پروفیسرڈاکٹر محمد عقیل |

مسلمانوں کے ایمان اور اخلاق میں کمزوریوں کی جدید اندازمیں نشاندہی کرنااور اصلاح کے لئے سائنٹفک طرز پر حل تجویز کرنا اس سائٹ کے مقاصد ہیں۔۔۔۔۔۔۔قد افلح من زکھا۔

اسلامک اسٹڈیز پروگرام

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Saturday Oct 5, 2013


اسلامک اسٹڈیز پروگرام اسلامی علوم کی تعلیم کا ایک جدید آن لائن نظام ہےجس کا مقصد فرقہ واریت اور تشدد سے پاک ایسے اہل علم تیار کرنے میں مدد دینا ہے، جو دین کی دعوت کو اگلی نسلوں تک پہنچا سکیں۔ اس کی خصوصیات یہ ہیں:
• عوام الناس، داعی اور علما ء کے لئے اسلامی تعلیم کا جامع نصاب
• ہر طالب علم پر استاد کی انفرادی توجہ
• ہر سوال کا انفرادی سطح پر جواب
• تزکیہ نفس اور تعمیر شخصیت پر خصوصی توجہ
• درس نظامی کے طلبا کے لیے نصاب کی تفہیم میں اضافی مدد
• جدید تعلیم یافتہ افرادکی کی ذہنی سطح کے مطابق خصوصی کورسز
• ہر قسم کی فرقہ بندی سے ماورا مطالعے کا نظام
• امت مسلمہ کو یکجا کرنے کی ایک کاوش
• بلامعاوضہ تعلیم و تدریس
اگر آپ بھی ہمارے پروگرام سے دلچسپی رکھتے ہیں اور گھر بیٹھے دین کا علم حاصل کرنا چاہتے ہیں تو آج ہی اپنی پسند کے درج ذیل کورسز میں داخلہ لیجیے:
• عربی زبان
پڑھنا جاری رکھیں »


حج کا سفرنامہ ۔از پروفیسر محمد عقیل

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Sunday Sep 22, 2013


حج ارکان اسلام میں ایک اہم رکن ہے۔ اکثر مسلمان بھائی حج کرنے جاتے ہیں تو ظاہری مسائل کی ادائیگی ہی کو اپنا مقصد بناتے اور اسی کے مطابق حج کے ارکان سر انجام دیتے ہیں۔اس ظاہری اشتغال کی بنا پر وہ حج کی اصل روح سے ناآشنا رہتے اور اس کے اصل ثمرات سے محروم رہ جاتے ہیں۔
اس سفر نامے کا بنیادی مقصد حج کی اصل روح کو ایک آسان پیرائے میں بیان کرنا ہے۔ یہ تحریر ان لوگوں کے لئے بھی ہے جو حج پر جارہے ہیں یا جانے کا ارادہ کررہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ سفر نامہ ان لوگوں کے لئے بھی مفید ہے جو حج کرچکے ہیں کیونکہ اس طرح وہ ہر رکن کا فلسفلہ معلوم کرسکتے ہیں۔
تحریر پی ڈی ایف میں ڈاؤں لوڈ کرنے کے لئے نیچے کلک کریں۔
Hajj Ka Safarnama


ابلیس سے جنگ کی روداد۔ ۔۔ حج کا سفر

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Sunday Sep 22, 2013


بسم اللہ الرحمن الرحیم
از پروفیسر محمد عقیل
پس منظر
رات اپنے اختتام کے آخری مراحل میں تھی اور سورج طلوع ہونے کے لئے پر تول رہا تھا۔ فلائٹ آنے میں ابھی وقت تھا ۔اس اجالے اور تاریکی کے ملاپ نے ائیرپورٹ کے مادیت سے بھرپور ماحول میں بھی روحانیت کا احساس پیدا کردیا تھا۔یہ مئی ۲۰۰۹ کا واقعہ ہے جب میں ائیر پورٹ پر اپنے والدین ، بھائی اور دادی کو رسیو کرنے آیا تھا جو عمرہ ادا کرکے واپس آرہے تھے۔ فجر کا وقت ہوگیا تھا چنانچہ میں نے نماز فجر مسجد میں ادا کی۔ نماز کے بعد جب فلائٹ آگئی پڑھنا جاری رکھیں »


