پروفیسرڈاکٹر محمد عقیل |

مسلمانوں کے ایمان اور اخلاق میں کمزوریوں کی جدید اندازمیں نشاندہی کرنااور اصلاح کے لئے سائنٹفک طرز پر حل تجویز کرنا اس سائٹ کے مقاصد ہیں۔۔۔۔۔۔۔قد افلح من زکھا۔

Facebook Id of Professor Doctor Muhammad Aqil

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Monday Sep 5, 2016

https://www.facebook.com/aqil.muhammad.338


روزہ کا اصل مقصد اور ہمار ا طرز عمل

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Wednesday Jun 8, 2016

روزہ کا اصل مقصد اور ہمار ا طرز عمل

از ام مریم

اسلام میں عبادات کا مقصود

قرآن و سنت کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ اللہ تعالی کا عبادات کے مقرر کرنے سے اصل مقصود انسان کو تزکیہ نفس کی تربیت دینا اور اسے اس کی تخلیق کے حقیقی مقصد کی یاد دہانی کروانا ہے جس کا ذکر قرآن نے کیا ہے

”اور ہم نے پیدا کیا انسانوں اور جنوں کو اپنی عبادت کے لیے” ّّْْ ْ (الزاریت)

اس آیت کی تفسیر میں عبد اللہ ابن عباس رضی  اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہاں عبادت سے مراد معرفت ہے کیونکہ تمام عبادات کا مفہوم  اللہ کا قرب حاصل کرنا ہے اور جو عبادت انسان کو اللہ کے قریب لے جا کر اس کی پہچان نہیں  دلاتی  ، اس  کی موجودگی کا احساس انسان کے اندر پیدا نہیں کرتی وہ عبادت اپنے مقصود سے عاری ہونے کی بنا پر عبادت  کہلانے کی مستحق نہیں چنانچہ عبادت کی اصل روح اللہ کی معرفت  و رضا کا حصول ہے ۔اللہ کسی انسان کے نماز روزے کا محتاج نہیں ، ہاں وہ یہ ضرور چاہتا ہے کی اس کے بندے ، اس کے قرب ،معرفت اور اس کی رضا مندی کی چاہت و جستجو کریں ۔اللہ تعالی کی معرفت  و رضامندی کی چاہت کے ساتھ ہی عبادت میں خشوع اور حضوری  قلب  کی کیفیت میسر ہوتی ہے یہی وجہ ہے رسول اللہ ﷺ کی بعثت اورزیادہ تر  عبادات کی فرضیت میں تیرہ سال کا وقفہ ہے ۔ اس دوران  رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام کو اسی معرفت الہی یعنی توحید ، ایمان اور آخرت کی تعلیم دی  اور جب یہ تعلیم مکمل ہوئی تو ظاہری عبادات فرض  کی گئیں  تاکہ یہ عبادات بے روح نا ہوں۔

روزہ  کے مقاصد

اللہ تعالی نے قرآن   میں جہاں روزے کی فرضیت کا ذکر کیا ہے وہاں اس  کے مقصد کو بھی بیان کیا ہے

”اے ایمان والو تم پر روزے فرض کر دیے گئے ہیں جیسا کی تم سے پہلے لوگوں  پر فرض کیے گئے تاکہ تم  پرہیز گار بن جاؤ ”

چنانچہ روزہ کا  اصل مقصد تزکیہ  و تقوی کا حصول ہے ۔ اہل علم نے روزے کی مشروعیت کے مختلف مقاصد بیان کیے ہیں  جو سب کے سب تقوی ہی کی خصلتییں ہیں ۔

1۔ روزے میں انسان قدرت و طاقت رکھنے کے باوجوداپنی  خواہشات اور حلال اشیاء بھی ترک کر دیتا ہے اس کا مقصدانسان کے اندر اللہ تعالی کی موجودگی کا احساس پیدا کرنا اور   اسےاس ایمان و یقین پر تیار کرنا ہے کہ اللہ تعالی ہر لمحہ اس کی نگہبانی و نگرانی کر رہا ہے۔

2۔ روزہ انسان کے لیے اللہ تعالی کی بے  چون و چرا اطاعت گزاری  و فرمانبرداری کی مشق ہے تا کہ اس کے اندر یہ احساس پیدا ہو کہ خداوند کی رضا جوئی کے لیے  جب حلال اشیاء و ضروریات   سے اجتناب کر رہا ہے تو حرام آخر کیونکر اپناے ۔

3۔روزہ شہوات اور نفسانی خواہشات  پر قابو پانے اور گرفت کرنے کی تربیت دیتا ہے جس سے ممنوع شہوات پر قابو پانے کے لیے تعاون ملتا ہے ۔ اور یہ چیز نفس کو اخلاق فاضلہ اپنانے کے لیے تیار کرتی ہے ۔ اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے ان نوجوانوں کو بکثرت روزہ رکھنے کی نصیحت کی جو نکاح کی استطاعت نا رکھتے ہوں ۔

4۔ روزہ کا ایک مقصدانسان کو  اللہ تعالی کی عطا کردہ نعمتوں کی شکر گزاری کا احساس دلانا ہے ۔ حلال اشیاء کھانا پینا اور جائز ضروریات نفس  اللہ تعالی کی بہت بڑی نعمتیں ہیں ۔ لہذا ان سے کچھ دیر کے لیے رک جانا ان کی قدر و قیمت معلوم کراتا ہے جس سے انسان کو ان نعمتوں کا شکر ادا کرنے کی طرف رغبت ہوتی ہے ۔

