پروفیسرڈاکٹر محمد عقیل |

مسلمانوں کے ایمان اور اخلاق میں کمزوریوں کی جدید اندازمیں نشاندہی کرنااور اصلاح کے لئے سائنٹفک طرز پر حل تجویز کرنا اس سائٹ کے مقاصد ہیں۔۔۔۔۔۔۔قد افلح من زکھا۔

سورہ الناس کا خلاصہ

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Monday May 29, 2017

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
سورہ الناس کا خلاصہ
ڈاکٹر محمد عقیل
تم اپنے شرارت کرنے والے نفس سے کہہ دو، بہکانے والنے انسانوں کو بتادواور وسوسہ ڈالنے والے جنوں کو اعلان کردو کہ میں تم سب کے بہکاووں کے مقابلے میں تمام انسانوں کے پالنے والے کی پناہ میں آتا ہوں۔ وہ پناہ پڑھنا جاری رکھیں »


سورہ فاتحہ کی مختصر تشریح

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Monday May 29, 2017

سورہ فاتحہ کی مختصر تشریح
ڈاکٹر محمد عقیل
تعریف، توصیف، حمد و ثنا حقیقت میں اللہ ہی کے لیے ہے کیونکہ وہی تنہا ان گنت کہکشاوں ، ستاروں ، سیاروں ، مادی و غیر مادی جہانوں اور انفس و آفاق کی وادیوں کا پالنے والا ہے۔ وہی تو ہے جو سراپا مہربان ہے پڑھنا جاری رکھیں »


فہم القرآن کورس-سیشن 14

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Sunday Jan 22, 2017

فہم القرآن کورس-سیشن 14

ڈاکٹر محمد عقیل

سورہ البقرہ آیات 144 تا 151

السلام علیکم

فہم القرآن کے سیشن 14 میں الحمدللہ کم و بیش تمام ہی ایکٹو طلبا نے  حصہ لیا۔اب سب بھائیوں اور بہنوں کا میں شکر گذار ہوں کہ انہوں نے اپنے قیمتی وقت میں کچھ ساعتیں اس اہم کام کے لیے صرف کیں۔ یہ سیکھنے کا عمل اسی وقت مکمل ہوتا ہے جب ہم اس میں انوالو ہوجائیں۔ کلاس سے دور ر کر مشاہد ہ کرنے والے  کبھی بھی وہ کچھ نہیں سیکھ پاتے جو کلاس میں بیٹھ کر سیکھا جاتا ہے۔ جن بھائیوں اور بہنوں نے شرکت نہیں کی ان میں سے کچھ کو تو میں جانتا ہوں کہ وہ بے انتہا مصروف ہیں لیکن فون پر یا ملاقات میں اس پر اپنا فیڈ بیک ضرور دیتے ہیں۔ پڑھنا جاری رکھیں »


فہم القرآن۔ سیشن 12 البقرہ: آیات 127 تا 141

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Saturday Sep 10, 2016

1۔ حضرت ابراہیم اور اسماعیل علیہماالسلام ایک نئے گھر کی تعمیر کیوں کررہے تھے اور اس کے کیا مقاصد تھے؟
انسان کی ایک کمزوری کہہ لیں یا نفسیات ہے کہ وہ مجرد یعنی (Abstract ) چیزوں کا تصور کرنے میں دشواری محسوس کرتا ہے۔ شیطان بالعموم اس پڑھنا جاری رکھیں »


سورہ العلق کی تشریح

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Saturday Jul 9, 2016

سورہ العلق کی تشریح

پروفیسر محمد عقیل

پس منظر

سورہ العلق  کی ابتدائی پانچ آیات وہ پہلی وحی ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل  ہوئیں۔ ان پانچ آیات کے بعد دیگر آیات کچھ  عرصے بعد نازل ہوئیں۔

۱۔ اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّـذِىْ خَلَقَ (1)

اپنے رب کے نام سے پڑھیے جس نے سب کو پیدا کیا۔

تشریح: عام طور پر اس  آیت کے پہلے لفظ پر بہت زیادہ فوکس کیا جاتا ہے جس کی بنا پر اس آیت کا پورا مفہو م ہی بدل جاتا ہے۔ یہاں اقرا کا لفظ ایک حکم اور ہدایت ہے۔ جیسے قرآن میں کئی مقامات پر نبی کریم کو کہا گیا کہ ” قل” یعنی کہہ دو۔ تو اسی طرح یہاں اللہ تعالی فرشتے کے ذریعے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو  حکم دے رہے ہیں کہ ” پڑھو” یعنی جو کچھ وحی تمہیں دی جارہی ہے اسے پڑھو۔ اسی لیے جب جبریل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے غار حرا میں ملے اور وحی کا یہ ابتدائی حکم دیا کہ ” پڑھو” تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا کہ ” ماانا بقاری ” یعنی میں تو پڑھا ہوا نہیں تو کیسے پڑھوں یا کیا پڑھوں۔

تو اگر ہم اقرا کے لفظ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دی جانے والی ایک کمانڈ یا ہدایت مان لیں  باقی آیت کا مفہوم کم و بیش وہی ہے جو بسم اللہ الرحمٰن الرحیم  کا ہے۔ یعنی  ” باسم ربک الذی خلق”۔ یعنی ابتدا ہے تمہارے رب کے نام سے جس نے تخلیق  بھی کیا۔  یہ ابتدا ہے قرآن کی اور انسانیت کو دی جانے والی آخری وحی کی۔ اور اس کی ابتدا ہوتی ہے  پالنے والے یعنی رب کے نام سے جو خالق بھی ہے۔ یہاں رب اور خالق کی دو صفات کا مطلب   اس وقت دیگر مذاہب میں ہائی جانے والے تصورات کی نفی کرنا تھا  جس میں پالنے والا خدا الگ اور پیدا کرنے والا الگ ہوتا ہے۔ مشرکین مکہ کے مختلف بتوں  کے فنکشنز مختلف تھے۔ کوئی پیدا کرنے والا، کوئی پالنے والا  ، کوئی حفاظت کرنے والا تو کوئی کوئی اور کام کرنے والا تھا۔اس پہلی آیت نے اس پورے فلسفے کو منہدم کردیا۔ یہ بتادیا کہ رب یعنی پالنے والا  وہی ہے جس نے پیدا کیا اور یہ کوئی اور نہیں ہے۔

اس آیت کو دیکھیں تو یہ دراصل وحی کی  بسم اللہ الرحمٰن الرحیم سے ابتدا ہے البتہ یہاں الفاظ مختلف ہیں۔

۲۔ خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ (2)

انسان کو خون کے  لوتھڑے سے پیدا کیا۔

پچھلی آیت وحی کی ابتدا تھی تو یہ آیت انسان کے مادی وجود  کی ابتدا کو بیان کرتی ہے۔ قرآن نے اس زمانے میں یہ بات کہہ دی کہ انسان کو خون  کے لوتھڑے سے پیدا کیا۔ یہ رحم مادر میں نر اور مادہ کے ملاپ کے بعد زائگوٹ کی جانب اشارہ ہے جو ایک خون  کے لوتھڑے یا جمے ہوئے خون  کی مانند ہی ہوتا ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وحی کی ابتدا ہی میں اس دوسری آیت میں تخلیق کا یہ عمل بتانے کی کیا ضرورت تھی؟ یہاں دراصل وحی بھیجنے والی ہستی کا تعارف کرایا جارہا ہے۔ کہ وہ رب ہے، وہ خالق ہے تو اب اگر وہ خالق ہے تو اس کا ثبوت کیا ہے کہ وہی خالق ہے۔ اس کے ثبوت کے لیے تخلیق کا وہ مرحلہ بیان کردیا جو اس وقت انسان کے علم میں نہیں تھا۔ ظاہر ہے یہ مرحلہ ایک خالق ہی جان سکتا ہے۔

یہ مرحلہ اولین مخاطبین یعنی مشرکین مکہ کے لیے اہم نہیں تھا کیونکہ اس وقت وہ سائنسی علم کے ارتقا کے بغیر اس  سچائی کو نہیں سمجھ سکتے تھے۔ وہ خون  کے لوتھڑے کو ایک دوسری فارم میں جانتے تھے۔البتہ انہیں اس بات کا شعور ضرور تھا کہ انسان ایک حقیر سے نطفے سے پیدا ہوتا ہے۔

یہاں یہ بتایا جارہا ہے کہ یہ وحی جس ہستی کی جانب سے بھیجی جارہی ہے وہ کتنی عظیم اور قدرت رکھتی ہے کہ ایک جمے ہوئے خون سے زندگی پیدا کرتی ہے۔ یہ اس کی عظمت کی وہ دلیل ہے انسان کی نظروں کے سامنے ہے ۔ تو اسی وحی میں جب آگے یہ بتایا جائے گا کہ وہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرے گا تو اس پر حیرانی نہیں ہونی چاہیے کیونکہ اس وحی اور اس پیغام کا بھیجنے والا کوئی معمولی نہیں بلکہ ہر شے پر قاد ر ہے۔

۳۔ اِقْرَاْ وَرَبُّكَ الْاَكْـرَمُ (3)

پڑھیے اور آپ کا رب سب سے بڑھ کر کرم والا ہے۔

یہاں دوبارہ وہی لفظ ” اقرا” یعنی پڑھو استعمال ہوا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تصور کیجے کہ وہ ایک غار میں موجود ہیں اور خدا کا فرشتہ ان سے ہم کلام ہے۔ وہ  اپنی زندگی میں پہلی باراس تجربے سے براہ راست گذررہے ہیں ، ایک عجیب مقام حیرت ہے، ذہن میں کئی سوالات پوشیدہ ہیں۔ اس کیفیت میں فرشتہ ان سے مخاطب ہے تو وہ دوبارہ ہدایت کرتا ہے کہ اس مقام حیرت اور ان سوالات کو فی الحال پس پشت ڈالیے اور پھر پڑھیے۔اور گھبرائیے نہیں ، یہ کلام جس ہستی کی جانب سے آرہا ہے وہ کوئی جابر، قاہر ،ظالم اور متشدد قسم کی ہستی نہیں ۔ بلکہ وہ تو انہتائی کریم ، شفیق ، مہربان اور خیال رکھنے والی ذات ہے۔ وہ آپ کے تمام سوالات کے جواب دے گی، آپ کی اس حیرت کو دور کردے گی، وہ آپ کے اضطراب کو سکون میں دل دے گی۔ یہ وہ پیغام ہے جو اس آیت میں خدا نے اپنے نبی کو دیا۔

دوسری جانب یہ آیت اپنے دوسرے مخاطبین کو  وحی بھی والی ہستی کی چوتھی صفت سے آشنا کرتی ہے۔ پہلی آیت میں  بتایا گیا کہ اس کلام کا بھیجنے والا رب بھی ہے ، خالق بھی ہے اور قادر مطلق بھی ہے۔ اب یہاں بتایا جارہا ہے کہ وہ بہت ہی کرم ، لطف، مہربانی والا خدا ہے۔ وہ بے شک سب سے بلندو بالا ہے لیکن دنیاوی  حکمرانوں کی طرح وہ  کوئی سخت مزاج یا تشدد کرنے والا نہیں ہے۔ وہ اپنی بات جو بھیج رہا ہے وہ کوئی عذاب کا پیغام نہیں بلکہ انسانیت کے رحمت ہے۔وہ اپنی بات اس وقت ماننے کا مکلف انسان کو ٹہراتا ہے جب وہ اچھی طرح سمجھادے اور مخاطب یہ بات اچھی طرح سمجھ لے۔ وہ اپنی مرضی اگر تھوپنا چاہتا تو اس پیغام کے بغیر ہی یہ کام کردیتا۔ لیکن وہ تو کریم النفس ہستی ہے۔

۴۔ اَلَّذِىْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ (4)

جس نے قلم سے سکھایا۔

یہ وہ ذات ہے جس نے انسان کو سکھایا۔ یہاں قلم ایک ٹول کے طور پر بیان ہوا ہے۔  دیکھا جائے تو قلم  یہاں مجازی معنوں میں ہے حقیقی معنوں میں نہیں۔ اگر ہم دیکھیں تو پین یا قلم انسانی تاریخ میں  بالکل ابتدا سے موجود نہیں تھا۔ پہلے انسان اپنے خیالات کے اظہار کے لیے کلام، تصاویر ، بت اور دیگر طریقوں سے کیا کرتا تھا۔ اس کے بعد انسان کی تاریخ میں قلم اگر آیا بھی تو وہ عوام کی بجائے مخصوص طبقات کے استعمال میں تھا ۔ یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کے دور میں  بہت کم لوگ لکھنا اور پڑھنا جانتے تھے اور خود نبی کریم  بھی لکھنا اور پڑھنا نہیں جانتے تھے۔