میں نے اسلام کیوں قبول کیا؟۔سیٹھ محمد عمر/ رام جی لال گپتا

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Saturday Sep 21, 2013


میں لکھنؤ کے قریب ایک قصبے کے تاجر خاندان میں 6 دسمبر 1939ء میں پیدا ہوا۔ گپتا ہماری گوت ہے۔ میرے پتا جی کریانے کی تھوک کی دکان کرتے تھے۔ ہماری چھٹی پیڑھی سے ہر ایک کے یہاں ایک ہی اولاد ہوتی آئی ہے۔ میں اپنے پتا جی (والد صاحب) کا اکیلا بیٹا تھا۔ نویں کلاس تک پڑھ کر دکان پر لگ گیا۔ میرا نام رام جی لال گپتا پڑھنا جاری رکھیں »


نامناسب القاب سے منسوب کرنا

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Wednesday Sep 4, 2013


نامناسب القاب سے منسوب کرنا
(تحقیق و تحریر: پروفیسر محمد عقیل)
کسی کی تحقیر کرنے اور اذیت پہنچانے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ اسے ایسے لقب سے منسوب کیا جائے جس سے اسے تکلیف یا اذیت پہنچے۔ مثال کے طور پر کسی کو لنگڑا یا لولا کہہ کر اسے دکھ پہنچایا جائے۔ اس روئیے سے تعلقات متاثر ہوتے اور تلخی پیدا ہوجاتی ہے۔ اگر مخاطب کمزور ہو تو نتیجہ اس کی دل آزاری اور نفسیاتی اذیت کی صورت میں برآمد ہوتا ہے۔ دوسری جانب اگر مخاطب طاقتور ہو تو وہ بھی اسی قسم کے القابات سے بولنے والے کو نوازتا ہے اور بات لڑائی جھگڑے تک پہنچ جاتی ہے۔ اسی بنا پر مہذب معاشروں میں اس قسم کا رویہ قابل مذمت ہوتا ہے۔ اس اخلاقی قباحت کی بنا پر اس روئیے کی قرآن و حدیث میں سختی سے مذمت کی گئی ہے۔جیسا کہ سور ہ الحجرات میں بیان ہوتا ہے:
“اور نہ(ایک دوسرے کو) برے القاب سے پکارو۔ ایمان کے بعد گناہ کا نام لگنا برا ہے۔اور جو توبہ نہ کریں تو وہی ظالم لوگ ہیں”۔(الحجرات۔۴۹:۱۱)
اس آیت میں واضح طور پر اس روئیے کو برا سمجھا گیا اور اس کی مذمت کی گئی ہے اور جو لوگ اس سے باز نہ آئیں انہیں ظالموں کی صف میں شامل کیا گیا ہے۔
برے القاب سے کسی کو پکارنا درحقیقت ایک اذیت دینے کا عمل ہے اور اذیت دینے کی احادیث میں سختی سے ممانعت کی گئی ہے۔ جیسا کہ اس حدیث میں بیان ہوتا ہے:
“مسلمان کو اذیت نہ دو انہیں عار نہ دلاؤ اور ان میں عیوب مت تلاش کرو۔ کیونکہ جو شخص اپنے کسی مسلمان بھائی کی عیب جوئی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی عیب گیری کرتا ہےاور جس کی عیب گیری اللہ تعالیٰ کرنے لگے وہ ذلیل ہو جائے گا۔ اگرچہ وہ اپنے گھر کے اندر ہی کیوں نہ ہو۔( جامع ترمذی:جلد اول:حدیث نمبر 2121 )
اسی طرح ایک اور جگہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان ایذا نہ پائیں۔(صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 9 )