ہمارا طرز عمل

روزے کے ان تمام مقاصد کا حصول ہی اصل میں روزہ دار کا محور نگاہ ہونا چاہیے اور دوران روزہ  و رمضان ہمیں اپنا طرز عمل انہی مقاصد کے حصول کے مطابق ترتیب دینا چاہیے تا کہ ہم رمضان کے خاطر خواہ  فوائد حاصل کر سکیں جو ہمارے پروردگار کو اپنے بندے سے مطلوب ہیں  ۔ ان نتائج کے عدم حصول کی صورت میں آدمی کی بھوک پیاس بے سود ہے۔ رمضان اللہ تعالی کی طرف سے ایمان والوں کے لیے ایک بونس ہے جس میں اخلاص نیت پر مبنی عمل انسان کی ابدی نجات و محبت الہی کا باعث ہو سکتا ہے  لیکن دیکھنے میں آتا ہے کہ آجکل رمضان کا مہینا مسلمانوں کے مابین ایک رسمی  سی حیثیت اختیار کر چکا ہے ۔ سحری و افطاری کے معمولات میں دستر خوان معمول سے زیادہ کھانوں سے بھرے نظر آتے ہیں جن کی دستیابی کے لیے مرد حضرات اپنا سارا وقت کاروبار وغیرہ کی نذر کرتے اور خواتین سارا دن کچن میں ان کی تیاری میں لگاتی ہیں ۔ عید کی شاپنگز  میں بیشتر وقت بازاروں اور مارکیٹیس کی نذر ہو جاتا ہے  خاص کر طاق راتیں جن کی اہمیت سے کون مسلمان واقف نا ہو گا۔ افطار پارٹیز کا دور دورہ ہوتا ہے ۔ میڈیا ، میوزک ، ڈراماز جنہیں مس  کرنا لوگ اب نا گزیر سمجھتے ہیں ہر گھر میں چلتے نظر آتے ہیں اور بعض لوگ تو اسے روزہ گزارنے کا آسان ذریعہ خیال کرتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کی روزہ سمیت عبادات کی اصل روح کا شعور حاصل کیا جاے اور اسی احساس کے ساتھ ان کی ادائیگی کا اہتمام کیا جاے ۔ رمضان کے فضائل و برکات سے مستفید ہونے کے لیے بھی اسی روح کے ساتھ اس کا اہتمام لازم و ملزوم ہے

”حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کی نبی ﷺ منبر پر چڑھے اور کہا آمین ، آمین ، آمین ۔ صحابہ نے دریافت کیا  کہ آپ منبر پر چڑھے اور کہا آمین  ، کیوں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا جبرئیل میرے پاس آے اور کہا ، جس شخص کی زندگی میں رمضان المبارک کا مہینہ آیا اور وہ اس میں اپنی بخشش نا کروا سکا تو وہ آگ میں داخل ہو  اور اللہ تعالی اسے اپنی رحمت سے دور کر دیں ۔ آپ کہیے آمین تو میں نے کہا آمین ”

صحیح الترغیب 997، کتاب الصوم ، ابن خزیمہ 1888

رمضان المبارک میں معمول کے دنیاوی امور کو بھی بالکل محدود کرتے ہوے عبادت  اور اس کے مقاصد کے حصول کی جدو جہد کو محور نگاہ بنانا ہی ایک مومن مسلمان کا شعار ہونا چاہیے تا کہ  وہ اس کے ذریعے سے اپنی بخشش کا سامان پیدا کرے۔ اللہ ہم سب مسلمانوں کو اس با برکت مہینے سے صحیح طرح استفادہ کرنے کی توفیق عطا فرمائیں آمین

 

 