تو اگر یہاں قلم سے مراد پین یا پر لیا جائے تو  یہ بات درست معلوم نہیں ہوتی کہ انسان کو ابتدا ہی سے قلم سے سکھایا گیا اور نہ ہی ہر انسان نے قلم سے سیکھا۔ بلکہ ہم دیکھیں تو آج بھی ایک بچہ اپنی ابتدائی زندگی میں جو کچھ سیکھتا ہے وہ قلم کے بغیر ہی ہوتا ہے۔اگر یہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دی جانے والی وحی مراد لی جائے تو  یہ بات بھی درست نہیں کیونکہ حضرت جبریل نے اس وقت قلم استعمال نہیں کیا تھا۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہاں قلم سے کیا مراد ہے۔ قلم درحقیقت ایک ٹول یا آلے طور پر استعمال ہوا ہے۔ قلم کا کام انسانی کی سوچ  ، علم اور خیالات کو منتقل کرنا ہوتا ہے۔ چنانچہ ہر وہ چیز  یا طریقہ کار جو علم کو آگے پہنچانے کا سبب بنے وہ قلم کی ذیل میں آجائے گا۔ چنانچہ یہاں قلم سے مراد ہر وہ کمیونکیشن یا ابلاغ کا ذریعہ ہے جس سے علم ایک شخص سے دوسرے شخص، ایک گروہ سے دوسرے گروہ اور ایک زمانے سے دوسرے زمانے میں منتقل ہوتا ہے۔ اس میں قلم ، کمپیوٹر، زبانی تقریر،  تصویر ، ہر طرح کی کمیونکیشن کا ذریعہ شامل ہے۔

اس آیت کا اصل پہلو قلم نہیں  بلکہ سکھانے کا عمل ہے۔ قلم کا ذکر تو یہاں ضمنا آگیا ہے۔ اصل فوکس اس بات پر ہے کہ انسان کو سکھایا اور اسے علم دیا۔ اس سے پچھلی آیت میں بات یہ ہوئی تھی کہ انسان کے حیوانی وجود کی ابتدا کس طرح جمے ہوئے خون سے ہوئی۔ اب یہاں انسا ن کے روحانی وجود کی ابتدا کے بارے میں بتایا جارہا ہے کہ کس طرح انسان کو سکھا کر اور اسے علم دے کر   دیگر  مخلوقات سے ممتاز کیا گیا۔ یہاں اسی خالق کی صفت خلاق کی جانب اشارہ ہے کہ اس سنے انسان کے حیوانی وجودکو تخلیق کرنے کے بعد تنہا نہیں چھوڑ دیا بلکہ  اس کو وہ سب کچھ سکھایا جس کی اسے  ضرورت تھی۔

یہاں پس منظر واضح رہے کہ خدا انسانیت سے  اپنے آخری آفیشل پیغام میں پہلی بار مخاطب ہورہا ہے۔ تو یہ بات بتائی جارہی ہے کہ یہ وحی بھی اسی سکھانے کا عمل ہے۔ یہ وہ پیغام ہے جس کی انسانیت کو ضرورت ہے اور اس کا سیکھنا اور اس کا جاننا بھی دیگر چیزوں کی طرح ضروری ہے۔ سیکھنے کا عمل انسانی عقل سے متعلق ہے۔ اس لیے یہ آیت علم اور عقل کی اہمیت کو بھی بیان کرتی ہے۔ عقل نہ ہو تو انسان پر نہ تو کوئی دنیاوی قانون لاگو ہوتا ہے اور نہ کوئی دینی حکم۔ اسی  لیے عقل کا ہونا ، اس کا ااستعمال کرنا اور اس کا درست استعمال کرنا ہی اصل مقصد ہے۔

یہ آیت اللہ کی صفت علیم و حکیم  کی جانب اشارہ کررہی ہے۔

۵۔عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ (5)

انسان کو سکھایا جو وہ نہ جانتا تھا۔
 اس آیت میں یہ بتادیا کہ انسان کو جو کچھ بھی علم ملا ہے وہ خدا کی جانب سے ملا ہے۔انسان کو اللہ تعالی نے جو علم دیا ہے وہ اس کی فطرت و جبلت اور وجدان  کے ساتھ ساتھ وحی کے ذریعے بھی دیا ہے۔ اسی طرح انسان   اپنے تجربات سے بھی بہت کچھ سیکھتا اور اپنا علم اگلی نسل کو منتقل کرتا ہے۔ اگر ہم دنیا کے علم کو دیکھیں تو کھیتی باڑی کرنا، کھانا پکانا، شکار کرنا، جنسی تعلق قائم کرنا، رہائش تعمیر کرنا ، لباس پہننا ، اسلحہ بناناوغیرہ  وہ علوم ہیں جو انسان کو جبلت ، فطرت ، وجدان اور وحی کے ذریعے ملے ہیں۔  اگر انسان ان سب علوم کو مائنس کردے تو اس کی زندگی غاروں کے دور میں چلی جائے گی۔یہی حال تمام سائنسی ایجادات کا ہے۔ ان کو بنانے میں خدا کی جانب سے راہنمائی ہر لمحہ پیش پیش رہی ہے۔

تو علم عطا کرنا خدا کی دین ہے اور یہ وہ سار ا کا سارا علم ہے جو انسان نہیں جانتا تھا بلکہ اسے مختلف طریقوں سے سکھایا گیا۔ اس آیت میں ایک جانب تو اللہ کی ربوبیت اور خلاقی کی جھلک ہے تو دوسری جانب یہ پیغام بھی دیا جارہا ہے یہ وحی بھی اسی نوعیت کا علم ہے جو ماضی میں خدا انسانوں کی ہدایت کے لیے نشر کرتا رہا ہے ۔ دیگر علوم کی طرح یہ علم بھی اللہ کی جانب سے ہے اس لیے اس میں کوئی شک نہیں ہوناچاہیے۔  اس علم میں اور دیگر علوم میں کچھ قدر مشترک اور کچھ بات مختلف ہے۔

اس وحی کے علم کی خاص بات یہ ہے کہ یہ براہ راست عالم کے پروردگار نے اپنے الفاظ میں نازل کیا ہے جبکہ دیگر علوم بالواسطہ طور پر انسان کو وجدانی طور پر عطا کیے جاتے ہیں۔ دوسرا اہم فرق یہ ہے کہ  دیگر علوم  کے منتقل ہونے کا طریقہ یہ ہے کہ ایک نسل اپنے سے اگلی نسل کو یہ منتقل کرتی ہے جبکہ یہ علم ایک ہی شخص کو عطا کیا جارہا ہے اور یہاں سے اس کا انتقال ہوگا۔  تیسر ی چیز یہ ہے اس  علم کے ماننے اور نہ ماننے کا نتیجہ باقی علوم کی طرح نہیں ہوگا۔ اگر کسی نے یہ سمجھ لیا کہ یہ خدا کی جانب سے ہے اور اس کے باوجود نہیں مانا تو اس کا انکار خدا کی توہین کے مترادف ہوگا۔ جس کا نقصان بھگتنا پڑے گا۔

یہ آیت خدا کے رحمان و رحیم ہونے کی جانب اشارہ کررہی ہے کہ اس کی کرم نوازی کہ اس نے انسان کو و ہ سب سکھادیا جس کی اسے ضرورت تھی۔

ابتدائی پانچ آیات کا خلاصہ

یہ پانچ آیات  انسانوں کو ایک عظیم ہدایت دینے سے قبل ایک تعارف کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان میں یہ بتایا گیا کہ یہ پیغام کسی انسان ، فرشتے، جن یا دیگر مخلوق کی جانب سے نہیں ہے ۔ اس کی نسبت عالم کے پروردگار کی جانب ہے ۔ اسی لیے یہ کہا گیا کہ ” اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا”۔ یعنی یہ پیغام اسی رب کے نام سے ہے جو خالق بھی ہے۔  وہ  قادر مطلق خالق بھی ہے  جس نے جمے ہوئے خون سے انسان کے حیوانی وجود کو پیدا کیا۔ وہ رب یاآقا انتہائی کرم کرنے والا ہے ۔ اسی کرم کا تقاضا اور نتیجہ ہے کہ انسان کو مختلف ذرائع سے سکھایا اور عقل عطا کی اور وہ سب کچھ سکھایا جو اس کی دنیاوی زندگی اور اخروی زندگی کے لیے ضروری ہے۔ چنانچہ یہ وحی بھی اسی سکھانے کا عمل کا تسلسل ہے جو  ایک کریم ، قادرالمطلق ،علیم اور حکیم  آقا کی جانب سے عطا کی جارہی ہے۔

اگلی آیات

جیسا کہ ان آیات  سے پتا لگ رہا ہے کہ آگے کی آیات کچھ  عرصے بعد نازل ہوئیں۔  یعنی جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ابتدائی پانچ آیات وحی کی گئیں تو آپ پر نفسیاتی طور پر ایک تردد و خوف کی کیفیت طاری ہوگئی۔  آپ نے سب سے پہلے اس کا اظہار اپنی بیوی حضرت خدیجہ اور اپنے دوست ابوبکر صدیق سے کیا۔ دونوں  نے آپ کو تسلی دی کہ یہ جو کچھ بھی ہے اس سے آپ کو نقصان نہیں پہنچنے والا کیونکہ آپ تو خود اک نیک سیرت انسان ہیں۔ حضرت خدیجہ کے کزن ورقہ بن نوفل نے تصدیق کی کہ یہ وہی وحی کا علم ہے جو ماضی میں بھی لوگوں کو دیا گیا ہے۔

اس ابتدائی  بات چیت کے بعد ظاہر ہے یہ بات آہستہ آہستہ مکہ میں  پھیلی ہوگی ہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس قسم کی باتیں کرتے ہیں۔ انسان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنی خوشی، غمی اور حیرت سب سے پہلے اپنے قریبی ساتھیوں اور رشتے داروں ہی سے شئیر کرتا ہے۔ تو نبی کریم نے یہ دعوت اسی فطری جذبے کے تحت اور خدا کے حکم سے اپنے قریبی رشتہ داروں کے سامنے رکھی۔ اس وقت  نبی کریم کی عمر صرف چالیس سال تھی اور آپ کے رشتے داروں میں بہت سے لوگ آپ سے  دنیاوی رتبے اور عمر میں بڑے تھے۔ ان میں سب سے اہم ابولہب ، ابوجہل اور ابوطالب تھے جو نبی کریم کے چچا بھی تھے اور بنی ہاشم قبیلہ کے کرتا دھرتا تھے۔

ابوجہل کے ساتھ معلوم ہوتا  ہے کہ  سب سے پہلے مخالفت کا آغاز ہوا کیونکہ آپ کے اور ابوجہل کے  مکانات بھی قریب قریب تھے۔ ایک تو رشتہ داری کی قربت دوسرے ہمسائیگی۔ آپ کی خواہش یہی ہوگی کہ ابوجہل چچا کی حیثیت سے آپ کو سپورٹ کریں اور اس مشکل وقت میں کام آئیں۔ لیکن معاملہ اس کے برعکس ہوا۔ اسی پہلے کھلم کھلم اختلاف کو قرآن نے موضوع بنا کر بیان کیا۔ اس کے بیان کی وجہ اس کا خلاف توقع ہونا  ، اسکی شدت اور بے اصولی تھی۔ اسی پس منظر میں ان آیات کا مطالعہ کرتے ہیں۔

۶۔ كَلَّآ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَيَطْغٰٓى (6) اَنْ رَّاٰهُ اسْتَغْنٰى (7)اِنَّ اِلٰى رَبِّكَ الرُّجْعٰى (8)

ہرگز نہیں، بے شک آدمی سرکش ہو جاتا ہے۔جب کہ اپنے آپ کو غنی پاتا ہے۔بے شک آپ کے رب ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

یہاں بات عمومی طور پر بیان ہوئی ہے ۔ وحی کی دعوت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کئی تجربات سے گذرنا تھا اور اس میں سب سے پہلا تجربہ یہی اصول تھا کہ انسان  کے جب سارے مسائل حل ہورہے ہوتے ہیں تو اس سے اس میں  سرکشی   پیدا ہوجاتی ہے۔ یہ رویہ قریش کی لیڈر شپ میں بالکل عام تھا اور ابتدا میں جو لوگ ایمان لائے تھے وہ غریب لوگ تھے۔ حالانکہ انسان جانتا ہے کہ وہ سب کچھ یہیں چھوڑ کر چلا جائے گا۔ تو جو چیز اس میں تکبر پیدا کررہی ہے وہ تو ایک عارضی چیز ہے۔

یہی اصول آج کے دن بھی موجود ہے۔ خدا کی یاد سے غافل بالعموم امیر اور دولت مند ہی ہوتے ہیں۔ انہیں خدا کا حکم ماننا برا لگتا ہے کیونکہ وہ خود کو لاشعور ی طور پر بڑا سمجھتے اور قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں۔ وہ ہر اصول، قانون اور حکم کو پیسوں سے  خریدنا چاہتے ہیں۔ یہیں سے ان کی گمراہی اور تباہی کی بنیاد پڑ جاتی ہے۔

۷۔ اَرَاَيْتَ الَّـذِىْ يَنْهٰى (9)عَبْدًا اِذَا صَلّـٰى (10)

کیا آپ نے اس کو دیکھا جو منع کرتا ہے۔ایک بندے کو جب کہ وہ نماز پڑھتا ہے۔

یہاں وہی ابوجہل کی جانب اشارہ ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ابوجہل نے نہیں ماننا تھا تو نہ مانتا ، وہ نبی کریم کو دعوت دینے سے کیوں روکنے لگا خاص طور پر جب آپ مراسم عبودیت ادا کررہے تھے اس وقت۔  اس کی وجہ یہی تھی کہ ابوجہل قریش کے لیڈروں میں سے تھا۔  خانہ کعبہ میں بت پرستی اس وقت  اہل مکہ اور بالخصوص قریش کے لیے ایک  معاشی فائدہ کے باعث تھی۔ لوگ دوردراز کے علاقوں سے یہاں حج اور عمرہ کرنے اور اپنے بتوں کو چڑھاوے چڑھانے کے لیے آتے تھے۔  ظاہر ہے، اگر بت پرستی کا خاتمہ ہوتا تو قریش کو ملنے والی ایک بڑی رقم سے ہاتھ دھونا پڑتے۔ اس کے علاوہ نبی کریم کو رسول ماننے کے بعد سیاسی حکمرانی بھی ممکنہ طور پر قریش کی اس وقت کی لیڈرشپ کے ہاتھوں سے نکل جاتی۔