برے القابات سے پکارنا بدگوئی کا ایک پہلو ہے جس کے بارے میں حدیث میں بیان ہوتا ہے ۔”جو شخص اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اس کو چاہئے کہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے”۔( صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 977 )
برے ناموں سے منسوب کرنا درحقیقت مسلمان کی عزت کی اس قدر حرمت ہے کہ جو کوئی اس حرمت کو نقصان پہنچائے ، اس کی نمازیں تک قبول نہیں ہوتیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے۔
“جو کوئی کسی مسلمان کی آبروریزی کرتا ہے تو اس پر اللہ فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہوتی ہے اس کی نفل اور فرض عبادت قبول نہیں ہوتی”۔( صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 440 )
نامناسب القاب سے منسوب کرنے کا مفہوم
برے القاب سے منسوب کرنے کا مفہوم یہ ہے کہ کسی متعین شخص کو ایذا پہنچانے کی نیت سے کوئی لقب دینا یا کسی ایسےلقب سے منسوب کرنا جس سے مخاطب کو ناحق تکلیف پہنچے یا کوئی ایسا نام یا لقب استعمال کرنا جو اپنی نوعیت کے اعتبار سے غیر اخلاقی ہو ۔
شرائط
برےلقب سے موسوم کرنے کے لئے درج ذیل میں سے کسی ایک شرط کا پورا ہونا لازمی ہے۔
۱۔ لقب کو کسی شخص کو اذیت دینے کی نیت سے موسوم کرنا یا
۲۔ کسی کو اس لقب سے ناحق اذیت ہو یا
۳۔لقب اپنی نوعیت کے اعتبار سے غیر موزوں ہو۔
وضاحت:
کسی نام سے منسوب کرنے کی تین شرائط میں سے کوئی ایک بھی پوری ہوجائے تو یہ گناہ سرزد ہوجائے گا۔ پہلی شرط یہ ہے کہ کسی کو نام سے منسوب کیا جائے اور اس کا مقصد اس شخص کی تحقیر وتذلیل کرکے اس کو اذیت دینا ہو۔ مثال کے طور پر زاہد نے فرحان کو اس کی پستہ قامتی کا احساس دلانے کے لئے اور اسے اذیت پہنچانے کے لئے جملہ کہا” اور بونے صاحب ! کہاں چل دئیے”۔ یہاں بونے صاحب کہنے کا مقصد چونکہ ایذا رسانی اور تنگ کرنا ہے اس لئے یہ برے لقب سے منسوب کرنے کا عمل ہے۔
دوسر ی شرط یہ ہے کہ لقب سے کسی کو ناحق اذیت پہنچے۔ یعنی کہنے والے کی نیت تو اذیت پہنچانے کی نہیں تھی لیکن سننے والے کو یہ لقب جائز طور پر برا لگا۔ مثلا الیاس نےغفار سے کہا ” اور ملا جی ! کہاں غائب تھے اتنے دنوں سے؟” الیاس کا مقصد ایذا پہنچانا نہیں تھا لیکن غفار کو ملا کے نام منسوب ہونا برا لگا تو یہ بھی ممنوع ہے۔
تیسری شرط یہ ہے لقب اپنی نوعیت کے اعتبار سے غیر موزو ں اور غیر اخلاقی ہو۔ مثال کے طور پر سلمان نے عزیر سے بے تکلفی میں کہا” او کمینے! بات تو مکمل کرنے دے، پھر اپنی کہنا”۔ یہ سن کر عزیر ہنسنے لگا۔ یہاں سلمان نے بے تکلفی میں جملہ کہا اور عزیر نے بھی مائنڈ نہ کیا یعنی اوپر بیان کی گئی دونوں شرائط پوری نہیں ہورہی ہیں لیکن کمینہ کہنا ایک غیر اخلاقی لقب ہے جس سے احتراز لازمی ہے۔
