پروفیسرڈاکٹر محمد عقیل |

مسلمانوں کے ایمان اور اخلاق میں کمزوریوں کی جدید اندازمیں نشاندہی کرنااور اصلاح کے لئے سائنٹفک طرز پر حل تجویز کرنا اس سائٹ کے مقاصد ہیں۔۔۔۔۔۔۔قد افلح من زکھا۔

کیا دوسرے مسلک کے امام کے پیچھے نماز جائز ہے؟

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Wednesday Nov 5, 2014

یہ سوال ہمارے یہاں مختلف الفاظ کے ساتھ پوچھا جاتا ہے کہ کیا مشرک امام کے پیچھے نماز پڑھی جاسکتی ہے؟ یا کیا بدعتی شخص کے پیچھے نماز درست ہے؟ اسی طرح یہ بھی پوچھا جاتا ہے کہ کیا خلاف سنت نماز پڑھانے والے پڑھنا جاری رکھیں »


دل کی بورنگ

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Friday Oct 10, 2014

آج کل کراچی میں پانی کی قلت ہے جس کی بنا پر لوگ اپنے گھروں میں بورنگ کروارہے ہیں۔ یہ بورنگ اوزار کی مدد سے زمین میں کی جاتی ہے اورڈرلنگ کے ذریعے زمین کی تہہ میں اس سطح تک پہنچا جاتا ہے جہاں پانی موجود ہو۔ اس کے بعد موٹر کے ذریعے پانی حاصل کرلیا جاتا ہے۔ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ یہ بورنگ ناکارہ ہوتی جاتی ہے۔ اور اس سے پانی کا حصول ممکن نہیں رہتا۔ اس کی کئی وجوہات ہوتی ہیں۔ ایک وجہ تو
پانی کے لیول نیچے چلا جانا ہے جس کی بنا پر سوتے خشک پڑجاتے ہیں۔ دوسری وجہ بورنگ کی نالی میں کچھ رکاوٹ پیدا ہو جانا ہے۔بعض اوقات وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ سیورج کا پانی مکس ہوجاتا ہے جس کا استعمال مضر صحت ہوتا ہے۔ بہر حال وجہ کچھ بھی ہو ، ناکارہ بورنگ سے پانی کے حصول کی کوشش ایک نامناسب اور بعض اوقات نقصان دہ عمل ہے۔ اگر صاف پانی حاصل کرنا ہے تو نئے سرے سے پانی کے سوتوں تک رسائی حاصل کرنی لازمی ہے۔