اس تناظر میں ابوجہل نے نہ صرف دعوت کا انکار کیا بلکہ اس کا سب سے بڑا مخالف بن کر کھڑا ہوگیا۔ ان آیات میں اسی جانب اشارہ ہے کہ ابوجہل کو تم نے دیکھا کہ کس طرح اس نے ہمارے بندےمحمد کو اپنے رب کے اگے جھکنے سے روک دیا۔

ابوجہل کی دوسری حیثیت مذہبی نظام کے پیشوا اور کرتا دھرتا کی تھی۔ اس کی مخالفت کی ایک دوسری وجہ یہی مذہبی پروہتوں کی نمائندگی تھی۔ امیروں کے بعد دوسرے لوگ جو غنی ہوتے ہیں اور لاپرواہی کا شکار ہوسکتے ہیں وہ مذہبی لیڈرشپ ہے۔ ان کے پاس  دولت کے برعکس ایک دوسری طاقت ہوتی ہے اور وہ ہے خدا کے نام پر لوگوںکو  احکامات دینا۔ اس بات کا قوی امکان ہوتا ہے کہ یہ لوگ اس طاقت کا غلط استعمال کرلیں گے۔ چنانچہ ماضی میں بنی اسرائل کے علما نے یہی کیا یہاں تک کہ اپنی مذہبی گدی بچانے کے لیے حضرت مسیح علیہ السلام تک کو پھانسی چڑھانے کی کوشش کی۔

اسی خدشے کا اظہار نبی کریم نے اپنی امت کے لیے کیا تھا کہ تم ضرور یہود و نصاری کی پیروی کروگے۔ یہی معاملہ ہماری مذہبی لیڈرشپ کے ساتھ ہوچکا ہے۔ آج مدارس میں جب بھی اصلاحات لانے کی بات کی جاتی ہے تو اسی قسم کی مخالفت ان کی جانب سے پیدا ہوتی ہے۔

۸۔اَرَاَيْتَ اِنْ كَانَ عَلَى الْـهُـدٰٓى (11)اَوْ اَمَرَ بِالتَّقْوٰى (12)

بھلا دیکھو تو سہی اگر وہ راہ پر ہوتا۔یا پرہیز گاری سکھاتا۔

یہاں اس تاسف کا اظہار کیا جارہا ہے کہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ابو جہل ایک لیڈر ہونے کے ناطے اور نبی کریم کا قرابت دار ہونے کے ناطے خود ہدایت کو قبول کرتا اور اسی تقوی کا حکم دیتا جو نبی کریم دے رہے تھے۔ لیکن و ہ اس مشن میں  ساتھی بنے کی بجائے مخالف بن گیا۔

۹۔ اَرَاَيْتَ اِنْ كَذَّبَ وَتَوَلّـٰى (13) اَلَمْ يَعْلَمْ بِاَنَّ اللّـٰهَ يَرٰى (14)

بھلا دیکھو تو سہی اگر اس نے جھٹلایا اور منہ موڑ لیا۔تو کیا وہ نہیں جانتا کہ اللہ دیکھ رہا ہے۔

یہ ابوجہل کے برے رویے اور باڈی لینگویج کی جانب اشارہ ہے۔ کہ اس نے اس حق میں ساتھ بننے کی بجائے اسے جھٹلادیا اور منہ موڑ لیا۔ اگلی آیت میں یہ  بتایا جارہا ہے کہ کیا وہ نہیں جانتا کہ اللہ دیکھ رہا ہے۔ اس آیت کو سمجھنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ ابوجہل کو ئی ملحد نہیں تھا بلکہ وہ خدا کو مانتا تھا اور اپنے مذہب کا پیروکار تھا۔ وہ  اصلا مذہب ابراہیمی کا پیروکار تھا    اور جانتا تھا کہ اللہ ہر وقت دیکھ رہا ہے۔ اس علم کے باوجود اس کا نبی کریم سے پرتشدد رویہ یہ بتارہا تھا کہ وہ انتقام کی آگ میں  اس حد تک آگے جاچکا تھا کہ اپنے مذہب کی اقدار بھی فراموش کربیٹھتا تھا۔

۱۰۔ كَلَّا لَئِنْ لَّمْ يَنْتَهِ لَنَسْفَعًا بِالنَّاصِيَةِ (15) نَاصِيَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍ (16)

ہرگز ایسا نہیں چاہیے، اگر وہ باز نہ آیا تو ہم پیشانی کے بال پکڑ کر گھسیٹیں گے۔پیشانی جھوٹی خطا کار۔

یہاں ابوجہل  کو وارننگ دے دی گئی تھی کہ تمہار ا معاملہ کسی عام انسان سے نہیں بلکہ عالم کے پروردگار سے ہے۔ یہاں پیشانی کے بال سے پکڑ کر گھسیٹنے کا جملہ اپنے مجازی معنوں میں ہے۔ اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ مرنے کے بعد اسے دوزخ کے فرشتے اس طرح گھیٹیں گے۔ ایک دوسری تعبیر یہ ہے کہ انسان کی پیشانی کے سامنے والا حصہ  بہت اہم ہوتا ہے ۔ اگر اسے نقصان پہنچ جائے انسان کی عقل ختم ہوسکتی اور وہ دماغی طور پر بالکل معذور ہوسکتا ہے۔ تو یہاں اشارہ ہے کہ اگر یہ شخص باز نہ آیا تو ہم اسے نہ صرف جاہل بنادیں گے بلکہ جاہلوں کے سردار کے نام سے رہتی دنیا تک زندہ رکھیں گے۔ واضح رہے کہ ابوجہل کا اصل نام  عمرو ابن ہشام تھا۔ ابوجہل یعنی جاہلوں کا سردار کا لقب تو اسے بعد میں ملا جب اس نے اسلام کی مخالفت میں انتہائی درجے کی جہالت کا اظہار کیا۔ یہی ابوجہل کا لقب اس آیت میں کی گئی پیشین گوئی  کا اظہار ہے۔

۱۱۔ فَلْيَدْعُ نَادِيَهٝ (17) سَنَدْعُ الزَّبَانِيَةَ (18)

پس وہ اپنے مجلس والوں کو بلا لے۔ہم بھی مؤکلین دوزخ کو بلا لیں گے۔

یہاں یہ وارننگ شدید  رخ اختیار کررہی ہے ۔ چونکہ ابو جہل کی مخالفت اب اس مقام پر پہنچ گئی تھی کہ اس نے تشدد کا رخ اختیار کرلیا تھا۔ تو یہاں پہلے تو اسے ڈائلاگ کی دعوت دی گئی کہ وہ بھی اپنا جتھا لے آئے تو ہم بھی اپنا جتھا لے آتے ہیں اور بات کرکے دیکھ لیتے ہیں کہ کون جاہل ہے۔

۱۲۔كَلَّا ۖ لَا تُطِعْهُ وَاسْجُدْ وَاقْتَـرِبْ ۩ (19)

ہرگز ایسا نہیں چاہیے، آپ اس کا کہا نہ مانیے اور سجدہ کیجیے اور قرب حاصل کیجیے۔

یہاں نبی کریم کو حکم دیا جارہا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ اس کی باتوں کی طرف توجہ فرمالیں۔ دراصل یہاں نبی کریم کو مخاطب کرنے باالواسطہ نومسلموں کو مخاطب کیا جارہا ہے کہ تم ان کی باتوں میں نہ آجانا، اس کے تشدد کی پروا مت کرنا، اس کی ظلم ستم سے نہ گھبرانا۔ بس جب بھی اس کی باتوں سے یا تشدد سے تکلیف ہو تو اللہ کا قرب تلاش کرکے  اور خواہشات و جذبات  کو خدا کے آگے سرنگوں کردینا۔ پڑھنا جاری رکھیں »


سورہ فاتحہ کی تفسیر

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Saturday Jul 9, 2016

سورہ فاتحہ کی تفسیر

پروفیسرڈاکٹر محمد عقیل

اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم فرمانے والا ہے

تعارف: سورہ فاتحہ کی تین آیات علم اور باقی تین آیات عمل کی ہیں۔ یہ ترازو یا میزان کے دو پلڑے ہیں جس میں ایک جانب علم اور دوسری جانب عمل موجود ہے۔  علم اور عمل کے امتزاج ہی سے فاتحہ یعنی وہ دروازہ کھلتا ہے جس سے انسان دینی و دنیوی زندگی کی کامیابیاں سمیٹتا ہے۔سورہ فاتحہ دین و دنیا کی کامیابی کا فلسفہ اور کنجی ہے۔ یہ کم و بیش متفقہ طور پر  وہ پہلی سورۃ ہے جو مکمل طور پرنازل ہوئی۔

  1. سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کی پرورش فرمانے والا ہے

تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے۔ یعنی اللہ کا جو پہلا تعارف ہمیں جس صفت سے دیا گیا وہ رب کی ہے جس کا مطلب آقا، پالنے والا، محافظ ، پالنہار، پروروش کرنے والے کا ہے۔ تو اللہ کا پہلا تعارف  جس صفت کا ہے وہ ” رب ” ہے۔ تو اللہ  کا پہلا تعارف، یا پہلی صفت یا  پہلی  تعریف ((Definition یہ ہے کہ وہ تمام جہانوں کا رب ہے۔

اللہ کی چھ بڑی صفات میں ” رب ” ایک نمایاں صفت ہے۔  یہ آیت بتاتی ہے کہ اللہ ہی تعریف کا مستحق ہے اور اس کی وجہ بھی بتادی کہ وہ ہی اصل پالنے والا ہے۔ اور وہ صرف اس دنیا کے کسی ایک حصے کا پالنے نہیں بلکہ تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔ اس کے رب ہونے کا بنیادی تقاضا صرف یہی نہیں کہ وہ انسان کی مادی نشونما کا خیال رکھے اور اسے کھانے پینے، رہنے   اور ستر پوشی کے لیے سامان فراہم کرے۔ بلکہ وہ انسان کے روحانی وجود کے ارتقا کا بھی اسی محبت سے خیال رکھتا ہے ۔

یہ وحی جس کا دیباچہ سورہ فاتحہ ہے اسی ربوبیت  کا تسلسل ہے۔ وہ پالتا ہے تو صرف جسم ہی کو نہیں پالتا بلکہ روح اور عقل کو بھی غذا فراہم کرتا ہے۔ یہ قرآن  اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس میں انسان کو اس کے رب کا تعارف، اس کا مقصد حیات ، دنیا وی  شریعت اور آخرت میں کامیابی و ناکامی کے مدارج ایک یقینی سطح پر بتائے جارہے ہیں۔

  1. نہایت مہربان بہت رحم فرمانے والا ہے

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ کس قسم کا رب آقا یا پالنے والا ہے۔ کیا وہ  جابر ظالم قسم کا آقا ہے جو صرف اپنے بندوں پر ظلم کرنا جانتا ہے ۔ تو ان آیات میں اس کا جواب دیا گیا کہ نہیں وہ رحمان اور رحیم ہے۔  رحمان اور رحیم  اس رب کی صفات ہیں۔ یہ محض صفات نہیں بلکہ خدا  کی نظام ربوبیت  کا قانون  ہیں۔

صفت رحمان کا تعارف

رحمان کی صفت ایک الگ میکنزم ہے اور رحیم ایک الگ سسٹم۔ صفت رحمان اسباب  و نتیجہ (Cause and effect) کے سسٹم کو بیان کرتی ہے۔ ایک شخص دنیاوی زندگی میں  جس طرح اسباب کو استعمال کرے گااسی قسم کا پھل کھائے گا۔ ایک طالب علم اگر  محنت کرے گا تو پاس ہوجائے گا، اگر کوئی بزنس کاروباری صلاحیتیوں کو اچھی طرح استعمال کرے گا تو ترقی کرے گا۔ صفت رحمانی صرف مثبت ہی نہیں منفی امور میں بھی اسی قسم کے نتائج پیدا کرتی ہے۔ چنانچہ ایک  شخص اگر  ناجائز ذرائع سے دولت جمع کرنے کی پلاننگ کرے گا تو اسباب و علل کا یہ نظام اس کی اسی طرح مدد اور سپورٹ کرے گا جیسے حلال روزی کمانے والے کی کرتا ہے۔

لیکن یہ صفت رحمانی جس طرح مادی امور میں کام کرنے والوں کو سپورٹ سسٹم فراہم کرتا ہے اسی طرح اخلاقی میدان میں بھی اس کا نتیجہ نکلتا ہے۔ چنانچہ ایک شخص جو جھوٹ بولے گا وہ وقتی فائدہ تو اٹھا لے گا لیکن طویل مدت(Long run) میں وہ لوگوں کے درمیان جھوٹا مشہور ہوجائے گا اور وہ سارے نقصانات سمیٹ لے گا جو  جھوٹ بولنے سے پیدا ہوتے ہیں۔ اسی طرح ایک شخص  اگر ساری زندگی فراڈ کرتا رہے اور لوگوں کو دھوکا دیتا رہے تو وہ سوسائٹی میں اس حیثیت سے مشہور ہوجاتا اور ایک وقت آتا ہے کہ پکڑا جاتا ہے۔