نورانی کا سفرنامہ

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Thursday Mar 10, 2016

نورانی کا سفرنامہ

از پروفیسر محمد عقیل

سفرنامہ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے

https://drive.google.com/open?id=0B6YkBK5vWD-tRFlMUzdaSGF0S00


قرآن کے کتاب الہیٰ ہونے پر عقلی دلائل

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Wednesday Sep 23, 2015

قرآن کے کتاب الہیٰ ہونے پر عقلی دلائل
از: مدیحہ فاطمہ
1. اتنی صدیوں بعد بھی محفوظ ہے ۔ بغیر کسی تغیر و تبدل کے۔
2. قرآن جیسے فصیح و بلیغ کلا م کا ایک امّی ﷺکی زبان سے ظہور بذات خود ایک معجزہ اور ایک بہت بڑی عقلی دلیل ہے۔
3. قرآن نے ساری دنیا کو چیلنج دیا کہ اگر کسی کو اس کے کلام الہی ہونےمیں شبہ ہے تو اس کی مثل بنا لائے۔ لیکن کسی میں بھی باوجود تمام دنیا کی بے پناہ مخالفت کےیہ ہمت نہیں آئی کہ اس کی مثل لے آئے۔
4. قرآن میں بہت سے غیب کی باتیں اور پیشن گویاں ہیں جو ہو بہو ویسے ہی واقعات پیش آئے جیسے کہ قرآن نے بتائے تھے۔
5. قرآن میں موجود سائنسی حقائق ہیں جنہیں آج کے زمانے میں پڑھیں تو عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ کیا یہ کسی انسان کا کلام ہوسکتا ہے؟ نہیں!
6. قرآن میں پچھلی امتوں کی تاریخی حالات کا ایسا صاف ذکر موجود ہے کہ اس وقت کے بڑے بڑے علما یہود و نصارٰی جو اس وقت کتاب کے ماہر سمجھے جاتے تھے ان کو بھی اتنی معلومات نہ تھیں۔ حضرت محمد ﷺ نے تو خود کسی قسم کی علم و تعلیم حاصل نہ کی تھی نہ ہی کبھی کسی کتاب کو ہاتھ لگایا تھا۔ پھر قرآن میں یہ ابد سے لے کر آپ ﷺ کے زمانہ تک کے حالات و واقعات کا قرآن میں آنا اس بات کی دلیل ہے کہ یقیناً یہ خبریں آپﷺ کو اللہ تعالیٰ نے دی ہوں گی ، جو اس کائینات کا خالق و مالک و مدبّر ہے۔
7. قرآن مجید کی متعدد آیات میں لوگوں کے دل کی چھپی ہوئی باتوں کی اطلاع دی گئی اور پھر ان کے اقرار سے ثابت ہوگیا کہ وہ بات صحیح اور سچی تھی۔ یہ کام بھی عالم الغیب والشہادۃ ہی کرسکتا ہے ،کسی بشر سے عادۃ ممکن نہیں۔ جیسا کہ قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے کہ :
اِذْ ھَمَّتْ طَّاۗىِٕفَتٰنِ مِنْكُمْ اَنْ تَفْشَلَا
“جب تمہاری دو جماعتوں نے دل میں ارادہ کیا کہ پسپا ہوجائیں۔” (۱۲۲:۳)
يَقُوْلُوْنَ فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ لَوْلَا يُعَذِّبُنَا اللّٰهُ بِمَا نَقُوْلُ
“وہ لوگ اپنے دلوں میں کہتے ہیں کہ ہمارے انکار کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ہمیں عذاب کیوں نہیں دیتا۔” (۵۸:۸)
یہ سب باتیں ایسی ہیں جس کا انہوں نے کسی کے سامنے اظہار نہیں کیا لیکن قرآن پاک نے اس کو ظاہر کردیا۔ اس کا مشرکین عرب ے بھی اقرار کیا کہ بخدا یہ کسی انسان کاکلام نہیں۔ تبھی وہ کہا کرتے تھے کہ نبیﷺ کے پاس جنات /شیاطین آ کر یہ خبریں دیتے ہیں۔
8. قرآن مجید دنیا کی سب سے زیادہ چھپنے والی کتاب ہے۔ شاید ہی کسی کتاب کی اشاعت اتنی ہوئی ہو جتنی آج تک قرآن مجید کی ہوئی ہے۔ نہ ہی کسی دوسری قوم یا مذہب کی کتاب کی اتنی اشاعت ہوئی جتنی کہ قرآن مجید کی یہ بھی حفاظت قرآن پاک کی ایک کڑی ہے۔
9. قرآن کو کلام الہی ماننے پر ہر وہ شخص مجبور ہے جس کی عقل وبصیرت کو تعصب وعناد نے بالکل ہی برباد نہ کردیا ہو۔اس دور مادہ پرستی کے مسیحی مصنفین جنہوں نے کچھ بھی قرآن میں غور وفکر سے کام لیا اس اقرار پر مجبور ہوگئے کہ یہ ایک بےمثل وبے نظیر کتاب ہے۔ مسٹر ولیم میورؔ نے اپنی کتاب “حیات محمد ” میں واضح طور پر اس کا اعتراف کیا ہے اور ڈاکٹر شبلی شمیلؔ نے اس پر ایک مستقل مقالہ لکھا ہے۔
10. اتنے مختصر و محدود کلمات میں جتنے علوم و معارف قرآن مجید میں پائے جاتے ہیں کسی کتاب میں نہیں پائے جاسکتے۔ قرآن مجید ایک ایسی کتاب ہے جو تمام شعبہ ہائے زندگی: عائلی زندگی سے لے کر قبائلی اور شہری زندگی تک اور پھر عمرانیات واجتماعیات اور سیاستِ ممالک کے متعلق نظام پیش کرتا ہے۔پھر صرف نظام پیش کرنا ہی نہیں بلکہ عملی طور پر اس کا رواج پانا اور تمام نظامہائے دنیا پر غالب آکر قوموں کے مزاج ، اخلاق ، اعمال ، معاشرت اور تمدن میں وہ انقلاب عظیم پیدا کرتا ہے جس کی مثال کہیں بھی نہیں ملتی


کاپیاں اور اعمال نامے

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Wednesday Aug 26, 2015

کاپیاں اور اعمال نامے

پروفیسر محمد عقیل
میں نے اپنے اٹھارہ سالہ کیرئیر میں بے شمار کاپیاں چیک کی ہیں۔ کچھ کاپیاں انٹرنل امتحانات کی ہوتی ہیں اور کچھ بورڈ ایگزامز کی۔ بورڈ یا یونی ورسٹی کی کاپیوں کے چیک کرنے والے کو علم نہیں ہوتا کہ طالب علم کون ہے۔ اسی لیے بڑی عجیب اور دلچسپ باتیں لکھی ہوتی ہیں۔
ایک مرتبہ ایک کاپی میں ایک لڑکی نے لکھا ” میری منگنی ہوگئی جس کی خوشی میں سب کچھ بھول گئی، پلیز پاس کردیں”۔ کسی میں لکھا تھا ” میرے بچے کی ساری رات طبیعت خراب رہی اس لیے پڑھ نہیں پائی تو پاس کردیں۔” اس کے علاوہ غربت و افلاس کی بنا پر پاس کرنے کی اپیلیں تو بہت کامن ہیں۔غرض کئی قسم کی باتیں لکھی ہوتی ہیں۔ دراصل یہ کاپیاں انسانی شخصیت کی عکاس ہوتی ہیں کہ امتحان دینے والا کس مزاج کا حامل ہے۔ اسی شخصیت کی کارکردگی کا اعلان رزلٹ کار ڈ کے ذریعے کردیا جاتا ہے کہ امتحان دینے والا پاس ہے یا فیل ۔ رزلٹ کارڈ کی طرح ایک دن آخرت میں ہمیں اعمال نامہ دیا جائے گا جس میں ہماری شخصیت کا تعین کردیا جائے گا کہ ہم اچھے انسان تھے یا برے، سنجیدہ تھے یا لابالی، خدا پرست تھے یا مفاد پرست۔ اسی لحاظ سے ہمارا انجام
متعین ہوجائے گا کہ ہم پاس ہیں یا فیل۔اسی تناظر میں ہم دیکھیں تو ہم ان کاپیوں سے بہت حد تک انسانی شخصیت کے بارے میں جان سکتے اور اس سے آخرت کے انجام کو سمجھ سکتے ہیں۔

بری کاپیاں
کچھ کاپیوں میں طلبا فلمی گانے ،اشعار، لطیفے، لایعنی کہانیاں اور دیگر خرافات لکھ دیتے ہیں۔ اس قسم کی کاپیاں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ لکھنےوالا پورے امتحانی نظام کا مذاق اڑارہا، چیک کرنے والے کو منہ چڑا رہا اور بدتمیزی کرکے یہ کہہ رہا ہے ” کرلو جو کرنا ہے۔” قیامت میں بھی کچھ لوگ اپنے نامہ اعمال میں اس قسم کے اعمال لائیں گے جب انھوں نے خدا کو گالی دی تھی، اس کا انکار کیا تھا، اس کی باتوں کا مذاق اڑایا تھا، اس کے پیغمبروں کی توہین کی تھی، اس کی جانب بلانے والوں کو دقیانوسی کہا تھا، اس کی کتابوں پر تبرا بھیجا تھا، اس کے امتحانی نظام کو چیلنج کیا تھا اور بغاوت کا علم بلند کرکے کہا تھا کہ ” کرلو جو کرنا ہے”۔ ایسے لوگوں کا انجام سادہ نہیں۔ بلکہ یہ نظام کے باغی ہیں اور ان کی سزا عام مجرموں کی طرح نہیں بلکہ اسپیشل طرز کی ہوگی۔