پانی کی بورنگ کی طرح روحانییت اور تعلق باللہ کی بھی بورنگ ہوتی ہے۔ بعض اوقات جب ہم اپنے دل کا تعلق اللہ سے جوڑ لیتے ہیں اور پھر یہ سمجھتے ہیں کہ ساری زندگی یہ تعلق ایسے ہی قائم رہے گا اور اس کنکشن سے بغیر کسی محنت کے روحانی غذا ملتی رہے گی۔ بعض اوقات ہمیں یہ غلط فہمی ہوجاتی ہے کہ ہم تو اللہ کی بندگی میں آگئے ہیں اب تزکیہ و تربیت کی کیا ضرورت؟ کبھی ہمارا ہمیں تکبر کا راستہ دکھا کر یہ سکھاتا ہے کہ ہم اب علم و عمل میں تاک ہوگئے ہیں اور اب ہمارا کچھ نہیں بگڑنے والا۔ کبھی ہمارا نفس ہی تن آسانی کا شکار ہوکر محنت چھوڑ دیتا ہے تو کبھی زمانے کی گردشیں ہماری راہ کو کھوٹی کرنے پر تل جاتی ہیں۔چنانچہ یہ کنکشن شیطان کی دراندازی ، نفس کی حملہ آوری کی بنا پر کمزور ہوتا رہتا اور بالآخر ناکارہ ہوجاتا ہے۔
نتیجہ یہ نکلتا ہے ہمارا تعلق اللہ سے کمزور ہونے لگتا ہے ، ہم شیطان کے فریب میں باآسانی آجاتے ہیں، ہم اپنی انا کے ضعم میں تکبر کرتے ہیں ، ہم خدا کی حکم عدولی کرتے ہیں لیکن ان سب باتوں کے باوجود ہمیں احساس ہی نہیں ہوتا کہ ہم اپنی راہ سے دور ہوچکے ۔ ہم لاعلم ہوتے ہیں کہ ہماری روحانیت کے سوتے خشک ہوگئے، ہماری بورنگ میں غلاظتوں کی آمیزش ہوچکی ، ہمارا تعلق باللہ کے کنکشن کے پائیپ چوک ہوچکا ۔
یہ معاملہ زیادہ تر ان لوگوں کے ساتھ پیش آتا ہے جو دین کا کوئی کام کررہے ہوتے ہیں۔ ہمیں علم ہی نہیں ہوتا کہ دوسروں کو دعوت وتبلیغ دینے کی مصروفیت میں خود کو بھول چکے، دوسروں کو راستہ بتاتے بتاتے خود ہی راہ راست سے ہٹ گئے ، دوسرو ں کو آگ سے بچاتے بچاتے اپنے دامن کو آگ کے شعلوں کی نذر کرچکے۔
بس ہمیں ہر لمحے اپنے تعلق باللہ کے کنکشن کا جائزہ لیتے رہنا ہے ، اس کی لیکیج پر نگاہ رکھنی ہے، اس کے سوتے تر رکھنے ہیں۔ اور اگر ہم ذرا بھی نوٹ کریں کہ ہماری بورنگ خشک پڑ رہی ہے تو نِئے سرے سے کھدائی کریں، اگر تعلق باللہ کا لیول پہنچ سے باہر ہورہا ہو تو کھدائی کو اور گہرا کریں۔ اگر روحانیت سے سرچشموں میں گندگی کی آمیزش شامل ہورہی ہو تو تزکیہ نفس سے اسے پاک کریں۔
روحانی بورنگ کا نیا کنکشن لینے کے کئی طریقے ہیں۔ ایک طریقہ سیزنل ہے یعنی موسم اور ماحول کے ذریعے تعلق باللہ قائم کیا جائے۔ چنانچہ رمضان میں یہ موقع سب سے زیادہ ہوتا ہے ۔ اس کے علاوہ ذوالحج میں شیطان کی دراندازیوں کو جاننا اور ان سے بچنے کا طریقہ سیکھنا ایک اور اہم موقع ہے۔ بعض اوقات یہ ماحول کسی مصیبت ، رنج، الم یا آفت کے نتیجے میں مل جاتا ہے جس کے ذریعے تعلق باللہ کے خشک سوتوں کو تر کیا کیا جاسکتا ہے۔
دوسرا طریقہ عبادات میں اشتغال ہے۔ نمازوں کی کثرت خاص طور پر تہجد کی نماز، نفلی روزے، عمرے، قربانی، انفاق وغیرہ اللہ سے کمزور تعلق کو مضبوط کرتے ہیں۔ بعض مرتبہ لوگوں کی خدمت، ان کے ساتھ احسان کا رویہ اور ان کی مدد اللہ سے تعلق کا سبب بنتی ہے۔کبھی کبھی علم کی کمی کو دور کرنا، اللہ کے نیک بندوں کی صحبت، عمل کو بہتر بنانا، برائیوں کو ترک کرنا ، اچھائیوں کو اپنانا اس راہ میں اکسیر کا کام کرتا ہے۔
سب سے بڑھ کر دعا، توکل ، تفویض و رضا وہ ماسٹر کی ہے جس سے خشک سوتے تر ہوجاتے اور وہاں تعلق باللہ کے تازہ چشمے ابل پڑتے ہیں۔ دعا کے ذریعے ہم خدا سے مدد مانگتے، اس کے آگے خود کو ڈال دیتے، اپنے عجز کا اظہار کرتے اور اس سے اپنے تعلق کی تجدید کرتے ہیں۔ توکل سے ہم اس پر بھروسہ رکھتے ہوئے پراعتماد رہتے ہیں کہ اس راہ میں شیطان اور نفس کی چالوں کو ہم اللہ کی نصرت سے شکست دے لیں گے۔ تفویض کے ذریعے ہم اپنے ناقابل کنٹرول امور کو اللہ کو سونپ دیتے اور آخر میں خدا کی ہر قضا پر راضی رہنے کا عہد کرلیتے ہیں۔
آئیے ہم سب جائزہ لیں کہ ہمارے دل کی بورنگ کے سوتے خشک تو نہیں ہوگئے۔