استثنیٰ
ہر سوسائٹی میں عرفیت کا رواج ہوتا ہے یا پھر لوگوں کو اس کی کسی علامت کی بنا پر مشہور کردیا جاتا ہے جیسے کسی کو لنگڑا، چھوٹو ، موٹو، کانا، چندا، کلو، لمبو وغیرہ کہنا یا پپو، گڈو، منا،چنا، بے بی، گڈی، گڑیا،چنی وغیرہ کے نام سے منسوب کرنا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ لوگوں کو ان ناموں سے منسوب کرنا کیسا ہے؟
اگر ان ناموں میں کوئی اخلاقی و شرعی قباحت نہیں اور ان میں ایذا کا کوئی پہلو موجود نہیں تو اس طرح مخاطب کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ لیکن عام طور پر یہ دیکھا یہ گیا ہے کہ ایسے افراد جب بچپن کی حدود سے نکلتے اور پختگی کی جانب مائل ہوتے ہیں تو انہیں ان ناموں سے مخاطب ہونا اچھا نہیں لگتا۔خاص طور پر ایسےافراد اجنبی لوگوں کے سامنے ان ناموں کو پسند نہیں کرتے جو ان کی عرفیت سے ناواقف ہوتے ہیں۔ چنانچہ اس صورت میں انہیں ان کے اصل نام ہی سے پکارنے میں عافیت ہے بلکہ اصل نام سے مخاطب کرنے میں اس قسم کے لوگ بالعموم بڑی عزت محسوس کرتے ہیں۔
دوسری جانب کچھ القاب ایسے ہوتے ہیں جو کسی شخص کو عزت دینے، اس کا رتبہ بڑھانے یا بیان کرنے یا اسے عزت و توقیر کے لئے دئیے جاتے ہیں۔ جیسے فاروق، صدیق، غنی، قائد اعظم ،علامہ وغیر۔ ان میں کسی قسم کا کوئی حرج نہیں۔
القاب کی اقسام
عام طور پر ہمارے معاشرے میں درج ذیل بنیادوں پر القاب استعمال ہوتے ہیں۔
۱۔ جسمانی بنیادوں پر القاب جیسے چھوٹو، موٹو، ٹھنگو، لمبو، کلو، چٹا، منا، کبڑا، لنگڑا، ٹنٹا ، اندھا، کانا وغیر کہنا۔
۲۔ مذہبی حوالے سے القابات جن میں منافق، فاسق، کافر، بنیاد پرست، یہودی، نصرانی، مشرک ، بدعتی ، وہابی وغیرہ شامل ہیں۔
۳۔قومیت کی بناد پر القاب میں پناہ گیر، مکڑ، پینڈو ، چوپایا ، اخروٹ ، ڈھگا، بھا ئو غیرہ مشہور ہیں۔
۴۔ جنسی بے راہروی کی نشاندہی کرنے والے ناموں میں حرافہ، بدذات، طوائف، کال گرل، لونڈا، ہیجڑا، زنخا وغیرہ ہی قابل تحریر ہیں۔ اس ضمن میں ایک بات یہ جملہ معترضہ کے طور پر یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ کچھ الفاظ کے معنی زمانے کے لحاظ سے بدل جاتے ہیں ۔ اس صورت میں اعتبار زمانی معنوں ہی کا ہوگا۔ مثال کے طور پر بھڑوا درحقیقت مڈل مین کو کہتے ہیں جو کرایہ وصول کرتا ہے۔ یہ لفظ شاید اپنی ابتدا میں اتنا معیوب نہ تھا لیکن آج یہ معیوب سمجھا جاتا ہے چنانچہ اس لفظ کے استعمال کا فیصلہ آج کے معنوں کے لحاظ سے ہوگا۔
۵۔ کسی برے عمل سے منسوب کرنا جیسے شرابی، زانی، قاتل، لٹیرا، دہشت گرد،چور وغیرہ
۶۔ کسی جانور سے منسوب کرنا جیسے کتا، گدھا، سور، الو، لومڑی ، بھیڑیا وغیرہ کہنا
