روم میں ہوتے ہیں، کچھ غلاظتوں پر۔
کیا روحانی علوم یعنی قرآن کے ذریعے علاج جائز ہے؟
سورہ فاتحہ دم وغیرہ کرنا، آیت الکرسی کے ذریعے حفاظت طلب کرنا، سورہ الفلق اور سورہ الناس کو جاد و کے توڑ کے لئے استعمال کرنا اور دیگر سورتوں سے علاج کرنا صحیح احادیث سے ثابت ہے۔ لیکن جیسا کہ ہم نے پیچھے واضح کیا کہ جادو اور نفسی علوم کا اثر نفسیاتی ہوتا ہے اس لئے جو بھی پڑھا جائے اس کا ترجمہ یا مفہوم ضرور ذہن میں رکھا جائے ورنہ ماہرین کے مطابق شفا کے امکانات کم ہوتے یابالکل ہی نہیں ہوتے۔
کیا تعویذ وغیرہ جائز ہیں جبکہ کچھ احادیث میں گنڈے اور تعویذ کو ممنوع قرار دیا گیا ہے؟
پہلی بات تو یہ ہے کہ دنیا کے بے شمار علوم ایسے ہیں جو انسان کے نفع کے لئے بنائے گئے ہیں ۔ انسان ان سے حسب ضرورت استفادہ کرسکتا ہے۔ دین اس وقت ان علوم میں مداخلت کرتا ہے جب ان میں کوئی اخلاقی یا شرعی قباحت پائی جائے۔ جیسے میڈیا سائنسز ایک نیوٹرل علم ہے جس کے پڑھنے یا نہ پڑھنے پر مذہب کا کوئی مقدمہ نہیں۔ اگر یہ علم انسانوں کو نقصان پہنچانے میں استعمال ہو اور اس سے محض فحاشی و عریانیت اور مادہ پرستی ہی کو فروغ مل رہا ہو تو مذہب مداخلت کرکے اس کے استعمال پر قدغن لگاسکتا اور اسے جزوی طور پر ممنوع کرسکتا ہے۔
میرے فہم کے مطابق کچھ ایسا ہی معاملہ نفسی علوم کا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں یہ علم سحر کی حیثیت سےیہود اور کچھ مشرکین کے پاس تھا ۔ چونکہ کسی پیغمبر کی بعثت کو ایک طویل عرصہ گذرچکا تھا اس لئے ان علوم پر بھی شیاطین کا قبضہ تھا ۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اصلاح معاشرہ اور تطہیر کا کام کیا تو اس علم پر بھی خاص طور پر توجہ دی۔ اس زمانے میں تعویذ ، گنڈے اور دیگر چیزیں مشرکانہ نجاست رکھتی تھیں اس لئے انہیں ممنوع اور حرام قرار دے دیا گیا۔ اصل علت یا وجہ جادو یا شرک تھا تعویذ کا استعمال نہ تھا۔
اس کی بہترین مثال تصویر ہے۔ تصویریں اس زمانے میں بنائی ہی شرک کی نیت سے جاتی تھیں اس لئے جاندار کی تصویر بنانا ممنوع کردیا گیا۔ لیکن بعد میں جب تصویروں میں علت نہیں رہی تو علما نے اسے جائز قرار دے دیا۔ یہی معاملہ تعویذ گنڈوں کےساتھ بھی ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ تعویذ وغیرہ کا براہ راست دین سے کوئی تعلق نہیں اور یہ نفسی علوم کا ایک طریقہ اور ٹول ہے۔ چنانچہ اگر کوئی تعویذ شرکیہ نجاستوں سے پاک ہے تو اس پر وہی حکم لگے گا جو دم درود یا دیگر روحانی علوم پر لگتا ہے۔
دین کا نفسی علوم کے بارے میں کیا رویہ ہے؟
دین حرام قسم کے نفسی علوم کے استعمال کو قطعا ممنوع کردیتا ہے ۔ جائز نفسی علوم کے استعمال پر بھی دین کوئی بہت زیادہ حوصلہ افزائی نہیں کرتا بلکہ اس کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔ سنت سے ثابت ہے کہ آپ نے کسی کو رزق کے حصول کے لئے وظیفہ نہیں بلکہ دنیاوی عمل بتایا، بیماری کا علاج دم درود سے نہیں بلکہ طبیب اور مادی اسباب سے کیا، جنگ میں کامیابی کے لئے مراقبوں اور مکاشفوں سے مدد نہ لی، مستقبل کے لیے ستاروں کی چال کو درخور اعتنا نہ سمجھا، مشکلات ہے حل کے لیے اسباب کرنے کے بعد اللہ پر توکل کیا تعویذ گنڈے نہیں کیے۔ کیونکہ آپ کا مقصد ایک حقیقت پسند اور توہمات سے پاک امت کا قیام تھا ۔