کیا اللہ مجھ سے ناراض ہیں؟

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Friday Oct 10, 2014

. سوال
مجهے لگتا ہے اللہ تعالیٰ مجھ سے بہت دور ہیں اور میں اس کے قرب کے قابل نہیں. مجهے لگتا هے کہ میرا باطن اس حد تک آلودہ ہے کہ وہ مجهے اپنی دوستی کے قابل ہی نہیں سمجهتا. میں نے قرآن سے رہنمائی حاصل کرنے کی کوشش کی وہاں سے جواب ملا کہ راتوں کو اٹھ کر بخشش مانگنے والے اس کو پسند ہیں میں نے یہ بهی کرنا شروع کیا لیکن دل ابهی بهی خالی ہے. دل پر بہت بهاری پتهر رکها محسوس ہوتا ہے. وہ کیفیت دل میں ہی نہیں اترتی جیسی اللہ کے قرب میں ہونی چاہیے.
شاید اس کی وجہ میرا آلودہ باطن ہے. لگتا ہے کہ میں دنیا کی سب سے زیادہ متکبر، ریاکار، اور ناشکرا ہوں. اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ مجھ سے دوستی نہیں کرتے. اللہ مجھ سے ناراض ہیں تبهی وہ مجھ سے دور بہت دور محسوس ہوتے ہیں. میں کیسے ان سے دوستی کروں میں کیسے انہیں مناؤں.۔میں کیا کروں ؟میں اللہ کے بغیر بہت اکیلا محسوس کرتا ہوں.
<strong>جواب</strong>
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
مجھے آپ کی ای میل پڑھ کر بہت خوشی ہوئی ۔ لوگ دنیا کے مسائل پر ڈسکس کرتے ، ان کے لئے پریشان ہوتے اور ان کے حل کے لئے بھاگ دوڑ کرتے ہیں لیکن جس موضوع پر آپ نے استفسار کیا ہے اس پر کوئی سوچتا تک نہیں۔ پہلے تو اس موضوع پر سوال کرنے پر مبارک ہو۔
پہلے تو اصولی بات سمجھ لیجے ۔ قرآن میں اللہ نے مقصد تخلیق یہ بتایا ہے کہ وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون۔ یعنی میں نے جن و انسانوں کو صرف اس لئے پیدا کیا کہ وہ میر ی عبادت کریں۔ عبادت کے لغوی معنی انتہائی عاجزی، تذلل اور پستی کے ہیں۔ چنانچہ مقصد تخلیق یہ ہے کہ اللہ کے سامنے انتہائی عجز، پستی، تذلل کا اظہار دل و دماغ اور پورے وجود کے ساتھ کیا جائے ۔ یہ وہ عبادت نہیں جو نماز روزہ حج زکوٰۃ وغیرہ سے ظاہر ہوتی ہے۔ بلکہ یہ عبادت تو چونکہ مقصد تخلیق ہے اس لئے ساری زندگی جاری رہتی اور ہر ہر لمحے اس کا تسلسل رہتا ہے۔ جب یہ عجز تذلل و پستی انسان کے باطن میں داخل ہوتی ہے تو اس کے خارج میں اس کا اظہار کامل اطاعت سے ہوتا ہے۔ جیسے ایک غلام اپنے آقا کے حکم کو ماننے کے لئے بے تاب رہتا اور بلا کسی چوں چراں کے وہ اپنا سر خم کردیتا ہے اسی طرح ایک انسان بھی اطاعت کرنے کے لئے تیار رہتا ہے۔
اب آپ کی میل پر براہ راست آتا ہوں:
آپ کو یوں محسوس ہوتا ہے کہ اللہ آپ سے دور ہیں اور آپ ان کے قرب کے قابل نہیں اور وہ آپ کو اپنی دوستی کے قابل نہیں سمجھتے ۔ آپ کو خیال اس لئے پیش آیا کہ بقول آپ کے دل ابهی بهی خالی ہے. دل پر بہت بهاری پتهر رکها محسوس ہوتا ہے. وہ کیفیت دل میں ہی نہیں اترتی جیسی اللہ کے قرب میں ہونی چاہیے.