کچھ کاپیاں بالکل خالی ہوتی ہیں۔ اس سے علم ہوتا ہے کہ اس قسم کے طلبا نے سرے سے کوئی تیاری نہیں کی تھی اور پورا سال لاابالی پن میں گزارا۔ آخرت میں بھی کچھ لوگوں کے اعمال نامے میں اچھائیاں اور نیکیاں نہیں ہوں گی ۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے ساری زندگی لہو لعب ، کھیل کود، غفلت اور دنیا میں لگادی اور آخرت کے حوالے سے کوئی کام بھی نہ کرپائے۔
کچھ لوگ ہیں جو امتحان میں محنت نہیں کرتے اور اس کمی کو دور کرنے کے لیے کاپی پر مختلف تعویذ اور وظائف لکھتے ہیں۔ ان کی مثا ل آخرت میں ان لوگو ں کی سی ہے جو توہمات کے سہارے اپنی زندگی گزارتے رہے۔ ظاہر ہے اللہ تعالیٰ کے ہاں ایمان اور عمل صالح لازمی ہے اور نجات اسی پر موقوف ہے۔
کچھ طلبا رونے پیٹنے لگ جاتے اور بہانے بنانے لگ جاتے ہیں کہ ہماری طبیعت خراب تھی یا میں بہت غریب ہوں اس لیے پاس کردیں۔ ظاہر ہے اس قسم کے بہانوں کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ اگر کوئی شخص ایک دن قبل بیمار تھا تو کیا سارا سال بیمار تھا کہ ایک لفظ نہیں لکھ پایا۔ آخرت میں بھی اس قسم کے لوگ پیش ہوں گے جنھوں نے اس آس پر گناہ کیے ہوں گے کہ کوئی بہانہ کردیں گے۔ اول تو وہاں زبانیں گنگ ہوجائیں گی ۔ اگر کسی کا کوئی عذر ہوگا تو رب العٰلمین خود ہی اس کا لحاظ کرکے حساب کتاب کریں گے۔ لیکن وہاں جھوٹ بولنا، مگر مچھ کے آنسو بہانا، بہانے تراشنا ممکن نہ ہوگا۔

کچھ لوگ اس آس پر امتحان دیتے ہیں کہ پیسے دے کر پاس ہوجائیں گے ، یا کسی سیاسی تنظیم کی بنیاد پر کام کروالیں گے، یا ڈرا دھمکا کر کام نکال لیں گے یا کسی کی سفارش سے کام چلالیں گے۔ یہ سارے کام دنیا میں بھی اتنے آسان نہیں ہوتے۔ البتہ آخرت میں تو اس کا سرے سے کوئی امکان ہی نہیں۔ کون ہے جو خدا کو نعوذ باللہ دھمکا کر اپنا کام کروالے، وہ کو ن سی سیاسی تنظیم ہے جو اپنا اثرو رسوخ رب العٰلمین پر آزما سکے؟ وہ کو ن سا پیسا ہے جسے رشوت کے طور پر استعمال کیا جاسکے؟ وہ کون ہے جو خدا کی مرضی کے خلاف سفارش کرکے نجات دلواسکے؟
کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ دھوکا دینے کی کوشش کرتے ہیں ۔ یعنی جواب دیتے ہوئے درمیان میں سوال ہی کاپی کردیتے ہیں تاکہ پڑھنے والے کو یہ تاثر ہو کہ کاپی بھری ہوئی ہے۔ ممتحن کی نگاہ فورا ہی تاڑ لیتی ہے اور بھری ہوئی کاپی کو کاٹ کر وہ زیرو نمبر دے دیتا ہے۔آخرت میں خدا کو دھوکا دینا تو قطعا ممکن نہ ہوگا۔ کچھ لوگوں نے اپنے نامہ اعمال میں الٹے سیدھے لایعنی اعمال بھر رکھے ہوں گے جنہیں وہ دین سمجھ کر کرتے رہے لیکن وہ سب خدا کے نزدیک ناقابل قبول تھے۔کوئی شخص دین داری کے نام پر لایعنی جلسے نکالتا رہا، وہ اسلام کے نام پر جھوٹی سیاست کرتا رہا، وہ جہاد کے نام پر فساد کرتا رہا، وہ دقیانوسی قبائلی کلچر کو اسلامی شعائرسمجھتا رہا، وہ ریا کار ی والے حج کو گناہوں کی مغفرت کا سبب سمجھتا رہا ۔لیکن جب وہ آخرت میں ان سب کو دیکھے گا تو علم ہوگا کہ یہ سارے اعمال اسے نجات دینے کی بجائے الٹے اس کے گلے پڑ گئے ہیں۔
امتحان دینے والے لوگوں کی ایک قسم ان لوگوں پر مبنی ہے جنھوں نے سوال ہی درست طو ر پر نہیں سمجھا۔ سوال کچھ تھا اور جواب کچھ اور۔ وہ سوال کا غلط جواب لکھتے رہے اور اسے ہی درست سمجھتے رہے۔ اس غلط جواب لکھنے کا ایک سبب تو غلط اساتذہ سے تعلیم حاصل کرنا تھا۔ اس کے علاوہ وہ جوش و جذبات اور جلد بازی میں اتنے اندھے ہوگئے کہ سوال سمجھنے ہی کی زحمت نہ کی۔ آخرت میں بھی اس قسم کے کئی لوگ ہوں گے جنھوں نے اپنے امتحانی سوال کو سمجھا ہی نہیں اور غلط جواب دے کر آگئے۔مثال کے طور پر مذہبی لیڈر شپ کا اصل امتحان یہ تھا کہ وہ لوگوں کا تزکیہ و تربیت کرتے لیکن وہ لوگوں میں تعصب پیدا کرنے کو دین داری سمجھتے رہے۔ ان کا کام تھا کہ لوگوں کے باطن کی اصلاح کرتے لیکن وہ ظاہری رسومات ہی کو دین کے طور پر پیش کرتے رہے۔
ایک اور قسم ان لوگوں کی ہے جو ایک سوال کا جواب اتنا طویل لکھ دیتے ہیں کہ سار ا وقت ختم ہوجاتا ہے اور وہ دیگر سوال حل ہی نہیں کرپاتے۔ نتیجے کے طور پر وہ فیل ہوجاتے ہیں۔ دین کے معاملے میں بھی یہ بہت کامن ہے۔ کچھ لوگ مثال کے طور پر عبادات میں ہی پوری زندگی بسر کردیتے ہیں ۔ فرض نمازوں کےساتھ ساتھ اشراق و چاشت پڑھتے، رمضان کے علاوہ نفلی روزے رکھتے اور فرضی حج کے علاوہ کئی حج بھی کرتے ہیں لیکن دین کے دیگر امور کو فراموش کردیتے ہیں۔یہ لوگ مثال کے طور پر اخلاقیا ت میں دوسرے سرے پر کھڑے ہوکر لوگوں سے بدتمیزی کرتے، کاروبار میں دھوکا دیتے، بات چیت سے تکلیف پہنچاتے، بدگمانی و چغلی سے فساد برپا کرتے، انسانوں کا قتل کرنے والوں کی واہ واہ کرتے، تعصب کو دین سمجھتے اور ہر قسم کی غیر اخلاقی حرکت کو اپنی عبادت گزاری کی آڑ میں جائز قرار دیتے ہیں ۔ یہ وہی لوگ ہیں جنہیں اشراق اور چاشت کی نمازو ں نے تکبر میں مبتلا کردیا ۔یہ دین میں پوچھے گئے صرف ایک سوال ہی کا جواب دیتے رہے اور دوسرے سوالات کی تیاری ہی نہیں کی۔ نتیجہ “فیل “۔
کچھ لوگ ہوتے ہیں جو اپنے سوالات کا غلط انتخاب کرتے ہیں۔ انھیں دس میں سے پانچ سوال کرنے تھے لیکن انھوں نے وہ سوالات منتخب کیے جن میں وہ کمزور تھے یا جن کے جوابات مشکل تھے۔ دین میں بھی یہ کا م اس طرح ہوتا ہے کہ ایک شخص کو ایک ساد ہ زندگی ملی تھی جس میں وہ باآسانی چند اعمال کرکے پاس ہوسکتا تھا۔ لیکن اس نے اپنی لالچ ، حرص اور طمع کے ذریعے ناجائز دولت کے انبار اکھٹے کرلیے ، جھوٹی شہرت کو زندگی کا مقصد بنالیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ بیوی بچوں کے حقوق ادا کرنے سے قاصر ہوگیا، عبادات سے محروم ہوگیا ۔ تو اس نے ایسا سوال منتخب کرلیا جس کے جواب کا وہ مکلف ہی نہ تھا ۔