لیکن بعض اوقات ایک شخص ساری زندگی چوری ، ڈاکہ ، فراڈ اور کرپشن    کے باوجود پکڑا نہ جائے یا اسے کوئی نقصان نہ پہنچے۔یہ صفت رحمانی یا اسباب و علل کی دنیا کی بنا پر ہوتا ہے۔ اس قسم کے شخص کے لیے دنیا میں صفت رحمانی کسی اور طرح کام کرتی اور اسے بے سکونی ، بے برکتی، ٹینشن، ڈپریشن، اولاد کی جانب سے اذیت یا اسی قسم کے دوسرے  عذاب میں مبتلا کرکے  اس کی سزا کا تعارف پیش کرتی ہے ۔ یہ سزا بعض اوقات پوشید ہوتی ہے اور دیکھنے والوں کو نظر نہیں آتی لیکن  جس پر بیت رہی ہوتی ہے وہی اس کو جانتا ہے۔  اصلی سزا تو آخرت ہی میں ممکن ہے۔

صفت رحمان کا خلاصہ ہے کہ ” جو بوؤگے وہی کاٹو گے” یا” اچھے کام کا اچھا انجام اور برے کا کام برا انجام “۔ یہ نظام ربوبیت سب کے لیے کامن ہے خواہ وہ خدا کا ماننے والا ہو یا اس کا انکاری۔ خواہ وہ اچھائی کا معاملہ ہو یا برائی کا۔ یہ معاملہ دنیاوی زندگی میں بھی ہے اور آخرت میں تو بالکل قطیعت کے ساتھ موجود ہوتا ہے۔اور انسا ن آزاد ہے کہ وہ اپنی مرضی سے جو چاہے قبول کرے۔

صفت رحیم

صفت رحمان اسباب و علل کی دنیا کا تعارف ہے  تو صفت رحیمیت خدا شفت، رحمت ، محبت کا اسباب و علل سے ماوار اظہار۔ صفت رحمان جزا و سزا کا نظام ہے جبکہ صفت رحیم  اس جزا کے نظام کا تیزی کے ساتھ اطلاق۔ جب ایک شخص آگے بڑھ کر خود کو خدا کی غلامی میں دے دیتا، اپنا تن من دھن قربان کردیتا اور اپنا قیمتی وقت خدا کے لیے وقف کردیتا ہے تو یہی رحمانی سسٹم رحمیت میں تبدیل ہوجاتا ہے۔  اب وہ خدا کی براہ راست نگرانی میں زندگی بسر کرتا ہے۔ پھر ربوبیت کا نظام اسباب سے ماورا ہوکر اس کے لیے رحمت ، شفقت ، مہربانی اور عنایت کا منبع بن جاتا ہے۔ یہاں ضروری نہیں کہ ایسا شخص صرف مادی طور پر ترقی کرے۔ اس کا ارتقا داخلی و خارجی دونوں میدانوں میں ہوتا ہے۔ وہ خارجی طور پر دولت، شہرت، عزت، اسٹیٹس، اچھے تعلقات، اقتدار اور دیگر چیزوں سے مستفید ہوسکتا ہے تو باطنی طور پر سکون، شخصیت کے ارتقا، علم، حکمت ، معرفت ، قرب الٰہی وغیرہ سے مستفید ہوسکتا ہے۔ یہ ممکن ہے کہ ایک شخص بظاہر دنیا میں غریب اور  مجبور شخص کی حیثیت سے نظر آئے لیکن لانگ ٹرم میں وہ ایک کامیاب شخص کی حیثیت سے ابھرتا ہے۔

صفت رحیمیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جو لوگ خود کو خدا کے سپرد کردیتے ہیں تو خدا بھی ان کا ہوجاتا ہے۔ صفت رحمان اور رحیم کا خلاصہ ایک مثال سے سمجھ آسکتا ہے۔ ایک شخص اگر لگی بندھی نوکر ی کرتا ہے تو اسے لگی بندھی تنخواہ ملتی ہے۔ دوسری جانب کوئی شخص  اگر اپنے مالک کی خدمت میں نوکری کے اوقات نہیں دیکھتا ، نہ دن دیکھتا ہے نہ رات تو اس کو انعام بھی پھر اسی کی مناسبت سے ملتا ہے۔

  1. روز جزا کا مالک ہے

روز جزا سے مراد ہمارے لٹریچر میں صرف آخرت کا دن لیا جاتا ہے ۔ عمومی طور پر تو یہ بات درست ہے لیکن  اس کا تجربہ ہم دنیا ی زندگی میں  بھی کرتے ہیں۔ اس دنیا میں بھی ہم جو عمل کرتے ہیں اس  کا بدلہ پاتے ہیں۔ یہ بدلہ دینے والی ذات وہی رب ہے۔ چنانچہ بالواسطہ طور پر ہر بدلہ یعنی جزا و سزا کا مالک اللہ ہی ہے لیکن وہ نظر نہیں آتا۔ روز جزا کے دن اصل میں وہ ظاہر ہوجائے گا ۔ اس دنیا میں لوگ جب اسباب کے پردے میں ہی بدلہ کو دیکھتے ہیں تو روز جزا میں وہ   اس پردے کے پیچھے اصل ہاتھ کو دیکھ لیں گے۔ وہ جان لیں گے کہ اصل مالک کون ہے۔

بدلہ کے نظام میں ایک اہم بات یہ ہے کہ انسان کو کوشش کرنے کا تو اختیار ہے اس کا بدلہ حاصل کرنے کا اختیار نہیں۔ مثال کے طور پر ایک طالب علم کو  محنت کرنے کا اختیار ہے لیکن اس کا نتیجہ لانے کا اختیار نہیں۔ اس کی کامیابی میں صرف اس کی محنت ہی کا پہلو نہیں بلکہ دیگر عناصر بھی شامل ہیں جیسےامتحان دیتے وقت    اس کی صحت کا برقرار رہنا،  اس کی کاپی کا درست طور پر جانچا جانا ، کسی فراڈ کا نہ ہوجانا وغیرہ۔ اسی لیے بدلہ دینے کا مکمل اختیار خدا کے اپنے ہاتھ میں ہے۔ دنیا میں بدلہ ملنے کا اصول  آزمائش اور آخرت میں بدلہ ملنے کا اصول محنت ہے۔

یہاں جزا و سزا اسی صفت رحمانی کے تحت  ہوگی۔ جس کے تحت جس نے جو کام کا ہوگا اس کے مطابق اس کا بدلہ دے دیا جائے گا۔ یعنی جو بدلے کا نظام اس دنیا میں نافذ تھا وہ کامل صورت میں آخرت میں ظاہر ہوجائے گا۔ چونکہ اس دن سارے کام حق کے مطابق ہونگے اس لیے برے کام کو چھپانا ممکن نہیں ہوگا اور صرف اچھائی ہی کا انجام اچھا ہوگا اور برائی کا انجام برا۔

اس دن بھی  صفت رحمانی کا ایک پہلو رحیمیت کا بھی اظہار ہوگا ۔ چنانچہ خدا کے انبیاء، صدیقین، شہدا، صالحین کو الگ کرکے انہیں حساب و کتاب سے مستثنی قرار دے کر براہ راست خدا کی قربت کا عندیہ دے دیا جائے گا۔

تین آیات کا خلاصہ

سورہ فاتحہ کی ان تین آیات کو دیکھیں تو یہ خالصتا علمی پہلو کی جانب نشاندہی کرتی ہیں۔ یعنی علمی طور  یہ بتاتی ہے کہ تمام تعریفوں کا مستحق اللہ رب العالمین ہے اور  اللہ کا پہلا تعارف یہ ہے کہ وہ رب العالمین ہے یعنی تمام جہانوں کا پالنے والا اور آقا۔  وہ ایسا رب ہے جس نے صفت رحمانیت کے ذریعے جزا و سزا کا نظام  دنیا و آخرت  میں نافذ کررکھا ہے۔ یہ نظا م ربوبیت اس قانون پر ہے کہ جو بوؤگے وہی کاٹوگے۔اس کا مظاہرہ روز جزا کی صورت میں آخرت میں ظہور پذیر ہوگا لیکن دنیا میں بھی اس کا مظاہرہ ہوتا رہتا ہے۔

اگلی تین آیا ت

سورہ فاتحہ کی اگلی تین آیات ترازو کا دوسرا پلڑا ہیں۔پہلا پلڑا  کامیابی کے علمی پہلو کی وضاحت کرتا ہے جبک   دوسرا پلڑا  عمل کے پہلو کو واضح کرتا ہے۔ علم کے بغیر  عمل ممکن نہیں اور عمل کے بنا علم بے کار ہے۔  اگلی آیات اسی علمی پہلو کو عمل میں منتقل کرنے کو بیان کیا ہے۔

  1. (اے اللہ) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور ہم تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں

جب خدا کا ایک اجمالی تعارف مل گیا کہ وہ ہی لائق تعریف ہے ، وہی رب ہے، اس کا رحمانی و رحیمی سسٹم پوری شان سے نافذا لعمل ہے اور اسی کے ہاتھ میں  دنیا و آخرت کا بدلہ  ہے۔ جب تنہا وہی اس پورے دنیاوی و دینی نظام ربوبیت کا مالک ہے اور تنہا تعریف کے لائق ہے  تو  پھر تنہا اسی کی بندگی کی جائے۔

عبادت کا مفہوم

عبادت  کا مطلب  ایک عاجز  ، حقیر اور پست  غلام کا اطاعت گذاری کرنا ہے۔یہاں عبادت کا مفہوم یہی ہے کہ خدا کے سامنےانتہائی عاجزی اور تذلل اختیار کیا جائے اور اسی کی اطاعت کی جائے اور اگر کسی اور کی اطاعت بھی کی جائے تو اس کو خدا کی اطاعت کے ذیل ہی میں کیا جائے۔ چنانچہ پیغمبر، والدین، حکومت، اساتذہ وغیرہ کی جو اطاعت کی جاتی وہ خدا کی اطاعت کے ذیل ہی میں کی جاتی ہے۔

غیر اللہ کی عبادت کا مفہوم یہی ہے کہ اللہ کے سوا کسی اور ہستی کے مراسم عبودیت (جیسے سجدہ ) اور اطاعت اس درجے میں کی جائے  اور اس نیت سے کی جائے جو صرف  اللہ ہی کو سزا وار ہے۔

استعانت یعنی مدد مانگنے کا مفہوم

اس علمی پہلو کو جان لینے کے بعد انسان جب خدا کی راہ میں قدم رکھتا ہے تو دنیوی و دینی زندگی میں قدم قدم پر اسے مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔ ان مشکلات سے نبٹنے کے لیے وہ درحقیقت خدا کی جانب ہی رجوع کرتا ہے۔ اور اسی سے مدد مانگتا ہے۔ مدد مانگنے سے کیا مراد ہے یہ بھی جان لینا چاہیے۔ خدا کا رحمانی نظام اسباب کی دنیا ہے۔ چنانچہ اسباب کو کسی کام کو کرنے کے لیے استعمال کرنا دراصل خدا ہی سے مدد مانگنا ہے کیونکہ اسباب خدا ہی کے بنائے ہوئے ہیں۔ چنانچہ ایک شخص  بیماری دور کرنے کے لیے دوا استعمال کرتا ہےتو یہ بیماری دور کرنے کا وہ طریقہ ہے جو اسباب و علل پر مبنی ہے اور دوا استعمال کرنا خدا ہی مدد مانگنا ہے۔ اسی طرح کسی انسان سے قرض لینا یا کوئی چیز سمجھنے کے لیے مدد لینا مادی وسائل کو استعمال کرنا ہے اور خدا کی رحمانیت ہی کی توثیق ہے۔

مدد کی ایک اور قسم ہوتی ہے جو اسباب سے ماورا ہوتی ہے۔ اسباب سے ماورا مدد صرف خدا سے مانگی جاسکتی ہے  اور اس کا طریقہ بھی خدا ہی بتاتا ہے۔ اگر اس کی سند خدا کے بتائے ہوئے طریقے میں نہ ملے تو یہ  شرک  تک لے جاسکتی ہے ۔مثال کے طور پر مشرکین مکہ فرشتوں کو خدا کی بیٹی قرار دے کر ان کو سفارش کے لیے استعمال کرتے تھے۔ خدا نے قرآن میں سب سے پہلا اعتراض ہی یہ کیا کہ اس بات کی سند  عقل و فطرت یا وحی میں دکھاؤ کہ یہ خدا کی بیٹیاں ہیں اور خدا ان کی بلامشروط بات سنتا اور مانتا ہے۔اسی طرح جنات سے مدد مانگنا  بھی خدا کی سند کے بنا تھا اس لیے یہ بھی شرک قرار پایا۔

دوسری جانب ہم دیکھیں تو حضرت سلیمان علیہ السلام کے بارے میں بیان ہوتا ہے کہ وہ جنات سے کام لیا کرتے تھے اور جنات ان کے فرماںبردار تھے۔یہاں جنات کو استعمال کرنا، ان کو عمارتیں تعمیر کرانے کے استعمال کرنا کسی طور شرک میں نہیں آئے گا کیونکہ یہ خدا کی اجازت سے تھا اور اسباب کے تحت تھا۔