یہی وہ غلطی ہے جو اکثر راہ خدا پر چلنے والے لوگوں کو ہوجاتی ہے۔ دیکھیں مقصود کیفیت نہیں، لذت نہیں بلکہ اطاعت ہے، بندگی ہے، عاجزی ہے تذلل ہے پستی ہے۔ آپ نماز خدا کی رضا کے لئے پڑھتے ہیں، اس سے باتیں اس سے تعلق مضبوط کرنے کے لئے کرتے ہیں، تو پھر اس میں لذت و کیفیت کہاں سے آگئی؟ اگر آپ نے کیفیت کے حصول کے لئے عبادت کی تو پھر بندگی میں اخلاص کہاں رہا؟ اصل مقصد یاد رکھیں کہ خدا کے حکم کی تعمیل اور اس کے آگے خود کو مٹادینا ہے اور بس۔ اب لذت ملتی ہے تو اسکا کرم اور نہ ملے تو اس کی مرضی۔
دیکھیں ہم جب کسی بچے کو پڑھنے پر مجبور کرتے ہیں تو شروع میں کہتے ہیں کہ تمہیں ٹافی ملے گی ، تمہیں پارک لے کر جائیں گے، زو چلیں گے۔ تو بچہ پڑھنے کی جانب راغب ہوجاتا ہے۔ بچہ لالچ میں یہ کام کرتا ہے لیکن جب بڑا ہوجاتا ہے تو اسے علم ہوتا ہے کہ اصل مقصد تو پڑھائی کرنا تھا باقی چیزیں تو بہلاوے کے لئے تھیں۔ بالکل یہی معاملہ اللہ سے تعلق کا ہے۔ جب آپ شروع میں اللہ سے تعلق قائم کرنے لگیں تو کیفیت، لذت ، جذب و مستی ذوق و شوق نصیب ہوتا ہے ۔ بندہ یہ سمجھتا ہے کہ اللہ خوش ہیں اسی لئے یہ سب مل رہا ہے لیکن یہ اصل میں ایک بچے کو دئیے جانے والی ٹافیا ں ہوتی ہیں۔ جب بچہ بڑا ہوجاتا ہے تو اس کو یہ ٹافیاں ملنا بند ہوجاتی ہیں کیونکہ اب اسے ان سہاروں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ لیکن ہم یہ سمجھتے ہیں کہ شاید اللہ ناراض ہوگئے ہیں شاید انہوں نے دوستی ختم کرلی، شاید وہ مجھ سے محبت نہیں کرتے وغیرہ۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اب اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے مزید قریب کرنے کے لئے ہمیں بڑا بنادیتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اب بنا سہارے ہم اس کے قریب آئیں، اس کی اطاعت کریں، اس کی غلامی کریں اور ایسا کرنے میں جو اجر ہے وہ اس عبادت سے زیادہ ہے جس میں لذت و کیفیت ہو۔
آپ نے لکھا ہے:
شاید اس کی وجہ میرا آلودہ باطن ہے. لگتا ہے کہ میں دنیا کی سب سے زیادہ متکبر، ریاکار، اور ناشکرا ہوں. اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ مجھ سے دوستی نہیں کرتے.
یہ سب آپ کا وہم ہے۔ اللہ آپ سے دوستی رکھتے ہیں لیکن وہ اپنے دوست کو آزماتے بھی ہیں کہ یہ ٹافیوں کے لئے دوستی رکھتا تھا یا میرے لئے۔ایک مثال کوٹ کرنے پر مجبو ہوں کہ شوہر اور بیوی کے تعلق میں ابتدا میں محبت میں جوش و ولولہ، کیفیت و لذت زیادہ ہوتی ہے لیکن وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ اس مین کمی آنی شروع ہوجاتی ہے۔ عام طور پر میاں بیوی یہ سمجھتے ہیں کہ شاید محبت کم ہوگئی ہے لیکن ایسا نہیں ہوتا بلکہ یہ محبت کی اظہار کی نوعیت میں تبدیلی کی علامت ہوتی ہے اور اب محبت انسیت میں بدل جاتی ہے جو ابتدائی محبت سے زیادہ گہری، پائیدار اور موثر ہوتی ہے۔لیکن میاں بیوی کے تعلق کا اصل امتحان اسی وقت شروع ہوتا ہے جب کیفیت ایک بے کیف انسیت مین بدل جاتی ہے۔
آپ نے لکھا ہے:
. لیکن اب محسوس ہوتا ہے یہ اور بڑھ گیا ہے. اللہ مجھ سے ناراض ہیں تبهی وہ مجھ سے دور بہت دور محسوس ہوتے ہیں. میں کیسے ان سے دوستی کروں میں کیسے انہیں مناؤں. میں کیا کروں میں اللہ کے بغیر بہت اکیلا محسوس کرتا ہوں.