۷۔ کسی غیر مرئی مخلوق سے منسلک کرنا جیسے شیطان ، چڑیل، بھوت، جن، بدروح وغیرہ کہنا
۸۔ کسی برے روئیے سے منسوب کرنا جیسے مغرور، بدخصلت، لالچی، بخیل، ذلیل، چمچہ، کنجوس،خودغرض ، فضول خرچ، عیاش وغیرہ کہنا۔
۹۔عمر کی بنیاد پر القاب بنانا جیسے کسی کو انکل ، آنٹی، چچا، ماموں، ابا ، اماں ، باجی وغیرہ کہنا۔ خاص طور پر خواتین اس معاملے میں زیادہ حساس ہوتی ہیں ۔ چنانچہ لوگوں مخاطب کرتے وقت ایسے القاب سے گریز کیا جائے جو ان کی عمر کی زیادتی کی علامت ہوں اور وہ اس سے چڑتے ہوں۔
۱۰۔ کسی کی چڑ بنالینا اور وقتا فوقتا اس چڑ سے اسے تنگ کرنا
۱۱۔ پیشے کی بنیاد پر القاب سے نوازناجیسے کسی کوموچی ،بھنگی، ڈنگر ڈاکٹر، ماسٹر،ہاری وغیرہ کہنا۔
اسباب و تدارک
چونکہ برے القاب سے منسوب کرنا بدگوئی کی ایک قسم ہے اس لئے اس فعل کے اسبا ب و تدارک جاننے کے لئے بدگوئی میں بیان کی گئی تحریر کا مطالعہ کرلیں۔
اسائنمنٹ
صحیح یا غلط بیان کریں:
۱۔ کسی کو عرف یعنی نک نیم سے پکارنا بالکل جائز نہیں۔
۲۔ برے لقب سے پکارنے کا گناہ سرزد ہونے کے لئے اوپر بیان کی گئی تینوں شرائط کا بیک وقت پورا ہونا لازمی ہے۔
۳۔برے لقب سے مخاطب کرنے کا مقصد کسی کی عزت افزائی ہوتا ہے۔
۴۔ اگر نیت ایذا دینےکی نہ ہو اور سننے والے کو بھی لقب برا نہ لگے تو اس صورت میں کسی بھی لقب سے بلانا جائز ہے۔
۵۔ ابو داؤد کی حدیث کے الفاظ ہیں” مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان ایذا نہ پائیں”۔(صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 9)
۶۔ایک شخص بہت کالا ہے اور کلو کے لقب سے مشہور ہے۔ اسے کوئی شخص طنز و تحقیر کی نیت سے مخاطب کرتا ہے ” ابے او کلو! ذرا ادھر تو آ”۔ اس طرح کلو کہنا برے لقب سے مخاطب کرنا ہے کیونکہ مقصد تحقیر ہے۔
۷۔نگہت نے رضیہ کی چالاکی کو بیان کرنے کے لئے اسے لومڑی کہا۔ یہ برے نام سے منسوب کرنے کا عمل ہے۔
۸۔ غزالہ نے اپنی کزن فرحانہ کے حسن کی تعریف کرتے ہوئے کہا ” بھئی آج تو تم چاند لگ رہی ہو”۔ فرحانہ سمجھی کہ غزالہ نے چاند کہہ کر اس کا مذاق اڑایا ہے اور وہ برا مان گئی۔ غزالہ کا چاند سے موسوم کرنا برے القاب سے پکارنے میں نہیں آتا کیونکہ نہ تو غزالہ کی نیت تحقیر کی تھی ، نہ چاند کہنے میں کوئی برائی ہے ۔ جبکہ فرحانہ کا برا ماننا ناحق ہے اورغلط فہمی کی وجہ سے ہے۔
۹۔ ذیشان نے مسلکی فرق کی بنا پر اپنے پڑوسی کو اس کی غیر موجودگی میں غلط طور پر “کافر ” کہہ دیا۔ یہ کلام غیبت بھی ہے اور اس میں برے لقب سے منسوب کرنے کا گناہ بھی شامل ہے۔
۱۰۔ اسکول میں بچوں نے ایک موٹے عینک والی بچی کو” پروفیسر ” کے لقب سے موسوم کردیا جس سے وہ بچی چڑتی تھی۔ بچی کو پروفیسر کہنا غلط لقب سے موسوم کرنے کے مترادف نہیں ہے۔