کچھ سوال اس طرح کے ہوتے ہیں جن کا جواب مخصوص ہیڈنگز میں ہی دینا ہوتا ہے جبکہ کچھ سوال ایسے ہوتے ہیں جن کا جواب اپنی طرف سے دینا ہوتا ہے۔ دین کا معاملہ بھی یہی ہے۔ کچھ ایسے امور ہیں جس کا دین نے طریقہ مقرر کردیا ہے اور اس کے ادا کرنے کا طریقہ مخصوص ہے جیسے نماز روزہ حج زکوٰۃ وغیرہ۔اسی طرح کچھ امور ایسے ہیں جنہیں دین نے مجمل چھوڑا ہے یعنی انسان آزاد ہے کہ ایک دائرے میں رہتے ہوئے ان پر عمل کرے جیسے انسان آزاد ہے کہ وہ اپنے ذوق کے مطابق کتنا سوئے، کتنا کھائے ، کتنا پئیے وغیرہ۔ اب جو لوگ دین سے جان چھڑانا چاہتے ہیں وہ متعین امور میں آزادی پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔چنانچہ وہ نمازوں کو لایعنی سمجھ کر اذکار پر ہی اکتفا کرتے، روزوں کو فاقہ کشی سمجھ کر چھوڑنے کی کوشش کرتے، حج کو محض ایک رسم سمجھتے ہیں۔ دوسری جانب کچھ ظاہر پرست لوگ دین کی دی گئی رخصت میں بھی پابندی کی کوشش کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر کچھ لوگ فجر کی نماز کے بعد سونے کو دین کے خلاف سمجھتے، کھانا پیٹ بھر کر کھانے کو تقوی کے منافی گردانتے اوردنیا کی جائز نعمتوں سے استفادے کو برائی جانتے ہیں۔اس روئیے سے دین کا توازن بگڑ جاتا ہے اور نتیجہ بعض اوقات کٹر ظاہر پرستی یا ایک لابالی شخصیت کی شکل میں نکلتا ہے۔

اچھی کاپیاں
دوسری قسم کی کاپیاں ایسی ہوتی ہیں جن میں بہت اچھا لکھا ہوتا ہے، ہر صفحے پر سنجیدگی ، متانت، محنت اور دیانت ٹپک رہی ہوتی ہے۔ خوبصورت لکھائی دیکھ کر نفاست کا احساس ہوتا اورمتن پڑھ کر ذہانت کا پتا چلتا ہے۔ہر سوال اچھی طرح سمجھا جاتا اور اس کا متوازن جواب دیا جاتا ہے۔یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے نہ صرف امتحانی نظام کے تقاضوں کو سمجھا بلکہ اس پر ایمان لاکر اس کے مطابق تیاری کی، اس کے ہر سوال کو بغور پڑھا، اس کے جوابات پر نوٹس بنائے ، سمجھنے کے لیے کلاسز لیں، اساتذہ سے رجوع کیا، تعلیمی اداروں کی خاک چھانی، اپنا دن رات ایک کیا اور تن من دھن قربان کرکے یکسوئی اختیار کی۔ دین میں ایسے لوگوں کی مثال ان سلیم الفطرت لوگوں کی ہے جنھوں نے اپنی فطرت کے چراغ کی حفاظت کی، اسے ماحول کی آلودگی سے بچائے رکھا۔ اس کے علاوہ وحی کے علم سے اپنی شخصیت کو آراستہ کیا، خدا کے احکامات کو سمجھا ، جانا، مانا اور پھر اس پر عمل کرنے کی پوری کوشش کی۔ اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے درست اساتذہ کا انتخاب کیا، ان سے اپنے مسائل ڈسکس کیے اور راہنمائی حاصل کرنے کے بعد منزل کی جانب چل پڑے۔
ایسے لوگوں کا آخرت میں انجام صدیقین، شہدا اورصالحین کی صورت میں ہوگا۔ ہر طرف سے ان پر سلامتی اور مبارکباد کے ڈونگرے برس رہے ہوں گے، ان کے استقبال کے لیے فرشتے مستعد ہوں گے، انھیں خدا کی جانب سے کامیابی کی سند سے نوزا جائے گا اور ان کا آخری کلمہ یہی ہوگا۔
الحمدللہ رب العٰالمین۔