غیر اللہ سے مدد مانگنے کا ایک اور معاملہ  جمادات جیسے چاند سورج اور ستاروں اور آگ کو خدا کا مظہر سمجھ کر ان سے مانگنا ہے ۔ ظاہر ہے اس کی تردید بھی عقل و فطرت اور وحی میں ہوجاتی ہے۔ غیر اللہ سے مدد مانگنے کی ایک اور مثال مزارات پر بزرگوں کو زندہ سمجھ کر ان کے ذریعے خدا سے سفارش کرانا ہے۔ اگر اس کی توثیق خدا نے کی ہے کہ یہ برگزیدہ ہستیاں  اصل میں زندہ ہوتے ہیں اور ان کی زندگی اس طرح کی ہوتی ہے کہ ہم ان سے رابطہ کرسکتے ہیں اور یہ بھی ہم سے رابطہ کرسکتے اور خدا کے حضور ہماری بات رکھ سکتے ، ہمارے لیے دعا مانگ سکتے اور ہمیں نفع پہنچاسکتے ہیں۔ اگر ایسی توثیق موجود ہے تو شرک نہیں اور نہیں تو یہ شرک ہے۔

اللہ کے سواکسی دوسرے سے مانگنے کا مطلب یہ ہے کہ اسباب سے ماورا خدا کی توثیق یا منظوری کے بغیر کسی ہستی یا شے سے مانگا جائے۔

  1. ہمیں سیدھا راستہ دکھا

اس آیت کا تعلق آیت نمبر دو سے ہے ۔ آیت نمبر دو میں بتایا گیا کہ وہ رب رحمان و رحیم ہے۔ تو اب اسی سے راستہ دکھانے کی درخواست کی جارہی ہے۔ عام طور پر اس آیت کو دینی اور آخرت کے معاملات تک محدود کیا جاتا ہے لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ اس دنیا میں بھی سیدھا راستہ  خدا ہی دکھاتا ہے خواہ وہ دنیاوی کامیابی جیسے اچھے کیرئیر کو منتخب کرنے کا معاملہ ہو یا آخرت میں کامیابی کا معاملہ۔

سیدھا راستہ دکھانے کی دعا دراصل درست فیصلہ سازی (Decision Making)  کی دعا ہے۔ خدا کے رحمانی نظام  میں کامیابی کے لیے  صرف جذباتیت  ، نعرہ بازی اور  اللہ ھو کی ضربوں سے کام نہیں چلتا۔ اس  نظام میں کامیابی کے لیے سب سے پہلے ان اسباب اور عناصر کو جانا جاتا  ہے جو کامیابی کے بنیادی عناصر ہیں۔ ان مادی اسباب کو حتی المقدور سمجھ لینے کے بعد اور استعمال کرلینے کے بعد ہی خدا کی نصرت زمین پر اترتی ہے۔چنانچہ جنگ بدر میں نبی کریم نے تمام دستیاب وسائل استعمال کیے، جتنے لوگ موجود تھے سب نے جنگ میں حصہ لیا، جنگ کی جگہ کا انتخاب مشاورت سے کیا گیا ۔ یہ تما م اقدام کرنے کے بعد ہی ممکن ہوا کہ خدا کے فرشتے زمین پر اترے اور مخالفین کو ختم کردیا۔

تو صراط مستقیم کا مطلب کامیابی کا راستہ ہے جو آخرت اور دنیا دونوں کے لیے ہے۔ اسی راستے کی جانب راہمنائی کی درخواست رحمان و رحیم سے کی جارہی ہے تاکہ اس کے نظام ربوبیت یا پرورش میں شخصیت کو ترقی  دی جاسکے۔

اب خد ا سے یہ درخواست کس طر ح کی جاتی ہے یا کی جانی چاہیے؟ یہ معاملہ صرف زبانی ہی نہیں عملی بھی ہے۔ چونکہ یہ آیت عمل کے پلڑے سے متعلق ہے اس لیے  یہ علمی معاملہ نہیں عملی ہے۔ صراط مستقم کی درخواست کرنا دراصل  تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لاکر  راہنمائی کی درخواست کرنا ہے۔ جیسے ایک طالب علم  یہ فیصلہ کرنے جارہا ہے کہ کس فیلڈ کا انتخاب کرے۔ تو وہ سب سے پہلے تو فیصلہ سازی کے تمام  اصولوں کو ذہن میں رکھے ، لوگو ں سے مشاورت کرے، معلومات اکھٹا کرے اور ان کی بنیاد پر فیصلہ کرے۔اس  طالب علم کا یہ سارے کام کرنا دراصل صفت رحمانی کی ورکنگ کو سمجھنا یعنی خدا کے بنائے ہوئے  کامیابی کے اصولوں کو جاننا اور استعمال کرنا ہے۔

خدا کی صفت رحمانی سے راہنمائی کی درخواست کرنا دراصل خدا ہی سے درخواست کرنا ہے کہ وہ اسے سیدھے راستے کی جانب لے جائے۔ اب جو بھی  ان قوانین کو جان کر ان پر عمل کرے گا وہ  دنیاوی ترقی کا راستہ پالے گا خواہ اس کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو۔ البتہ آخرت میں کامیابی کے لیے خدا کی وفاداری شرط ہے  یعنی جنت صفت رحیمیت کی عطا ہے۔

  1. ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام فرمایا۔ ان لوگوں کا نہیں جن پر غضب کیا گیا ہے اور نہ (ہی) گمراہوں کا

یہ آیت اسی سورہ کی آیت نمبر  ۳ کا جوڑا  ہے جس میں کہا گیا کہ اللہ ہی روز جزا کا مالک ہے یعنی کسی بھی کام کا بدلہ دینا اصلا خدا کے اختیار میں ہے۔یعنی تمام علم و عمل کے باوجود اصل اختیار اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے ۔ تو اس آیت میں متعین طور پر ان لوگوں کے راستے پر چلنے کا کہا جارہا ہے جن پر انعام  ہوا اوران کی راہ پر چلنے سے گریز کی دعا کی جارہی ہے جن پر غضب ہو ا یا جو بھٹک گئے۔

یہ آیت پوری  سورہ فاتحہ کا نچوڑ ہے۔  اصل میں یہ وہ منزل ہے جہاں سورہ فاتحہ کے قاری کو لانا مقصود ہے۔  خدا کی تعریف، اس کی رحمانیت کے نظام اور اس کے بدلہ کے طاقت کے ادراک کے بعد اسی کی عبادت  کی جارہی اور اسی سے مدد مانگی جارہی ہے ۔ اسی کے نظام  کے تحت درست فیصلہ سازی کی جارہی ہے  ۔  اس فیصلہ سازی میں ایک اہم کردار کیس اسٹڈیز کا بھی ہوتا ہے۔ ہم اپنے ارد گرد بے شمار ایسی شخصیات دیکھتے ہیں جو یا تو کامیاب دکھائی دیتے ہیں، یا بھٹکے ہوئے معلوم ہوتے ہیں یا یوں لگتا ہے کہ ان پر خدا غضب نازل ہوا ہے۔ ان لوگوں کی زندگی ہمارے لیے مشعل راہ ہوتی ہے۔ یہ کیس اسٹڈی ہم دنیا کی زندگی میں بھی اختیار رکھتے ہیں اور آخرت میں بھی۔

مثال کے طور پر سب سے پہلے پیغمبروں کی زندگی آتی ہے۔  پیغمبر خدا کی رحمانی نظام سے نہ صرف آگاہ ہوتے ہیں بلکہ وہ خدا کی صفت رحیمیت کے تحت بھی ہوتے ہیں۔ ان کے بارے میں ایک غلط تصور یہ پایا جاتا ہے کہ یہ دنیاوی طور پر ناکام شخصیات ہوتے ہیں کیونکہ کہ غریب اور مجبور  ہوتے ہیں۔ یہ ان کی زندگیوں کا ظاہری  مطالعہ ہے۔ عام طور پر  پیغمبر اپنی زندگی کے  فیز میں ایک ایسی شخصیت نظر آتے ہیں جو دنیاوی طور پر محروم   طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ لیکن یہ خدا کے رحمانی نظام کو جانتے ہوئے اس فیز کو صبر و استقامت اور حکمت کے ساتھ گذار لیتے  اور اپنے ساتھ ایک مختصر ہم خیال لوگوں پر مشتمل گروہ بنالیتے ہیں۔ اگلے مرحلے میں ان کے مخالفین تباہ کردیے جاتے اور یہی محروم گروہ اس زمین کا وارث بن جاتا ہے۔ تو دنیاوی طور پر بھی اصل کامیابی انہی پیغمبروں  کی جماعت کو ملی ۔

دوسری جانب وہ لوگ تھےجو خدا کے رحمانی نظام کے صرف ظاہری پہلو کو جانتے تھے۔ وہ ظاہری پہلو مادی اسباب کا تھا۔ جیسا کہ ہم نے اوپر پڑھا کہ خدا  کا رحمانی نظام صرف مادی اسباب و علل کا نام نہیں۔اس میں نظام میں اخلاقی معاملات بھی اتنے ہی اہم ہیں جتنے مادی۔ جس طرح ایک شخص کا آگ میں ڈالنے کا لازمی نتیجہ ہاتھ جل جانا ہے ایسے ہی   جھوٹ بولنے کا لازمی انجام  بے اعتبار ہوجانا ہے۔ لیکن پہلا معاملہ بہت جلد نظر آجاتا ہے اور دوسرے معاملے کا نتیجہ دیر سے نکلتا ہے۔ چنانچہ پیغمبر کے مخاطبین جب حق کو جان کر اور اس کو مان کر اورسمجھ کر محض شارٹ ٹرم مفادات کے لیے لانگ ٹر م فوائد کو چھوڑ دیتے ہیں تو خدا کا رحمانی نظا م انہیں یہ شارٹ ٹرم فوائد دےدیتا ہے۔لیکن جونہی اس کی مدت  پوری ہوتی ہے ان کو اس کا فائدہ ملنا بند ہوجاتا ہے اور خدا کا رحمانی نظام انہیں مزید کسی لانگ ٹرم  فائدہ کو حاصل کرنے سے قبل انہیں فنا کردیتا ہے۔ انہوں نے یہی چاہا تھا اور سسٹم نے یہی کچھ انہیں د ے دیا۔

انعام یافتہ لوگوں اور غضب کا سامنا کرنے والے گروہ کے درمیان اور اور گروپ ہوتا ہے جسے ضالین یا بھٹکے ہوئے لوگ کہا جاتا ہے۔ یہ گروہ  ان دوانتہاؤں کے درمیان ہوتا ہے ۔ یہ و ہ لوگ ہیں جنہوں نے  ابھی  حق کا اس درجے میں انکار نہیں کیا کہ ان پر غضب نازل ہو۔ ان کے بھٹکنے کی دو بنیادی وجوہات ہوتی ہیں، یا تو یہ  علمی طور پر ناقص مقام پر ہوتے ہیں یا عمل کے لحاظ سے غلط جگہ پر کھڑے ہوتے ہیں۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں یہ تین گروہ متعین طور پر مل جاتے ہیں۔ انعام یافتہ لوگ پیغمبر ان پر ایمان لانے والے صحابی ہیں۔ مغضوب لوگ کفار مکہ کے ہلاک کردیے جانے والے گروہ  اور مدنی دور میں جلاوطن کیے جانے والے یہود ہیں۔ جبکہ ضالین یعنی گمراہ لوگوں میں منافقین،بدو، کمزور ایمان والے لوگ   اور ایمان نہ لانے  عیسائی  شامل ہیں۔

چنانچہ جن لوگوں پر انعام ہوا اس کی پہلی  کیس اسٹڈی  پیغمبر اور  جن پر غضب ہو ا ان کی مثال پیغمبر کے منکرین ہوتے ہیں۔ یہ کیس اسٹڈیز  مذہبی کتب، لٹریچر اورتاریخ   میں جگہ جگہ مل جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ یہ ہمارے ارد گر کے لوگوں  میں بھی پائی جاتی ہیں۔آدم، نوح، ابراہیم ، ھود ، موسی ، داؤد، سلیمان، عیسی وغیرہم انعام یافتہ لوگوں کی مثالیں ہیں۔ ابلیس، نمرود، شداد، فرعون، ہامان، قارون ، ابوجہل، ابولہب وغیرہم مضضوب  لوگوں کے کیسز ہیں۔

یہ انعام یافتہ لوگ دینی و دنیاوی دونوں زندگی میں رول ماڈل کے طور پر موجود ہوتے ہیں۔ ان کو دیکھ کر کوئی بھی شخص نہ صرف خدا کی صفت رحمانیت کو جان لیتا بلکہ اس کا عملی مظاہرہ بھی دیکھ لیتا ہے۔ خدا کی رحمانیت کو جان کر اسباب و علل کی بنیاد پر مادی ترقی کرنے کے رول ماڈل سیاسی اسلامی  غلبہ  کا پہلا دور تھا جس میں خلفائے راشدین نے اسی نظام کو استعمال کرکے اس کی برکات حاصل کیں۔ بعد میں ان مادی قوانین سے مسلمان جوں جوں دور ہوتے گئے تو یہ کامیابی یورپ، امریکہ اور چین کے حصے میں آنے لگی ہے۔