اللہ کا شکر ادا کرنے مختلف پہلو

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Wednesday Aug 7, 2013


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رمضان کا ختتام قریب ہے چنانچہ میر ی طرف سے آپ کو بہت بہت عید مبارک۔ اللہ آپ کو اس عید پر اپنا شکر ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائیں اور اپنی کامل بندگی میں شامل کرلیں۔
آپ عید پر مصروف ہونگے اس لئے اس مرتبہ کوئی سبق نہیں اور نہ ہی کوئی اسائنمنٹ ہے۔ لیکن چونکہ یہ ایک خوشی کا موقع ہے اس لئے اللہ کا جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے۔ بس ذرا یہ تحریر پڑھ لیں اور اپنے حالات کی مناسبت سے ہر پوائینٹ پر اللہ کا شکر ادا کردیں۔ یہی آج کا سبق ہے اور یہی تزکیہ نفس پروگرام کا اسائنمنٹ۔
اگر دنیا کی آزمائش کے فلسفے کو دو لفظوں میں بیان کیا جائے یہ صبر اور شکر کا امتحان ہے۔ انسان پر یا تو خدا کی نعمتوں کا غلبہ ہوتا ہے یا پھر وہ کسی مصیبت میں گرفتا ر ہوتا ہے۔ پہلی صور ت میں اسے اللہ کا شکر کرنے کی ہدایت ہے تو دوسری صورت میں صبر و استقامت کی تلقین۔ چنانچہ جو لوگ ایمان کے ساتھ شکر اور صبر کے تقاضے پورا کرنے میں کامیاب ہوگئے وہی لوگ آخرت میں فلاح پانے والے ہیں۔
اکثر علماء کہتے ہیں کہ صبر کے مقابلے میں شکر کا امتحان زیادہ مشکل ہے۔ شکر کے امتحان میں انسان بالعموم خدا فراموشی اختیار کرتا، تکبر کی جانب مائل ہوتا اور دنیا میں زیادہ منہمک ہوجاتا ہے۔شکر کرنا جتنا آسان ہے اتنا ہی زیادہ مشکل ہے۔ آسان اس لئے کہ زبان ، دل یا عمل سے اللہ کی نعمتوں کا اعتراف کرکے شکریہ ہی تو کہنا ہوتا ہے۔ لیکن یہی شکر ایک مشکل کام بھی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ کی نعمتوں کا انسان عادی ہوجاتا ہے اور وہ اسے فار گرانٹڈ لینےلگتا اور اپنا حق سمجھنے لگتا ہے۔ جبکہ اگر غور سے دیکھا جائے تو اللہ کسی بھی نعمت ادا کرنے کے پابند نہیں کیوں کہ یہ دنیا آزمائش کے اصول پر بنی ہے اور امتحان کی حالت میں نعمت کا ملنا اور چھننا دونوں برابر ہیں ۔ مثال کے طور پر آنکھوں کی نعمت کو لے لیں ۔ ہم روزانہ کئی گھنٹے ان آنکھوں سے دنیا کا دیدار کرتے اور اپنے معمولات زندگی انجام دیتے ہیں ۔ لیکن شاید ہی کبھی ہم نے اس پر شکر ادا کیا ہو۔ دوسری جانب اللہ نے اس دنیا میں کچھ لوگوں سے بینائی چھین کر یہ بتادیا کہ اگر وہ چاہتے تو اس طرح بھی آزما سکتے تھے لیکن یہ ان کا کرم ہے کہ انہوں نے آنکھیں دے کر آزمایا۔ اب یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم اس شکر کی آزمائش میں پورے اتریں۔