نفسی علوم پر بھروسہ نہ کرنے کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ یہ علوم باقاعدہ سائنس نہیں بن پائے ہیں۔ سائنس جس طرح سبب اور اثر یعنی کاز اور افیکٹ (Cause and Effect) تعلق کو قطعیت کے ساتھ بیان کرتی ہے، یہ علوم ابھی اس پریزینٹیشن سے کوسوں دور ہیں۔ اسی لئے ان کا استعمال عام طور پر توہمات کو فروغ دینے کا باعث بن سکتا ہے۔ البتہ کوئی وظیفہ یا عمل اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے درست طور پر منسوب ہے یا تجربہ کی بنا پر اس کی قطیعت ثابت ہوچکی ہے تو اس کے استعمال میں کوئی قباحت معلوم نہیں ہوتی۔
ہارو ت و ماروت پر جو علم اتارا گیا تھا کیا وہ جادو تھا؟
جیسا کہ ہم نے پڑھا کہ جادو حرام ہے اور اس کی وجہ ا س میں شرک کی علت کا ہونا ہے۔ ظاہر ہے اللہ تعالی اپنے فرشتوں کے ذریعے اس قسم کا کوئی علم کیسے اتار سکتے ہیں جس میں شرک کی آلائش ہو۔ میری رائے کے تحت ہاروت و ماروت پر اتارا گیا علم پیراسائکلوجی کے جائز علوم میں سے ایک تھا ۔ البتہ اس کا استعمال منفی و مثبت دونوں طریقوں سے کیا جاسکتا تھا۔ جیسا کہ اسی آیت میں ہے:
غرض لوگ ان سے (ایسا) سحر سیکھتے، جس سے میاں بیوی میں جدائی ڈال دیں۔ اور خدا کے حکم کے سوا وہ اس (سحر) سے کسی کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے تھے۔ اور کچھ ایسے سیکھتے جو ان کو نقصان ہی پہنچاتے اور فائدہ کچھ نہ دیتے۔(البقرہ ۱۰۲:۲)
اس آیت میں ہے کہ اس علم سے فائدہ بھی پہنچ سکتا تھا اور نقصان بھی ۔ لیکن انہوں نے صرف نقصان پہنچایا جس میں سرفہرست میاں بیوی میں جدائی تھی۔ اس کی وجہ بھی کچھ علما کے نزدیک یہ تھی کہ بنی اسرائل کو اس دور میں غیر یہودی عورت سے شادی کرنا ممنوع تھا۔ اس وقت خواتین کی کمی تھی اس لَئے لوگ جدائی ڈلواکر اس کی عورت کو اپنی بیوی بنانا چاہتے تھے۔ تو بہر حال وہ علم کسی طور شرکیہ یا ممنوع علم نہ تھا بلکہ اپنی اصل میں جائز تھا۔ اس کے منفی استعمال کی مذمت کی گئی ہے۔ یعنی وہ علم اپنی ذات میں حرام نہیں بلکہ آزمائش تھا ۔ البتہ اس کا منفی استعمال اسے حرام بنا رہا تھا
کیا جادو کرنا کفر یا شرک ہے؟
چونکہ جادو میں شرک و کفر کی آمیزس ہوتی ہے اور اس میں خدا کے علاوہ دیگر قوتوں کی مدد مانگی جاتی ہے اس لئے جادو کرنا حرام اور شرک ہے۔ اسی طرح جادو کا استعمال بالواسطہ طور پر شرک و کفر کے درجے تک لے جاتا ہے۔
کیا جادو کا توڑ جادو سے ہوسکتا ہے؟
جادو کا توڑ کوئی روحانی یا نیوٹرل علم تو ہوسکتا ہے لیکن جادو نہیں۔
نوٹ:
اس تحریر میں میں نے کئی علما ، ماہرین اور مفسرین سے برا ہ راست یا بالواسطہ استفادہ کیا ہے۔ ان سب کا نام لکھنا تو ممکن نہ تھا البتہ ان سب کا میں عمومی طور پر شکر گذار ہوں ۔
پروفیسر محمد عقیل
۲۷ اکتوبر ۲۰۱۵
۱۳ محرم الحرام ۱۴۳۷ ہجری


کیا مسواک کی جگہ برش اور پیسٹ استعمال کرنے سے سنت ادا ہو جاتی ہے؟

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Sunday Nov 9, 2014

اس ضمن میں اگرچہ قابل ذکر اختلاف نہیں ہے۔ لیکن دو آراء ہوسکتی ہیں:
• روایت پسند علماء کے نزدیک لکڑی کی مسواک کرنے سے ہی سنت ادا ہوگی۔
• معتدل جدید علماء کے نزدیک دانت صاف کرنا سنت ہے۔ اس کے لیے جو چیز مرضی استعمال کی جائے۔
روایت پسندقدیم علماء اپنے حق میں وہ دلائل پیش کرسکتے ہیں جن میں ذکر ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لکڑی کی مسواک کی، نیز یہ حضرات برش کے نقصانات کی نشاندہی بھی کرتے ہیں۔ جبکہ معتدل علماءجدت پسند علماء یہ کہتے ہیں کہ مسواک سے اصل مقصود صفائی کا حصول ہے۔ اس لیے سنت اس سے ادا ہوجائے گی۔ امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ
’’ گندگی اور دانتوں کی زردی کو ختم کردینے والی چیزوں میں سے جس چیز سے بھی مسواک کی جائے کافی ہے کیونکہ اس سے مقصود حاصل ہوجاتا ہے۔ ہاں اگر دانتوں کو محض انگلی سے ملا تو یہ کفایت نہیں کرے گا کیونکہ اسے مسواک سے تعبیر نہیں کیا جاسکتا۔‘‘
سید سابق رقمطراز ہیں:
’’ ہر وہ چیز کہ جس سے دانتوں کی زردی ختم ہوجائے اور نظافت پیدا ہوجائے تو اس سے سنت حاصل ہوجائے گی، جیسے ٹوٹھ برش یا انگلی ہے۔‘‘
انگلی کو مسواک کے طور پر استعمال کرنے کے حوالے سے اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ امام نووی کی اس بارےمیں رائے آپ ملاحظہ فرما چکے ہیں۔ شیخ البانی کا بھی یہی نقطہ نظر ہے۔ جبکہ سید سابق رحمہ اللہ اس بارے میں یہ کہتے ہیں کہ انگلی وغیرہ سے مسواک کی سنت ادا ہوجاتی ہے۔ سید سابق رحمہ اللہ نے طبرانی کی ایک روایت سے استدلال کیا ہے:
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِنْجَوَيْهِ ، قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ : ثَنَا الْوَلِيدُ ، قَالَ : ثَنَا عِيسَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ ، عَنْعَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ” الرَّجُلُ يَذْهَبُ فُوهُ أَيَسْتَاكُ ؟ قَالَ : نَعَمْ . قُلْتُ : فَأَيَّ شَيْءٍ يَصْنَعُ ؟ قَالَ : يُدْخِلُ أُصْبُعَهُ فِي فِيهِ فَيُدَلِّكَهُ هَكَذَا ، وَأَشَارَ بِإِصْبِعِهِ إِلَى فِيهِ
’’عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے دریافت کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! وہ بندہ کے جس کے دانت گر جائیں تو وہ مسواک کرے گا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں۔ میں نے عرض کیا کہ وہ کس طرح؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنی انگلی کو منہ میں ڈال کر رگڑ لے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی سے منہ کی طرف اشارہ کیا۔‘‘
لیکن شیخ البانی رحمہ اللہ اس روایت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اس میں عیسی بن عبد اللہ الانصاری ضعیف ہے۔ نیز یہ بھی ہے کہ انگلی سے دانت صاف نہیں ہوتے۔ اور پھر مسواک کا مقصد صرف دانت صاف کرنا ہی نہیں بلکہ زبان کی صفائی بھی اس سے کی جاتی ہے جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ چیز ثابت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب مسواک کرتے تو’’ اع اع ‘‘کی آواز آتی:
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدْتُهُ يَسْتَنُّ بِسِوَاكٍ بِيَدِهِ يَقُولُ أُعْ أُعْ وَالسِّوَاكُ فِي فِيهِ كَأَنَّه يَتَهَوَّعُ
’’ابو بردہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پایا کہ آپ اپنے ہاتھ سے مسواک کررہے تھے اور اع اع کی آواز نکال رہے تھے۔ اور اس وقت مسواک آپ کے منہ میں تھی۔ آپ کی آواز سے یہ تاثر پیدا ہوتا تھا کہ گویا آپ قے کرنا چاہتے ہوں۔‘‘
خلاصہ کلام یہ ہے کہ رجعت پسند علماء جس چیز کو دلیل بناتے ہیں تو معتدل جدت پسند علماء یہ کہتے ہیں کہ اس اصول کو اگر بڑے پیمانے پر لاگو کیا جائے تو موجودہ دور میں زندگی اجیرن ہوجائے۔ لوگوں کو جانوروں پر سواری کرنا پڑے، علاج و معالجہ کے انہی طریقہ کار کو استعمال کیا جائے ،وغیرہ۔ اس میں ایک ضمنی اختلاف انگلی سے دانت صاف کرنے کے بارے میں بھی ہے۔قائلین اس بارے میں مروی ایک روایت پیش کرتے ہیں۔ جبکہ عدم قائلین کہتے ہیں کہ پیش کی جانی والی روایت ضعیف ہے ۔ اور چونکہ انگلی سے دانت بھی صاف نہیں ہوتے اس لیے اس کو مسواک کی سنت کا متبادل نہیں قرار دیا جاسکتا۔
تحریر و تحقیق:
محمد شکیل عاصم