سورہ فاتحہ کا خلاصہ

سورہ فاتحہ کامیابی کا تالہ  کھولنے والی  چابی ہے۔یہ دنیاوی کامیابی اور دینی کامیابی کا بنیادی فلسفہ بیان کرتی ہے۔  سورہ فاتحہ کی چھ آیات دراصل ترازو کے دو پلڑوں میں رکھی ہوئی ہیں۔ ایک پلڑے میں ابتدائی تین آیات ہیں جن کا تعلق علم سے ہے اور آخری تین آیات دوسرے پلڑے میں ہیں جن کا تعلق عمل سے ہے۔ ابتدائی تین آیات میں انسان کو خدا کی ابتدائی پہچان اور اس کے جزا و سزا کے نظام سے آگاہی  دی گئی ہے۔ آخری  تین آیات میں  یہ بتایا گیا ہے کہ کس طرح انسان  اس علم پر عمل کرکے خدا کی خوشنودی حاصل کرسکتا، سیدھا راستہ جان سکتا اور انعام یافتہ لوگوں میں شامل ہوکر سزا یافتہ لوگوں  سے دور ہوسکتا ہے۔

اللھم اھدنا الصراط المستقیم۔ آمین


فہم القرآن کورس: سیشن 10۔ خلاصہ

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Saturday Nov 14, 2015

فہم القرآن کورس: سیشن 10۔ خلاصہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
فہم القرآن کورس کے دسویں سیشن کا خلاصہ انتہائی تاخیر کے ساتھ حاضر ہے۔ اس پر آپ سب کے کمنٹس اور جوابات بھی مل گئے ہیں۔ آپ سب بھائیوں اور بہنوں کا بے حد شکر گذار ہوں۔ میرا خلاصہ میرے ناقص فہم کے مطابق حاضر ہے۔آیات یہ ہیں:
سورہ البقرہ آیات 102 تا 113
وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُو الشَّيَاطِينُ عَلَىٰ مُلْكِ سُلَيْمَانَ ۖ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ وَلَـٰكِنَّ الشَّيَاطِينَ كَفَرُوا يُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحْرَ وَمَا أُنزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوتَ وَمَارُوتَ ۚ وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنْ أَحَدٍ حَتَّىٰ يَقُولَا إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْ ۖ فَيَتَعَلَّمُونَ مِنْهُمَا مَا يُفَرِّقُونَ بِهِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ ۚ وَمَا هُم بِضَارِّينَ بِهِ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّـهِ ۚوَيَتَعَلَّمُونَ مَا يَضُرُّهُمْ وَلَا يَنفَعُهُمْ ۚ وَلَقَدْ عَلِمُوا لَمَنِ اشْتَرَاهُ مَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ ۚ وَلَبِئْسَ مَا شَرَوْا بِهِ أَنفُسَهُمْ ۚ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ ﴿١٠٢﴾ وَلَوْ أَنَّهُمْ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَمَثُوبَةٌ مِّنْ عِندِ اللَّـهِ خَيْرٌ ۖ لَّوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ ﴿١٠٣﴾ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقُولُوا رَاعِنَا وَقُولُوا انظُرْنَا وَاسْمَعُوا ۗ وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌ ﴿١٠٤﴾ مَّا يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَلَا الْمُشْرِكِينَ أَن يُنَزَّلَ عَلَيْكُم مِّنْ خَيْرٍ مِّن رَّبِّكُمْ ۗ وَاللَّـهُ يَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهِ مَن يَشَاءُ ۚ وَاللَّـهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ ﴿١٠٥﴾ مَا نَنسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِّنْهَا أَوْ مِثْلِهَا ۗ أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّـهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ﴿١٠٦﴾ أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّـهَ لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۗ وَمَا لَكُم مِّن دُونِ اللَّـهِ مِن وَلِيٍّ وَلَا نَصِيرٍ﴿١٠٧﴾ أَمْ تُرِيدُونَ أَن تَسْأَلُوا رَسُولَكُمْ كَمَا سُئِلَ مُوسَىٰ مِن قَبْلُ ۗ وَمَن يَتَبَدَّلِ الْكُفْرَ بِالْإِيمَانِ فَقَدْ ضَلَّ سَوَاءَ السَّبِيلِ﴿١٠٨﴾
وَدَّ كَثِيرٌ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَوْ يَرُدُّونَكُم مِّن بَعْدِ إِيمَانِكُمْ كُفَّارًا حَسَدًا مِّنْ عِندِ أَنفُسِهِم مِّن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْحَقُّ ۖ فَاعْفُوا وَاصْفَحُوا حَتَّىٰ يَأْتِيَ اللَّـهُ بِأَمْرِهِ ۗ إِنَّ اللَّـهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ﴿١٠٩﴾ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ ۚ وَمَا تُقَدِّمُوا لِأَنفُسِكُم مِّنْ خَيْرٍ تَجِدُوهُ عِندَ اللَّـهِ ۗ إِنَّ اللَّـهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ﴿١١٠﴾ وَقَالُوا لَن يَدْخُلَ الْجَنَّةَ إِلَّا مَن كَانَ هُودًا أَوْ نَصَارَىٰ ۗ تِلْكَ أَمَانِيُّهُمْ ۗ قُلْ هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ ﴿١١١﴾ بَلَىٰ مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّـهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَلَهُ أَجْرُهُ عِندَ رَبِّهِ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ﴿١١٢﴾ وَقَالَتِ الْيَهُودُ لَيْسَتِ النَّصَارَىٰ عَلَىٰ شَيْءٍ وَقَالَتِ النَّصَارَىٰ لَيْسَتِ الْيَهُودُ عَلَىٰ شَيْءٍ وَهُمْ يَتْلُونَ الْكِتَابَ ۗ كَذَٰلِكَ قَالَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ مِثْلَ قَوْلِهِمْ ۚ فَاللَّـهُ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ ﴿١١٣﴾
ترجمہ:
اور ان (ہزلیات) کے پیچھے لگ گئے جو سلیمان کے عہدِ سلطنت میں شیاطین پڑھا کرتے تھے اور سلیمان نے مطلق کفر کی بات نہیں کی، بلکہ شیطان ہی کفر کرتے تھے کہ لوگوں کو جادو سکھاتے تھے۔ اور ان باتوں کے بھی (پیچھے لگ گئے) جو شہر بابل میں دو فرشتوں (یعنی) ہاروت اور ماروت پر اتری تھیں۔ اور وہ دونوں کسی کو کچھ نہیں سکھاتے تھے، جب تک یہ نہ کہہ دیتے کہ ہم تو (ذریعہٴ) آزمائش ہیں۔ تم کفر میں نہ پڑو۔ غرض لوگ ان سے (ایسا) جادو سیکھتے، جس سے میاں بیوی میں جدائی ڈال دیں۔ اور خدا کے حکم کے سوا وہ اس (جادو) سے کسی کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے تھے۔ اور کچھ ایسے (منتر) سیکھتے جو ان کو نقصان ہی پہنچاتے اور فائدہ کچھ نہ دیتے۔ اور وہ جانتے تھے کہ جو شخص ایسی چیزوں (یعنی سحر اور منتر وغیرہ) کا خریدار ہوگا، اس کا آخرت میں کچھ حصہ نہیں۔ اور جس چیز کے عوض انہوں نے اپنی جانوں کو بیچ ڈالا، وہ بری تھی۔ کاش وہ (اس بات کو) جانتے (102) اور اگر وہ ایمان لاتے اور پرہیز گاری کرتے تو خدا کے ہاں سے بہت اچھا صلہ ملتا۔ اے کاش، وہ اس سے واقف ہوتے (103) اے اہل ایمان! (گفتگو کے وقت پیغمبرِ خدا سے) راعنا نہ کہا کرو۔ انظرنا کہا کرو۔ اور خوب سن رکھو، اور کافروں کے لیے دکھ دینے والا عذاب ہے (104)جو لوگ کافر ہیں، اہل کتاب یا مشرک وہ اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ تم پر تمہارے پروردگار کی طرف سے خیر (وبرکت) نازل ہو۔ اور خدا تو جس کو چاہتا ہے، اپنی رحمت کے ساتھ خاص کر لیتا ہے اور خدا بڑے فضل کا مالک ہے (105) ہم جس آیت کو منسوخ کر دیتے یا اسے فراموش کرا دیتے ہیں تو اس سے بہتر یا ویسی ہی اور آیت بھیج دیتے ہیں۔ کیا تم نہیں جانتے کہ خدا ہر بات پر قادر ہے (106) تمہیں معلوم نہیں کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہت خدا ہی کی ہے، اور خدا کے سوا تمہارا کوئی دوست اور مدد گار نہیں (107) کیا تم یہ چاہتے ہو کہ اپنے پیغمبر سے اسی طرح کے سوال کرو، جس طرح کے سوال پہلے موسیٰ سے کئے گئے تھے۔ اور جس شخص نے ایمان (چھوڑ کر اس) کے بدلے کفر لیا، وہ سیدھے رستے سے بھٹک گیا (108) بہت سے اہل کتاب اپنے دل کی جلن سے یہ چاہتے ہیں کہ ایمان لا چکنے کے بعد تم کو پھر کافر بنا دیں۔ حالانکہ ان پر حق ظاہر ہو چکا ہے۔ تو تم معاف کردو اور درگزر کرو۔ یہاں تک کہ خدا اپنا (دوسرا) حکم بھیجے۔ بے شک خدا ہر بات پر قادر ہے (109) اور نماز ادا کرتے رہو اور زکوٰة دیتے رہو۔ اور جو بھلائی اپنے لیے آگے بھیج رکھو گے، اس کو خدا کے ہاں پا لو گے۔ کچھ شک نہیں کہ خدا تمہارے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے(110) اور (یہودی اور عیسائی) کہتے ہیں کہ یہودیوں اور عیسائیوں کے سوا کوئی بہشت میں نہیں جانے کا۔ یہ ان لوگوں کے خیالاتِ باطل ہیں۔ (اے پیغمبر ان سے) کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو دلیل پیش کرو (111) ہاں جو شخص خدا کے آگے گردن جھکا دے، (یعنی ایمان لے آئے) اور وہ نیکو کار بھی ہو تو اس کا صلہ اس کے پروردگار کے پاس ہے اور ایسے لوگوں کو (قیامت کے دن) نہ کسی طرح کا خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے (112) اور یہودی کہتے ہیں کہ عیسائی رستے پر نہیں اور عیسائی کہتے ہیں کہ یہودی رستے پر نہیں۔ حالانکہ وہ کتاب (الہٰی) پڑھتے ہیں۔ اسی طرح بالکل انہی کی سی بات وہ لوگ کہتے ہیں جو (کچھ) نہیں جانتے (یعنی مشرک) تو جس بات میں یہ لوگ اختلاف کر رہے خدا قیامت کے دن اس کا ان میں فیصلہ کر دے گا (113)
خلاصہ:
قرآن فہمی میں آج ایک اہم اصول سےابتدا کرتے ہیں۔ جس طرح ہم اردو یا انگلش میں لکھتے ہیں اور موضوع تبدیل ہونے پر یا اس میں کوئی موڑ آنے پر ہم پیراگراف بدل دیتے ہیں۔ یہی معاملہ قرآن میں بھی ہوتا ہے۔ لیکن عربی میں لکھا ہونے کی بنا پر تمام سطور ایک ساتھ لکھ دی جاتی ہیں اور سلسلہ کلام میں فرق کو ایک دوسرے سے الگ کرنا پڑھنے والے کے لیے مشکل معلوم ہوتا ہے۔
اوپر آیات کا مطالعہ کریں تو یہ علم ہوگا کہ اس میں دو یا تین چھوٹے چھوٹے پیراگراف بن سکتے ہیں۔ ایک پیراگراف تو ہاروت ماروت والے واقعے کا ہے جو آیت نمبر ۱۰۲ میں شروع ہوتا اور آیت ۱۰۳ پر ختم ہوجاتا ہے۔ دوسرا موضوع مسلمانوں کو یہود کی سازش کا توڑ بتاکر انداز تخاطب درست کرنے کا ہے۔ اس کے علاوہ بھی دیگر موضوعات ہیں۔
ان تمام آیات کا سباق دیکھیں تو وہی سلسلہ کلام ہے یعنی بنی اسماعیل کو ان کے جرائم کی فہرست بتائی جارہی ہے تاکہ ان کی امت وسط کے عہدے سے معزول کیا جاسکے۔
آیت ۱۰۲ میں اللہ تعالی نے ک یہود کے دعووں کی تردید کی ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام جادو یا کفر میں ملوث نہیں تھے بلکہ یہ شیاطین تھے جو لوگوں جادو سکھاتے اور کفر کی جانب راغب کرتے تھے۔ ہاروت و ماروت دو فرشتوں پر اللہ نے روحانی علم اتارا تھا جو اپنی ذات میں ممنوع نہ تھا۔ لیکن اس علم سے دنیاوی علم کی طرح اچھے اور برےدونوں طرح کے کام لیے جاسکتے تھے۔
نفسی علوم دووجوہات کی بنا پر ناجائز ہوتے ہیں۔ایک تو ان کے حصول کا طریقہ اور دوسرا ان کے استعمال کا طریقہ۔ اگر کوئی نفسی علم شیطانی قوتوں سے مدد لے کر حاصل کیا جائے تو ناجائز ہے۔ ماہرین کے مطابق کہ جنات میں موجود شیاطین انسان کو مدد فراہم کرتے ہیں اور اس کے بدلے میں وہ انسان سے شرک کرواتے ، اپنی پوجا کرواتے، اپنے کسی دیوی یا دیوتا کی پوجا کراتے ، کسی انسان کو قتل کراتے یا کسی اور گناہ کبیرہ کا ارتکاب کراتے ہیں۔ چونکہ اس علم کا حصول شرک و کفر پر مبنی ہے اسی لئے اس علم کو حرام قرار دیا گیا ہے۔
نفسی علوم کی دوسری قسم اپنی ذات میں جائز ہے انہیں ہم جائز نفسی علوم یا پیراسائکوکولوجی کہہ سکتے ہیں۔ ان کے جائز ہونے کی وجہ ان کا حصول کا طریقہ ہے۔ ان کے حصول میں کسی شیطانی قوت یا شرک کی آمیزش نہیں ہوتی۔ یا تو اس علم جائز مذہبی روایات سےاخذ کیا جاتا ہے یا پھر نیوٹرل طریقہ لیا جاتا ہے جس پر کوئی شرعی یا اخلاقی قدغن نہیں۔ البتہ یہ علم اس وقت ناجائز ہوجاتا ہے جب اس سے غلط قسم کے مقاصد حاصل کیے جائیں جیسے کسی کو قتل کرادینا، کسی کو ایذا پہنچانا وغیرہ۔
سوال یہ ہے کہ ہاروت ماروت پر جو علم اتارا گیا تھا کیا وہ جادو اور شرک پر مبنی تھا۔ ظاہر ہے اللہ تعالی اپنے فرشتوں کے ذریعے اس قسم کا کوئی علم کیسے اتار سکتے ہیں جس میں شرک کی آلائش ہو۔ میری رائے کے تحت ہاروت و ماروت پر اتارا گیا علم پیراسائکلوجی کے جائز علوم میں سے ایک تھا ۔ البتہ اس کا استعمال منفی و مثبت دونوں طریقوں سے کیا جاسکتا تھا۔ جیسا کہ اسی آیت میں ہے:
غرض لوگ ان سے (ایسا) سحر سیکھتے، جس سے میاں بیوی میں جدائی ڈال دیں۔ اور خدا کے حکم کے سوا وہ اس (سحر) سے کسی کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے تھے۔ اور کچھ ایسے سیکھتے جو ان کو نقصان ہی پہنچاتے اور فائدہ کچھ نہ دیتے۔(البقرہ ۱۰۲:۲)
اس آیت میں ہے کہ اس علم سے فائدہ بھی پہنچ سکتا تھا اور نقصان بھی ۔ لیکن انہوں نے صرف نقصان پہنچایا جس میں سرفہرست میاں بیوی میں جدائی تھی۔ اس کی وجہ بھی کچھ علما کے نزدیک یہ تھی کہ بنی اسرائل کو اس دور میں غیر یہودی عورت سے شادی کرنا ممنوع تھا۔ اس وقت خواتین کی کمی تھی اس لَئے لوگ جدائی ڈلواکر اس کی عورت کو اپنی بیوی بنانا چاہتے تھے۔ تو بہر حال وہ علم کسی طور شرکیہ یا ممنوع علم نہ تھا بلکہ اپنی اصل میں جائز تھا۔ اس کے منفی استعمال کی مذمت کی گئی ہے۔ یعنی وہ علم اپنی ذات میں حرام نہیں بلکہ آزمائش تھا ۔ البتہ اس کا منفی استعمال اسے حرام بنا رہا تھا ۔
اس کے بعد اگلی آیات میں مسلمانوں کو یہود کے برخلاف وہ الفاظ استعمال کرنے کی تلقین کی ہے جو ذ و معنی نہ ہوں۔ یہود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرتے وقت راعنا( توجہ فرمائیے ) کی بجائے راعینا ( اے ہمارے چرواہے ) کہتے تھے۔ تو مسلمانوں کو یہاں منع کردیا کہ آپ انظرنا کہو تاکہ اس سازش کا قلع قمع ہوجائے۔ یہی سبق ہمارے لیے بھی ہے کہ ہمیں طنز کے طور پر ذومعنی جملے ادا نہیں کرنے چاہئیں۔
اگلی آیات میں یہود و نصاری کے اس زعم کی تردید ہے کہ صرف وہی جنت میں جائیں گے۔ اللہ نے واضح طور فرمادیا کہ جنت میں صرف وہی جائے گا جو خدا کے آگے سر تسلیم خم کردے۔ اس کا تعلق نہ تو یہود ہونے سے ہے اور نہ عیسائی۔ یہ بات مسلمانوں پر بھی منطبق ہوتی ہے۔ اگر کوئی مسلمان گھرانے میں پیدا ہوگیا اور اس نے خدا کے آگے سر تسلیم خم نہ کیا تو وہ محض مسلمان گھرانے میں پیدا ہونے کی بنا پر بچ نہیں جائے گا۔ یہ عین ممکن ہے کہ اللہ اس کا زبانی اقرار رد کرکے اس کے دل کی کیفیت کے مطابق اس کا فیصلہ کردیں۔
سوالات کے جواب یہ ہیں:
سوالات:
۱- فرشتوں پر جو کچھ نازل ہوا تھا ،کیا وہ جادو اور سحر کا علم تھا؟ اگر ایسا تھا تو فرشتوں جیسی پاک مخلوق پر جادو جیسا قبیح علم کا اللہ کی طرف سے نازل کیا جانا کچھ تعجب خیز نہیں؟ نیز یہ کیسی آزمائش تھی کہ اللہ نے خود ہی، وہ بھی فرشتوں پر، وہ علم اتارا جو سیکھ کر لوگ میاں بیوی میں جدائی ڈالیں؟
اس کا جواب اوپر دے دیا۔
۲۔ جادو میں اور عملیات میں کیا فرق ہے؟نیز ہپناٹزم ، تحلیل نفسی اور اس طرح کے دیگر نفسیاتی علوم کیا جادو کے زمرے میں آتے ہیں؟
اس کی تفصیل بھی اوپر بیان کردی ہے۔
۳۔آیت نمبر 106 میں ہے کہ،
جس آیت کو ہم منسوخ کردیں، یا بھلا دیں اس سے بہتر یا اس جیسی اور ﻻتے ہیں، کیا تو نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے (106)
سوال : اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی ایک ایسی کتاب کیوں نہیں نازل کر دی جو پہلے انسان آدم علیہ السلام سے لے کرآخری انسان تک کے لیے راہِ ہدایت بنی رہتی؟
جواب ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسانی شعور ارتقا کے مراحل طے کرتا رہا اور ہردور میں اسے ذرا مختلف شریعت کی ضرورت تھی ۔ ایک اور وجہ تحریری شکل میں ہدایت کا محفوظ نہ ہونا تھا۔ جب یہ وجوہات ختم ہوگئیں تو نبوت کا سلسلہ ختم کردیا گیا۔
۴۔آیت نمبر 108 میں ہے کہ،
” کیا تم یہ چاہتے ہو کہ اپنے پیغمبر سے اسی طرح کے سوال کرو، جس طرح کے سوال پہلے موسیٰ سے کئے گئے تھے۔”
سوال یہ ہے کہ کیا قرآن لوگوں کو سوال کرنے کی حوصلہ شکنی کر رہا ہے؟
جواب : نہیں بلکہ غیر ضروری سوالات کی حوصلہ شکنی کررہا ہے۔
۵۔ ان آیات کے اندر یہود کی ایک ایسی ذہنی بیماری کا ذکرہے جسے قرآن نے ان کے ایمان نہ لانے کی وجہ قرار دیا۔ اس بیماری کی نشان دہی کیجیے اور بتایے کہ آج مسلمانوں کے مذہبی طبقے میں یہ بیماری کہاں اور کس شکل میں پائی جاتی ہے؟
جواب: یہ بیماری اسکتبار ، انا پرستی ، ہٹ دھرمی اور بددیانتی کی بیماری ہے۔ ان سب کا نتیجہ حق سے اعراض ہے ۔ یہی بیماری ہمارے مذہبی طبقے میں پائی جاتی ہے جس کی بنا پر نہ صرف نفرتیں جنم لیتی ہیں بلکہ فرقہ واریت و تشدد کا دروازہ کھلتا ہے۔
محمد عقیل