زیر نظر تحریر میں ان اہم نعمتوں کی جانب توجہ دلائی گئی ہے جو ہم سب کو بالعموم میسر ہیں لیکن ہم انہیں حقیر سمجھے ہوئے ہیں یا فراموش کیا ہوا ہے۔ چنانچہ پہلا کام تو یہ ہے کہ ہم سب ان نعمتوں پر زبانی شکر تو ادا کرہی دیں۔ دوسرا حصہ ان نعمتوں کا ہے جو کسی کو میسر ہیں اور کسی کو نہیں۔ تیسرا حصہ ان احوال کا ہے جو مجھے ذاتی طور پر پیش آئے اور میں نے نمونے کے لئے انہیں آپ کے سامنے پیش کیا ہے تاکہ آپ بھی اس طرح کی لسٹ بنا کر اللہ کا شکر ادا کریں۔
الف: ایمان کی نعمت
۱۔ اے اللہ آپ کا شکر ہے کہ آپ نے ایمان کی نعمت عطا فرمائی اور مسلمان بنایا۔
۲۔ آپ کا شکریہ کہ آپ نے اپنی آزمائش کی اسکیم سے واقفیت دی کہ یہ دنیا امتحان کی جگہ ہے ، کوئی عیش و عشرت کا مقام نہیں۔
۳۔ آپ کی ذرہ نوازی کہ آپ نے مجھے اس دن کی خبر متعین طور پر عطا کی کہ ایک دن مجھے آپ کے حضور پیش ہونا اور اپنے اعمال کا حساب کتاب دینا ہے۔
۴۔ آپ کی عنایت ہے کہ جنت کی نعمتوں سے آگاہی دی اور جہنم کی سزا کی خبر دی۔
۵۔ آپ کی توفیق ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغمبر ہونے کا یقین دلا یا ۔
۶۔ بڑی نوازش کہ آپ نے مجھے اپنی کتاب کا علم دیا اور اس کے ذریعے وہ باتیں بتائیں جو میرے لئے جاننا ممکن نہ تھا۔
ب: جسمانی نعمتیں
۱۔اے میرے پیارے رب! آپ کی بڑی عنایت کہ مجھے زندگی دی جو ایک بڑی نعمت ہے۔
۲۔ بڑی نوازش کہ مجھے آنکھیں دیں کہ دنیا کی مصوری کا دیدار کروں ۔ آپ اس پر قاد ر تھے کہ مجھے ان لوگوں میں شامل کردیتے جن کی آنکھیں نہیں اور ہر شے ان کے لئے تاریک وجود کی حیثیت رکھتی ہے۔
۳۔میں کس طرح ان کانوں کو عطا کرنے کا شکر ادا کروں جن کی بدولت میں لوگوں کی باتیں سنتا سمجھتا ہوں۔ اگر یہ سماعت آپ عطا نہ کرتے تو میرا کوئی زور آپ پر نہ تھا اور میں بھی آج بہروں کی صف میں شامل ہوگیا ہوتا۔
۴۔ میں کیسے اس زبان کو دینے پر آپ کا احسان مانوں کہ جس کے نہ ہونے پر میں بول چال کے قابل نہ ہوتا اور لاکھوں گونگوں کی صف میں شامل ہوچکا ہوتا۔
۵۔میرے پاس الفاظ نہیں کہ میں عقل عطا کرنے پر آپ کو تھینک یو کہوں ۔ یہ دماغ اگر آپ نہ دیتے تو میں یا تو پاگل خانے کی دیواروں سے سر ٹکرا رہا ہوتا یا ناگفتہ بہ حالت میں سڑکوں کی خاک چھان رہا ہوتا۔
۷۔ میں پاؤں عطا کرنے کی نعمت پر کیا کہوں کہ جن کی بدولت میں بے ساکھی یا کسی مصنوعی سہارے کے بنا ادھر سے ادھر چلتا پھرتا ہوں۔
۸۔ میں ان ہاتھ عطا کرنے کی عنایت پر صرف شکریہ کہہ دوں تو زیادتی ہوگی۔ ان ہاتھوں کو اگر آپ مجھے نہ دیتے تو میرا کوئی حق نہ تھا کہ آپ سے لڑ جھگڑ کر انہیں کلیم کرتا ۔ بے شمار لوگ اس دنیا میں ہاتھوں کے بغیر موجود ہیں لیکن ان کا کوئی اختیار نہیں کہ آپ کا فیصلہ تبدیل کروالیں۔
۹۔ آپ نے جو ہر لمحے میرے دل کی دھڑکن کو جاری و ساری رکھا ہوا ہے اس پر کس طرح شکر گذاری کروں ؟