اسائن منٹ
• روز رات سونے سے پہلے اپنے پورے دن کا جائزہ لیجئے کہ آپ کے اعمال نامے کا شمار کن قسم کی کاپیوں میں شمار ہوتی ہے؟
• روز سوتے وقت خود کو بہتر کرنے کے لیے کم از کم ایک عادت کو چھوڑنے یا اپنانے کا ارادہ کر کے سوئیں۔


شوہر پر شک اور بدگمانی

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Wednesday Aug 26, 2015

انسانی شخصیت اور معاشرے کے لیے جو منفی رجحانات نقصان دہ ہیں ان میں بد گمانی بلاشبہ سب سے زیادہ خطرناک ہے۔ یہ ایک ایسی برائی ہے جو انسان کی ذاتی زندگی سے لے کر اجتماعی زندگی تک بے سکوینی، جھگڑے اور فساد کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع کر دیتی ہے۔بدگمانی اپنے دل میں کسی کے بارے میں بری سوچ رکھنے کو کہتے ہیں۔
ہماری خاندانی زندگی بدگمانی کا ایک سب سے اہم شکار شوہر ہوتا ہے ۔ عام طور پر خواتین اپنے شوہروں پر کئی پہلووں سے شک کرتی ہیں لیکن سب سے اہم پہلو یہی ہوتا ہے کہ یہ کسی دوسری عورت میں تو دلچسپی نہیں رکھتے۔ اس بدگمانی کے بے شمار نفسیاتی، جذباتی ، واقعاتی یا دیگر اسباب ہوسکتے ہیں۔
خواتین کو یہ شک سب سےپہلے شوہروں کے رویے سے ہوتا ہے۔ شادی کے ابتدائی دنوں میں مرد کا رویہ بے حد رومانوی (Romantic)ہوتا ہے لیکن وقت گزرنےکے ساتھ ساتھ اس میں تبدیلی آتی جاتی ہے۔ رومانویت کی اس کمی سے بیوی کے دل میں یہی بات پیدا ہوتی ہے کہ شادی سے پہلے یا ابتدائی دنوں میں تو یہ جان نچھاور کرتے، محبت کا اظہار کرتے اور مجھ سے خوب باتیں کرتے تھے، اب یہ بدل گئے ہیں۔ ضرور کوئی چکر ہے۔ بس یہ چکر کا خیال آتے ہیں چکر آنا شروع ہوجاتے ہیں اور یہیں سے بدگمانی کا آغاز ہوجاتا ہے۔
ایک اور اہم سبب شوہر کا تاخیر سے گھر آنا ہے۔دفتری یا کاروبای مصروفیات کی بنا پر مرد حضرات تاخیر سے گھر آتے ہیں۔ عام طور پر بیویوں کو شک ہوتا ہے کہ کیا معاملہ ہے۔ پھر شوہر تھکے ماندے گھر واپس آتے ہیں اور عام طور پر باتیں نہیں کرتے۔بیوی جو سارا دن اس کا انتظار کرتی رہتی ہے اپنے پورے دن کی کتھا سنانے کے درپے ہوتی ہے۔
شوہر عام طور پر کوئی دلچسپی نہیں لیتے یا پھر صرف ہاں ہوں کرکے بات ٹالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اکثر مرد ویسے بھی خواتین کے مقابلے میں کم گو ہوتے ہیں۔ یہاں بھی بیوی میں بدگمانی پید اہوتی ہے کہ میری تو کوئی اہمیت نہیں ، کوئی اوقات نہیں وغیرہ۔ یہاں سے ایک خود ساختہ بے چارگی، احساس کمتری، شک اور دیگر گمانوں کی ایک چین شروع ہوجاتی ہے۔
بدگمانی کی ایک اور ممکنہ وجہ شوہر کی آزاد خیالی ، کھلا مزاج یا ڈبل اسٹینڈرڈہوتا ہے۔شوہر کا دیگر خواتین سے بات چیت کرنا، ان کے ساتھ ہنسنا بولنا، ان سے اچھی طرح بات چیت کرنا ایک بیوی کو بہت برا لگتا ہے ۔ یہاں سے بھی بدگمانی پیدا ہوتی ہے ۔ عورت خود کو کمتر سمجھتی اور شوہر پر مختلف طریقوں سے شک کرتی ہے۔
یہاں عین ممکن ہے کہ شوہر کی غلطی ہو اور اس کا رویہ نامناسب ہو لیکن اس کی نیت کسی عورت میں دلچسپی کا نہ ہو۔ اس صورت میں کی گئی بدگمانیاں سرد جنگ کو جنم دیتیں، لڑائی جھگڑے کا سبب بنتی اور بعض اوقات علیحدگی کا سبب بھی بن جاتیں ہیں۔
یہ ضروری ہے ہم اپنے دماغ کو خود کے ہی قائم کردہ بے بنیاد مفروضات کی زنجیر نہ لگائیں بلکہ حسن ظن قائم رکھتے ہوئے اپنے معاملات حسن انداز میں طے کریں ۔بدگمانی و شک ایک ادھورا علم ہوتا ہے اور ادھورے علم کی بنیاد پر زندگی کی عمارت تعمیر کرنا کوئی عقلمندی نہیں۔
پروفیسر محمد عقیل