انٹرایکٹیو فہم القرآن کورس۔۔ دسواں سیشن

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Saturday Nov 14, 2015

فائل ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے نیچے کلک کیجیے
فہم القرآن کورس۔ دسواں سیشن


قرآن کے کتاب الہیٰ ہونے پر عقلی دلائل

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Wednesday Sep 23, 2015

قرآن کے کتاب الہیٰ ہونے پر عقلی دلائل
از: مدیحہ فاطمہ
1. اتنی صدیوں بعد بھی محفوظ ہے ۔ بغیر کسی تغیر و تبدل کے۔
2. قرآن جیسے فصیح و بلیغ کلا م کا ایک امّی ﷺکی زبان سے ظہور بذات خود ایک معجزہ اور ایک بہت بڑی عقلی دلیل ہے۔
3. قرآن نے ساری دنیا کو چیلنج دیا کہ اگر کسی کو اس کے کلام الہی ہونےمیں شبہ ہے تو اس کی مثل بنا لائے۔ لیکن کسی میں بھی باوجود تمام دنیا کی بے پناہ مخالفت کےیہ ہمت نہیں آئی کہ اس کی مثل لے آئے۔
4. قرآن میں بہت سے غیب کی باتیں اور پیشن گویاں ہیں جو ہو بہو ویسے ہی واقعات پیش آئے جیسے کہ قرآن نے بتائے تھے۔
5. قرآن میں موجود سائنسی حقائق ہیں جنہیں آج کے زمانے میں پڑھیں تو عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ کیا یہ کسی انسان کا کلام ہوسکتا ہے؟ نہیں!
6. قرآن میں پچھلی امتوں کی تاریخی حالات کا ایسا صاف ذکر موجود ہے کہ اس وقت کے بڑے بڑے علما یہود و نصارٰی جو اس وقت کتاب کے ماہر سمجھے جاتے تھے ان کو بھی اتنی معلومات نہ تھیں۔ حضرت محمد ﷺ نے تو خود کسی قسم کی علم و تعلیم حاصل نہ کی تھی نہ ہی کبھی کسی کتاب کو ہاتھ لگایا تھا۔ پھر قرآن میں یہ ابد سے لے کر آپ ﷺ کے زمانہ تک کے حالات و واقعات کا قرآن میں آنا اس بات کی دلیل ہے کہ یقیناً یہ خبریں آپﷺ کو اللہ تعالیٰ نے دی ہوں گی ، جو اس کائینات کا خالق و مالک و مدبّر ہے۔
7. قرآن مجید کی متعدد آیات میں لوگوں کے دل کی چھپی ہوئی باتوں کی اطلاع دی گئی اور پھر ان کے اقرار سے ثابت ہوگیا کہ وہ بات صحیح اور سچی تھی۔ یہ کام بھی عالم الغیب والشہادۃ ہی کرسکتا ہے ،کسی بشر سے عادۃ ممکن نہیں۔ جیسا کہ قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے کہ :
اِذْ ھَمَّتْ طَّاۗىِٕفَتٰنِ مِنْكُمْ اَنْ تَفْشَلَا
“جب تمہاری دو جماعتوں نے دل میں ارادہ کیا کہ پسپا ہوجائیں۔” (۱۲۲:۳)
يَقُوْلُوْنَ فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ لَوْلَا يُعَذِّبُنَا اللّٰهُ بِمَا نَقُوْلُ
“وہ لوگ اپنے دلوں میں کہتے ہیں کہ ہمارے انکار کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ہمیں عذاب کیوں نہیں دیتا۔” (۵۸:۸)
یہ سب باتیں ایسی ہیں جس کا انہوں نے کسی کے سامنے اظہار نہیں کیا لیکن قرآن پاک نے اس کو ظاہر کردیا۔ اس کا مشرکین عرب ے بھی اقرار کیا کہ بخدا یہ کسی انسان کاکلام نہیں۔ تبھی وہ کہا کرتے تھے کہ نبیﷺ کے پاس جنات /شیاطین آ کر یہ خبریں دیتے ہیں۔
8. قرآن مجید دنیا کی سب سے زیادہ چھپنے والی کتاب ہے۔ شاید ہی کسی کتاب کی اشاعت اتنی ہوئی ہو جتنی آج تک قرآن مجید کی ہوئی ہے۔ نہ ہی کسی دوسری قوم یا مذہب کی کتاب کی اتنی اشاعت ہوئی جتنی کہ قرآن مجید کی یہ بھی حفاظت قرآن پاک کی ایک کڑی ہے۔
9. قرآن کو کلام الہی ماننے پر ہر وہ شخص مجبور ہے جس کی عقل وبصیرت کو تعصب وعناد نے بالکل ہی برباد نہ کردیا ہو۔اس دور مادہ پرستی کے مسیحی مصنفین جنہوں نے کچھ بھی قرآن میں غور وفکر سے کام لیا اس اقرار پر مجبور ہوگئے کہ یہ ایک بےمثل وبے نظیر کتاب ہے۔ مسٹر ولیم میورؔ نے اپنی کتاب “حیات محمد ” میں واضح طور پر اس کا اعتراف کیا ہے اور ڈاکٹر شبلی شمیلؔ نے اس پر ایک مستقل مقالہ لکھا ہے۔
10. اتنے مختصر و محدود کلمات میں جتنے علوم و معارف قرآن مجید میں پائے جاتے ہیں کسی کتاب میں نہیں پائے جاسکتے۔ قرآن مجید ایک ایسی کتاب ہے جو تمام شعبہ ہائے زندگی: عائلی زندگی سے لے کر قبائلی اور شہری زندگی تک اور پھر عمرانیات واجتماعیات اور سیاستِ ممالک کے متعلق نظام پیش کرتا ہے۔پھر صرف نظام پیش کرنا ہی نہیں بلکہ عملی طور پر اس کا رواج پانا اور تمام نظامہائے دنیا پر غالب آکر قوموں کے مزاج ، اخلاق ، اعمال ، معاشرت اور تمدن میں وہ انقلاب عظیم پیدا کرتا ہے جس کی مثال کہیں بھی نہیں ملتی