اللہ کی ناراضگی یا رضا کو کیفیت سے جانچنا درست نہیں ۔ خدا کی رضا کا دنیا میں معلوم کرنے کا کوئی ذریعہ ہے ہی نہیں بس اندازہ ہی لگایا جا سکتا ہے۔ اگر آپ کو خدا راتوں میں پانچوں وقت نماز میں اپنے پاس بلا رہا اور راتوں میں اٹھا رہا ہے تو کیا یہ کام وہ کسی دوست کے ساتھ کرے گا یا دشمن کے ساتھ؟ چنانچہ جب وہ آپ کو اپنے پاس بلانا چھوڑ دے تو سمجھ لیں اس نے آپ کو دور کردیا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ اس سے کیسے دوستی کی جائے ۔ اس پر ایک قصہ سناؤں گا:
ایک مرتبہ ایک بزرگ بیٹھے تھے کہ ایک آدمی آیا تو اور اس نے پوچھا:
“حضور عید کڈاں؟ (حضور عید کب ہوگی؟) وہ بزرگ مستغرق تھے تو بجائے اس کے کہ یہ جواب دیتے کہ چاند فلاں دن تک نطر آجائے گا انہوں نے کہا: ” یار ملے جڈاں”۔ ( جب یار ملتا ہے تب عید ہوتی ہے)
اس نے پوچھا ۔ ” یار ملے کڈاں”؟ (یار کب ملتا ہے)
بزرگ نے فرمایا۔” میں مکے جڈاں”۔ (جب میں مٹ جاتی ہے تو یار مل جاتا ہے)
بس جب آپ کی “میں ” اس کی “میں” کے آگے جھک جائے مٹ جائے ختم ہوجائے تو وہ آپ کو مل جائے گا۔
عقیل


شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Tuesday May 21, 2013


سوال: پچھلے پانچ سال سے میں دین پر عمل کرنے کی کوشش کر رہا ہوں لیکن اس میں مکمل طور پر کامیاب نہیں ہو پاتا۔ میں جب کئی بار توبہ کرچکا ہوں لیکن گناہوں میں دوبارہ مبتلا ہو جاتا ہوں۔ بعض اوقات میں مایوس ہو جاتا ہوں کہ کیا میں کبھی نیکیوں کی راہ پر گامزن ہو سکوں گا؟ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شیطان میری راہ میں بیٹھا ہے اور وہ ہر بار مجھے گناہوں کی طرف لے جاتا ہے۔ اس مسئلے کا کیا حل ہے؟
جواب: اس بات کا خیال رکھئے کہ یہ دنیا اللہ تعالیٰ نے ہماری آزمائش کے لئے بنائی ہے۔ اس دنیا میں ہمیں بھیجنے کا مقصد یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے بندوں کا انتخاب کررہا ہے جو اس کی بنائی ہوئی جنت میں رہنے کے قابل ہوں۔ اللہ تعالیٰ یہ انتخاب ایک ساٹھ ستر سالہ امتحان کے ذریعے کررہا ہے جس میں سے ہم سب کو گزرنا ہے۔ شیطان کو اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں ہماری آزمائش کے لئے یہ اجازت دی ہے کہ ہمیں اس کی راہ سے روکنے کی کوشش کرے۔ آپ پچھلے پڑھنا جاری رکھیں »