کیا اللہ مجھ سے ناراض ہیں؟

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Friday Oct 10, 2014

. سوال
مجهے لگتا ہے اللہ تعالیٰ مجھ سے بہت دور ہیں اور میں اس کے قرب کے قابل نہیں. مجهے لگتا هے کہ میرا باطن اس حد تک آلودہ ہے کہ وہ مجهے اپنی دوستی کے قابل ہی نہیں سمجهتا. میں نے قرآن سے رہنمائی حاصل کرنے کی کوشش کی وہاں سے جواب ملا کہ راتوں کو اٹھ کر بخشش مانگنے والے اس کو پسند ہیں میں نے یہ بهی کرنا شروع کیا لیکن دل ابهی بهی خالی ہے. دل پر بہت بهاری پتهر رکها محسوس ہوتا ہے. وہ کیفیت دل میں ہی نہیں اترتی جیسی اللہ کے قرب میں ہونی چاہیے.
شاید اس کی وجہ میرا آلودہ باطن ہے. لگتا ہے کہ میں دنیا کی سب سے زیادہ متکبر، ریاکار، اور ناشکرا ہوں. اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ مجھ سے دوستی نہیں کرتے. اللہ مجھ سے ناراض ہیں تبهی وہ مجھ سے دور بہت دور محسوس ہوتے ہیں. میں کیسے ان سے دوستی کروں میں کیسے انہیں مناؤں.۔میں کیا کروں ؟میں اللہ کے بغیر بہت اکیلا محسوس کرتا ہوں.
<strong>جواب</strong>
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
مجھے آپ کی ای میل پڑھ کر بہت خوشی ہوئی ۔ لوگ دنیا کے مسائل پر ڈسکس کرتے ، ان کے لئے پریشان ہوتے اور ان کے حل کے لئے بھاگ دوڑ کرتے ہیں لیکن جس موضوع پر آپ نے استفسار کیا ہے اس پر کوئی سوچتا تک نہیں۔ پہلے تو اس موضوع پر سوال کرنے پر مبارک ہو۔
پہلے تو اصولی بات سمجھ لیجے ۔ قرآن میں اللہ نے مقصد تخلیق یہ بتایا ہے کہ وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون۔ یعنی میں نے جن و انسانوں کو صرف اس لئے پیدا کیا کہ وہ میر ی عبادت کریں۔ عبادت کے لغوی معنی انتہائی عاجزی، تذلل اور پستی کے ہیں۔ چنانچہ مقصد تخلیق یہ ہے کہ اللہ کے سامنے انتہائی عجز، پستی، تذلل کا اظہار دل و دماغ اور پورے وجود کے ساتھ کیا جائے ۔ یہ وہ عبادت نہیں جو نماز روزہ حج زکوٰۃ وغیرہ سے ظاہر ہوتی ہے۔ بلکہ یہ عبادت تو چونکہ مقصد تخلیق ہے اس لئے ساری زندگی جاری رہتی اور ہر ہر لمحے اس کا تسلسل رہتا ہے۔ جب یہ عجز تذلل و پستی انسان کے باطن میں داخل ہوتی ہے تو اس کے خارج میں اس کا اظہار کامل اطاعت سے ہوتا ہے۔ جیسے ایک غلام اپنے آقا کے حکم کو ماننے کے لئے بے تاب رہتا اور بلا کسی چوں چراں کے وہ اپنا سر خم کردیتا ہے اسی طرح ایک انسان بھی اطاعت کرنے کے لئے تیار رہتا ہے۔
اب آپ کی میل پر براہ راست آتا ہوں:
آپ کو یوں محسوس ہوتا ہے کہ اللہ آپ سے دور ہیں اور آپ ان کے قرب کے قابل نہیں اور وہ آپ کو اپنی دوستی کے قابل نہیں سمجھتے ۔ آپ کو خیال اس لئے پیش آیا کہ بقول آپ کے دل ابهی بهی خالی ہے. دل پر بہت بهاری پتهر رکها محسوس ہوتا ہے. وہ کیفیت دل میں ہی نہیں اترتی جیسی اللہ کے قرب میں ہونی چاہیے.
یہی وہ غلطی ہے جو اکثر راہ خدا پر چلنے والے لوگوں کو ہوجاتی ہے۔ دیکھیں مقصود کیفیت نہیں، لذت نہیں بلکہ اطاعت ہے، بندگی ہے، عاجزی ہے تذلل ہے پستی ہے۔ آپ نماز خدا کی رضا کے لئے پڑھتے ہیں، اس سے باتیں اس سے تعلق مضبوط کرنے کے لئے کرتے ہیں، تو پھر اس میں لذت و کیفیت کہاں سے آگئی؟ اگر آپ نے کیفیت کے حصول کے لئے عبادت کی تو پھر بندگی میں اخلاص کہاں رہا؟ اصل مقصد یاد رکھیں کہ خدا کے حکم کی تعمیل اور اس کے آگے خود کو مٹادینا ہے اور بس۔ اب لذت ملتی ہے تو اسکا کرم اور نہ ملے تو اس کی مرضی۔
دیکھیں ہم جب کسی بچے کو پڑھنے پر مجبور کرتے ہیں تو شروع میں کہتے ہیں کہ تمہیں ٹافی ملے گی ، تمہیں پارک لے کر جائیں گے، زو چلیں گے۔ تو بچہ پڑھنے کی جانب راغب ہوجاتا ہے۔ بچہ لالچ میں یہ کام کرتا ہے لیکن جب بڑا ہوجاتا ہے تو اسے علم ہوتا ہے کہ اصل مقصد تو پڑھائی کرنا تھا باقی چیزیں تو بہلاوے کے لئے تھیں۔ بالکل یہی معاملہ اللہ سے تعلق کا ہے۔ جب آپ شروع میں اللہ سے تعلق قائم کرنے لگیں تو کیفیت، لذت ، جذب و مستی ذوق و شوق نصیب ہوتا ہے ۔ بندہ یہ سمجھتا ہے کہ اللہ خوش ہیں اسی لئے یہ سب مل رہا ہے لیکن یہ اصل میں ایک بچے کو دئیے جانے والی ٹافیا ں ہوتی ہیں۔ جب بچہ بڑا ہوجاتا ہے تو اس کو یہ ٹافیاں ملنا بند ہوجاتی ہیں کیونکہ اب اسے ان سہاروں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ لیکن ہم یہ سمجھتے ہیں کہ شاید اللہ ناراض ہوگئے ہیں شاید انہوں نے دوستی ختم کرلی، شاید وہ مجھ سے محبت نہیں کرتے وغیرہ۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اب اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے مزید قریب کرنے کے لئے ہمیں بڑا بنادیتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اب بنا سہارے ہم اس کے قریب آئیں، اس کی اطاعت کریں، اس کی غلامی کریں اور ایسا کرنے میں جو اجر ہے وہ اس عبادت سے زیادہ ہے جس میں لذت و کیفیت ہو۔
آپ نے لکھا ہے:
شاید اس کی وجہ میرا آلودہ باطن ہے. لگتا ہے کہ میں دنیا کی سب سے زیادہ متکبر، ریاکار، اور ناشکرا ہوں. اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ مجھ سے دوستی نہیں کرتے.
یہ سب آپ کا وہم ہے۔ اللہ آپ سے دوستی رکھتے ہیں لیکن وہ اپنے دوست کو آزماتے بھی ہیں کہ یہ ٹافیوں کے لئے دوستی رکھتا تھا یا میرے لئے۔ایک مثال کوٹ کرنے پر مجبو ہوں کہ شوہر اور بیوی کے تعلق میں ابتدا میں محبت میں جوش و ولولہ، کیفیت و لذت زیادہ ہوتی ہے لیکن وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ اس مین کمی آنی شروع ہوجاتی ہے۔ عام طور پر میاں بیوی یہ سمجھتے ہیں کہ شاید محبت کم ہوگئی ہے لیکن ایسا نہیں ہوتا بلکہ یہ محبت کی اظہار کی نوعیت میں تبدیلی کی علامت ہوتی ہے اور اب محبت انسیت میں بدل جاتی ہے جو ابتدائی محبت سے زیادہ گہری، پائیدار اور موثر ہوتی ہے۔لیکن میاں بیوی کے تعلق کا اصل امتحان اسی وقت شروع ہوتا ہے جب کیفیت ایک بے کیف انسیت مین بدل جاتی ہے۔
آپ نے لکھا ہے:
. لیکن اب محسوس ہوتا ہے یہ اور بڑھ گیا ہے. اللہ مجھ سے ناراض ہیں تبهی وہ مجھ سے دور بہت دور محسوس ہوتے ہیں. میں کیسے ان سے دوستی کروں میں کیسے انہیں مناؤں. میں کیا کروں میں اللہ کے بغیر بہت اکیلا محسوس کرتا ہوں.