انٹرایکٹیو فہم القرآن کورس ۔۔ نواں سیشن ۔۔ خلاصہ

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Wednesday Aug 26, 2015

انٹرایکٹو فہم القرآن کورس
نواں سیشن
سورہ البقرہ آیت نمبر 67 تا 101

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اس سیشن کا خلاصہ حاضر خدمت ہے۔ اس کا انفرادی طور پر فیڈ بیک تو آپ کو بھیج چکا ہوں۔ اس کا خلاصہ اپنے فہم کے مطابق حاضر ہے۔
ابتدا میں تو بنی اسرائل کی کٹ حجتی بیان ہوئی ہے کہ کس طرح انہوں نے ایک آسان کی چیز کو اپنے لئے مشکل بنالیا۔ یعنی حکم تھا کہ کوئی بھی ایک گائے ذبح کرو لیکن ظاہر پرستی اور فقہی موشگافیوں کی بنا پر اپنے لئے مصیبت پیدا کرتے چلے گئے کہ گائے کیسی ہو، رنگ کیا ہو، بوڑھی ہو یا بچھیا وغیرہ۔ یہی مزاج کم و بیش ہمارے ہاں بھی لوگوں میں پیدا ہوگیا ہے۔ اور اس کی وجہ مذہبی طبقہ کا درست طور پر ایجوکیشن فراہم نہ کرنا ہے۔
اس ذکر کے بعد ایک مشکل مقام ہے جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ گائے کے ایک ٹکڑے کو مقتول کو مارو۔ اس کے بعد آگے ذکر ہے کہ اللہ اس طرح مردوں کو زندہ کرتا ہے۔
اس کے بعد یہود کی سخت دلی کا ذکر ہے کہ کس طرح تمہارے دل پتھروں سے بھی زیادہ سخت ہوگئے۔ یہ مقام ذرا رکنے والاہے۔ یہاں پتھروں کی تین خصوصیات بیان کی گئی ہیں۔۔ اور پتھر تو بعضے ایسے ہوتے ہیں کہ ان میں سے چشمے پھوٹ نکلتے ہیں ، اور بعضے ایسے ہوتے ہیں کہ پھٹ جاتے ہیں ،اور ان میں سے پانی نکلنے لگتا ہے ، اور بعضے ایسے ہوتے ہیں کہ خدا کے خوف سے گر پڑتے ہیں ۔
اس کائنات کی ایک ایک شے تسبیح کرتی ہے اور اس کی تسبیح ، رکوع ، سجود اور تعلق باللہ اس کی اپنی زبان میں ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر سائے تو دیکھیں تو جوں جوں سورج ڈھلتا ہے ، سایہ پھیلنا شروع ہوجاتا ہے۔ اس عمل کو قرآن سائے کے سجدے سے تعبیر کرتا ہے۔ اسی طرح پتھروں کو دیکھا جائے تو بظاہر چشمہ پھوٹنا، پانی بہہ نکلنا اور گرجانا ایک میکانیکی عمل ہے لیکن یہ پتھر کا تعلق باللہ ہے۔ پتھروں سے چشمہ پھوٹنا ان آنسووں کی علامت ہےجو خدا کی یاد میں نکل جاتے ہیں اور روکے نہیں رکتے۔ ان کا پھٹ جانا اور پھر پانی بہہ نکلنا اس دھواں دھار سوز غم کا اظہار ہے جب خدا کے سامنے غم سے نڈھال ہوکر دل پھٹ جاتا ہے اور بے اختیار ہچکیاں بندھ جاتی ہیں۔ پتھروں کا خوف سے گرجانا اس کیفیت کو ظاہر کرتا ہے جب یوں لگتا ہے سارے بدن سے جان نکل چکی اور ٹانگوں نے خوف کے باعث جسم کا بوجھ اٹھانے سے انکار کردیا۔ پھر انسان ایک بے جان لاشے کی طرح خدا کے سامنے ڈھ جاتا ہے۔
اگلی چند آیات میں یہود کےجرائم پر مزید روشنی ڈالی جارہی ہے کہ یہ کس طرح دین سے دور ہیں اور خود کو عین دین سمجھتے ہیں۔ اس کی وجہ بھی بتادی کہ انہیں یہ غلط فہمی ہے کہ یہ خدا کے چہیتے ہیں اور یہ کچھ بھی کرلیں، جہنم کی آگ انہیں نہیں چھوئے گی اور اگر چھوا تو بس چند دن۔ آگے بتادیا کہ جس کی زندگی کا احاطہ گناہوں نے چاروں طرف سے کرلیا ہو اس کاٹھکانہ ابدی جہنم ہے۔ آگے یہود کو مزید گناہ بتائے ہیں تاکہ انہیں آخر میں امت وسط کے عہدے سے باقاعدہ معزول کیا جائے۔
سوالوں کے جواب
۱۔ آیات نمبر ۷۲ اور ۷۳ میں آتا ہے:
اور جب تم نے ایک شخص کو قتل کیا، تو اس میں باہم جھگڑنے لگے۔ لیکن جو بات تم چھپا رہے تھے ، خدا اس کو ظاہر کرنے والا تھا (۷۲) تو ہم نے کہا کہ اس گائے کا کوئی سا ٹکڑا مقتول کو مارو۔ اس طرح خدا مردوں کو زندہ کرتا ہے اور تم کو اپنی (قدرت کی) نشانیاں دکھاتا ہے تاکہ تم سمجھو (۷۳)
ان آیات کا کیا مطلب ہے ؟
جواب۔ اس پر آپ سب نے کافی سیر حاصل گفتگو کرلی ہے۔ اس کی ایک تعبیر تو وہی ہے کہ قاتل کا پتا لگانے کے لئے گائے کو ذبح کیا گیا اور اس کے گوشت کا ٹکڑا مقتول پر مارا گیا۔ اس نے زندہ ہوکر قاتل کا نام بتادیا۔ ایک دوسری رائے مولانا امین احسن اصلاحی کی ہے جو انہوں نے بائبل سے مستعار لی ہے کہ بنی اسرائل میں قسامہ یعنی قسم لینے کا طریقہ تھا ۔ لیکن بہر حال پہلی رائے ہی زیادہ موزوں معلوم ہوتی ہے۔
۲۔ آیت نمبر ۸۰ میں ہے:
اور کہتے ہیں کہ (دوزخ کی) آگ ہمیں چند روز کے سوا چھو ہی نہیں سکے گی۔ ان سے پوچھو، کیا تم نے خدا سے اقرار لے رکھا ہے کہ خدا اپنے اقرار کے خلاف نہیں کرے گا۔ (نہیں)، بلکہ تم خدا کے بارے میں ایسی باتیں کہتے ہو جن کا تمہیں مطلق علم نہیں (۸۰)
ہم مسلمانوں میں بھی ایک تصور یہ پایا جاتا ہے کہ مسلمانوں کو بھی دوزخ میں اگر ڈالا گیا تو بس عارضی طور پر۔ مسلمانوں اور بنی اسرائل کے دعووں میں کیا مماثلت اور فرق ہے؟
جواب: میرے خیال میں مسلمانوں اور یہود کی سو چ میں تو نوعیت کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں۔ عام مسلمان بھی یہی سمجھتے ہیں کہ ہم کچھ بھی کرلیں، امتی ہونے کی بنا پر چھوٹ جائیں گے۔ لیکن اسلام کا نقطہ نظر مختلف ہے جو ان آیات کے آگے ہی بیان ہوگیا۔
ہاں جو برے کام کرے ، اور اس کے گناہ (ہر طرف سے) گھیر لیں تو ایسے لوگ دوزخ (میں جانے) والے ہیں (اور) وہ ہمیشہ اس میں (جلتے) رہیں گے۔
یعنی جس شخص کی زندگی کا اوڑھنا بچھونا گناہ ہو تو اس کے دل کی سیاہی اتنی بڑھ جاتی ہے کہ اس پر مہر لگ جاتی اور اس کا ایمان سلب ہوجاتا ہے ۔ ایمان سلب ہونے کے بعد کچھ باقی نہیں رہا۔ اب وہ نام کا مسلمان ہے لیکن کسی کام کا نہیں۔ تو ایسے شخص کو خدا اپنا بندہ اور اس کے پیغمبر اپنا امتی ہی ماننے سے انکار کردیں گے تو شفاعت کا امکان کیسا؟
۳۔ آیت نمبر ۸۱ یہ ہے:
ہاں جو برے کام کرے ، اور اس کے گناہ (ہر طرف سے) گھیر لیں تو ایسے لوگ دوزخ (میں جانے) والے ہیں (اور) وہ ہمیشہ اس میں (جلتے) رہیں گے (۸۱)
یہاں کس قسم کے گناہوں کا ذکر ہے اور گناہوں کا احاطہ کرلینے سے کیا مراد ہے؟
جواب: یہاں اصل مراد گناہوں کی زندگی کو اوڑھنا بچھونا بنالینا ہے۔ اور ظاہر ہے یہاں کبیرہ گناہ مراد ہیں ۔ لیکن مسئلہ گناہ کا نہیں بلکہ نیت کا ہوتا ہے۔ ایسا شخص دھڑلے سے سارے گناہ کرتا پھرتا، لوگوں کے مال غصب کرتا، زنا کرتا، ڈاکے دالتا، کرپشن کرتا، قتل و غارت گری کرتا اور سمجھانے پر بھی نہیں سمجھتا ہے۔ تو اس کے دل کی سیاہی ایمان سلب کرنے کا اور مہر کا باعث بن جاتی ہے۔ اس کے بعد وہ ایک جانور کی مانند زندگی گذارتا اور اپنے جہنم واصل ہونے کا منتظر ہوتا ہے لیکن اسے خبر بھی نہیں ہوتی۔ بلکہ اللہ اس کو اتنی ڈھیل دیتے ہیں کہ وہ بدمست ہو کر یہ سمجھنے لگتا ہے کہ اللہ ا س سے راضی ہیں۔ حالانکہ اللہ نے اس پر دنیا کھول دی ہوتی ہے کہ کہیں وہ غلطی سے بھی کسی تکلیف میں مبتلا ہو کر خدا کو یاد نہ کربیٹھے۔ یہ خدا کے دھتکار دلوں پر مہر لگ جانے کے بعد آتی ہے۔
۴۔ ان آیات میں جو بھی جرائم ہیں وہ سارے جرائم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے موجود یہود نے نہیں بلکہ ان کے آبا و اجداد نے کئے تھے۔ تو قرآن ان کے آباو اجداد کے جرائم کا ذمہ کیوں ان یہود کو قرار دے رہا ہے جیسا کہ انداز تخاطب سے بظاہر لگ رہا ہے۔
جواب: اصل میں یہ ایک چارج شیٹ ہے جو امت بنی اسرائل پر جاری کیاجارہی ہے۔ چونکہ معاملہ امت کا ہے اس لئے جب سے امت کی باقاعدہ ابتدا ہوئی تب سے جرائم کو بیان کرنا شروع کیا۔ مخاطب ظاہر ہے اس وقت کے زندہ یہود ہیں ۔ مثال کے طور پر مسلمانوں پر اگر کوئی الزام لگائے گا تو وہ یہی کہے گا کہ دیکھو تم لوگ خلافت کے نام پر قتل و غارت گری کرتے آئے ہو ، تم آپس میں جنگیں لڑتے ہو ، بچوں کو اسکول میں مارتے ہو وغیرہ۔ تو ظاہر ہے یہ سارے کام مسلمانوں کے ایک گرو ہ نے کیئے ہونگے سب نے نہیں۔ لیکن خطاب میں سب آئیں گے۔
۵۔ یہاں آیات ۸۸ اور ۸۹ میں اللہ کی لعنت کا ذکر ہے۔ اللہ کی لعنت سے کیا مراد ہے؟
جواب۔ اس سے مراد خدا کی رحمت سے محرومی۔ یوں سمجھ لیں کہ اگر ایک چھ ماہ کے بچے پر سے ماں باپ اپنی توجہ ہٹالیں، اس سے نگاہیں پھیر لیں، اس کی ضروریا ت پوری نہ کریں، اس کو فیڈ نہ دیں تو بے شک اب وہ بچے پر کوئی غضب نہ بھی ڈھائیں ، اس بچے کی بقا ممکن نہیں۔ایسے ہی اگر خدا پنی رحمت ہٹادیں تو بس زندگی موت سے بھی بدتر ہوجاتی ہے۔ اللہ رحم فرمائیں۔ آمین

پروفیسر محمد عقیل