ووٹ کسے دیا جائے؟

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Tuesday May 7, 2013


السلام علیکم سر

آپ کے خیال میں ووٹ کسے دینا چاہیے؟ میں ووٹ دینا چاہتی ہوں مگر مجھے سیاست کا زیادہ علم نہیں ہے۔

ایک بہن

کراچی، پاکستان

مئی پڑھنا جاری رکھیں »


اللہ تعالی کی اسکیم سے متعلق کچھ سوالات

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Sunday May 5, 2013

السلام علیکم
آپ یہ کہتے ہیں کہ انسان کا خدا سے عالم ارواح میں ایک معاہدہ ہوا تھا۔ آپ نے لکھا ہے کہ یہ معاہدہ انسان کی آزادانہ مرضی سے ہوا تھا۔ اس کے لیے آپ ڈیلی لائف سے ثبوت بھی دیتے ہیں۔ اس سے یہ لگتا ہے کہ یہ ایمان بالغیب کی قسم کی چیز ہے۔ یہ معاہدہ مجھے بہت کنفیوژن میں ڈال رہا ہے اور یہ مائتھالوجی لگ رہی ہے۔ اس پر کچھ سوالات ہیں:
۱۔ ہمارے پاس کوئی ٹھوس ثبوت ہے کہ ہم نے یہ معاہدہ کیا ہے؟
۲۔ کیا قیامت تک پیدا ہونے والے ہر آدمی کی روح وہاں موجود تھی یا جب پیدا ہوا تھا پڑھنا جاری رکھیں »


وجود باری تعالیٰ- کچھ سوالات

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Sunday May 27, 2012


اس دفعہ کی ملاقات میں قارئین کی خدمت میں ایک انتہائی اہم مسئلے کے حوالے لکھے گئے دو ای میل پیش ہیں ۔ یہ ای میل جرمنی میں مقیم ایک دوست کے ای میلز کے جواب میں لکھے گئے ۔ یہ دوست موجودہ دور کی الحادی فکر پر کافی کام کر رہے ہیں ۔ میں نے ان ای میلزمیں ان سوالات کے کچھ جوابات دیے ہیں جن کو بنیاد بنا کر وجود باری تعالیٰ کا انکار کیا جاتا ہے ۔یہ ای میل آپ پڑھنا جاری رکھیں »


تقدیر کا مسئلہ؟

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Wednesday Apr 11, 2012


سوال: اگر ہر چیز خدا کی مرضی ہی سے ہوتی ہے اور اس نے ہر چیز کا پہلے سے فیصلہ کر رکھا ہے تو پھر دنیا کے امتحان کا کیا مقصد ہے؟ اس صورت میں جہنم میں ڈالا جانا کیا ناانصافی نہ ہو گی؟ پڑھنا جاری رکھیں »


ہیجڑوں کے ساتھ ہمارا رویہ

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Sunday Apr 8, 2012


سوال: اللہ تعالی نے ہر جاندار کا جوڑا بنایا ہے، پھر ہیجڑے کیا ہوتے ہیں؟

جواب: ہر قانون میں ہمیشہ استثنا ہوتا ہے۔ ہر جاندار کا جوڑا ہے، ایک عمومی اصول ہے اور ہیجڑے اس اصول میں ایک استثنا ہیں۔ یہ بھی اللہ تعالی کی مخلوق ہیں اور ہمارے جیسے انسان ہی ہوتے پڑھنا جاری رکھیں »


کچھ لوگ خدا کے منکر کیوں ہیں؟

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Monday Dec 5, 2011


سوال: جب اللہ تعالیٰ کے وجود کے دلائل اتنے واضح ہیں تو بہت سے لوگ خدا کا انکار کیوں کرتے ہیں؟ کیا ان کے پاس اس کے کچھ دلائل موجود ہیں۔
جواب: اللہ تعالیٰ کے وجود سے انکار عقلی دلائل کی بنیاد پر نہیں کیا جاتا۔ اگر ہم ملحدین کے لٹریچر کا جائزہ لیں تو اس میں دو چیزیں ملیں گی۔ یا تو وہ خدا کے وجود پر پیش کئے گئے دلائل کو اپنے تئیں رد کرکی کوشش میں مصروف ہوں گے یا پھر ڈارون کے نظریے جیسے بودے دلائل پڑھنا جاری رکھیں »