اللہ کی ناراضگی یا رضا کو کیفیت سے جانچنا درست نہیں ۔ خدا کی رضا کا دنیا میں معلوم کرنے کا کوئی ذریعہ ہے ہی نہیں بس اندازہ ہی لگایا جا سکتا ہے۔ اگر آپ کو خدا راتوں میں پانچوں وقت نماز میں اپنے پاس بلا رہا اور راتوں میں اٹھا رہا ہے تو کیا یہ کام وہ کسی دوست کے ساتھ کرے گا یا دشمن کے ساتھ؟ چنانچہ جب وہ آپ کو اپنے پاس بلانا چھوڑ دے تو سمجھ لیں اس نے آپ کو دور کردیا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ اس سے کیسے دوستی کی جائے ۔ اس پر ایک قصہ سناؤں گا:
ایک مرتبہ ایک بزرگ بیٹھے تھے کہ ایک آدمی آیا تو اور اس نے پوچھا:
“حضور عید کڈاں؟ (حضور عید کب ہوگی؟) وہ بزرگ مستغرق تھے تو بجائے اس کے کہ یہ جواب دیتے کہ چاند فلاں دن تک نطر آجائے گا انہوں نے کہا: ” یار ملے جڈاں”۔ ( جب یار ملتا ہے تب عید ہوتی ہے)
اس نے پوچھا ۔ ” یار ملے کڈاں”؟ (یار کب ملتا ہے)
بزرگ نے فرمایا۔” میں مکے جڈاں”۔ (جب میں مٹ جاتی ہے تو یار مل جاتا ہے)
بس جب آپ کی “میں ” اس کی “میں” کے آگے جھک جائے مٹ جائے ختم ہوجائے تو وہ آپ کو مل جائے گا۔
عقیل


اسلامی ادب

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Sunday May 11, 2014

عورتوں کو دیکھنا!… ایک مرد دوست کا مشورہ

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Sunday Apr 13, 2014


کبھی نہ کبھی تو مجھے اپنے ناتجربہ کاردوست سے یہ بات کرنا ہی پڑے گی۔لیکن ایسے نہیں۔ میں موقع کی تلاش میں ہوں۔ کسی ایسے وقت میں جب اس کی بے باک بھری نظریں وہی کر رہی ہوں جو مردوں کی آنکھیں بخوبی کر لیتی ہیں… یعنی اپنی خواہش کے ہدف کا تعاقب۔ جگہ کوئی بھی ہو سکتی ہے جیسےسمندر کے کنارے یا کسی شاپنگ مال میں۔ لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ۔ ۔ ۔ البتہ مجھے پتا ہے کہ ایسا وقت آنے والا ہے جب مجھے اپنے پڑھنا جاری رکھیں »


امتحان میں دعا کیوں؟

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Tuesday Feb 18, 2014


اکثر لوگ یہ سوچتے ہیں کہ جب ہم نے محنت کرلی تو پھر اللہ سے دعا کی کیا ضرورت ہے ۔ جب ہم نے دن رات جاگ کر محنت کی ، سبجیکٹ پر عبور حاصل کرلیا، اس کے ہر ہر پہلو کو اپنی گرفت میں لے لیا تو پھر دعا نے کیا کرنا ہے۔ دوسری جانب ایک گروہ یہ کہتا ہے کہ ہم تو دعاؤں سے کامیاب ہوجائیں گے۔ پڑھنا جاری رکھیں »