۱۰۔میں سانس کی آمدو رفت پر کیا کہوں؟
۱۱۔ میں خون کی روانی کا کیا ذکر کروں؟
۱۲۔ میں ان اعضا کی عطا اور افعال پر آپ کا شکر گذار ہوں کہ جن بدولت غذا جسم کا حصہ بنتی، فاسد مادوں کی صفائی ہوتی اور جسم کی بقا و ارتقا جاری رہتا ہے۔
۱۳۔ میرے جسم کے ہر عضو پر شکر جسے میں جانتا ہوں اور جسے نہیں جانتا۔
۱۴۔ میں شکر گذار ہوں کہ آپ نے صحت عطا کی وگرنہ کتنے لوگ ہیں جو ہسپتال کے کمروں میں زندگی کی گھڑیاں بتا رہے ہیں۔
ج: زمین آسمان کےنظام کی نعمتیں
۱۔ اے میرے رب! آپ کا شکر یہ کہ آپ نے آسمان پر اوزون کی لئیر بنادی جو مجھے سورج کی الٹرا وائلٹ شعاعوں سے بچا تی ہے۔
۲۔ آپ کا شکر یہ کہ آپ نے زمین اور سور ج میں ایک معین فاصلہ پیدا کیا اگر سورج زیادہ قریب ہوتا تو گرمی کی شدت ناقابل برداشت ہوتی یا اگر وہ دور ہوتا تو سردی سے جینا محال ہوجاتا۔
۳۔ آپ کا شکریہ کہ زمین کو قائم و دائم رکھا ہوا ہے ۔ اگر کشش ثقل زیادہ ہوتی تو ہمارا قدم اٹھانا دو بھر ہوتا اور اگر یہ کم ہوتی تو ہم سب خلا میں تیر رہے ہوتے۔
۴۔ آ پ کا شکر کہ آپ نے زمین کو زلزلے سے بچایا ہوا ہے اگر آپ چاہیں تو ایک جھٹکے سے سب کچھ زمیں بوس ہوجائے۔
۵۔ آپ کا شکر یہ کہ آپ نے آسمان اور زمین کو ہماری خدمت میں لگارکھا ہے۔ آسمان سے اگر بارش برستی ہی رہے تو سمندر ابل پڑیں، یہ چلنے والی سبک رفتا ر ہوا کی لگام ڈھیلی ہوجائے تو پکے مکانات کو گرادے۔
د: خاندانی نعمتیں
۱۔ آپ کا شکر کہ ماں باپ عطا کئے کہ کتنے بچے ایسے پیدا ہوتے ہیں جنکو اپنے ماں باپ کا ہی علم نہیں۔
۲۔ آپ کا شکر کہ آپ نے پرورش کا سامان مہیا کیا ۔
۳۔ آپ کی عنایت کہ ماں باپ کا سایہ اب تک برقرار رکھا۔
۴۔ آپ کی عنایت کہ مجھے نیک بیوی عطا فرمائی۔
۵۔ آپ کی نوازش کہ مجھے فرماں بردار اولاد دی۔
۶۔ آپ کی عنایت کہ مجھے بھائی ، بہن دئیے ۔
۷۔ آپ کا شکر کہ مجھے رشتے دار عطا کئے کہ جو دکھ درد بانٹتے اور خوشیوں میں شریک ہوتے ہیں۔
د: مادی نعمتیں
۱۔ شکر گزار ہوں کہ مکان عطا کیا ۔ اگر میں بھی ان لوگوں میں شامل ہوتا جو کھلے آسمان تلے سورہے ہیں تو آج یہ سکون میسر نہ ہوتا۔
۲۔ آپ کا شکر کہ مجھے اتنی دولت دی کہ جو چاہوں حلال رزق میں سے کھا سکتا اور اپنے خاندان کو کھلا سکتا ہوں۔
۳۔ آپ کی ذرہ نوازی کے کہ اچھی سواری عطا کی اور اسے چلانے کی مہارت بھی دی۔
۴۔ آپ کا شکریہ اے پیارے محسن کہ مجھے تن ڈھانپنے کے لئے لباس دیا اورپاؤں کو تکلیف سے بچانے کے لئے جوتے دئیے کہ کتنے ہی لوگ دنیا میں ننگے پاؤں پھرتے اور برہنہ بدن زندگی گذارنے پر مجبور ہیں۔
۵۔ آپ کا شکر کہ مجھے پڑھا لکھا بنایا، علم دیا، سمجھ دی اور جہل سے نجات عطا فرمائی۔
حرف آخر
یہ وہ چند باتیں ہیں جن پر میں شکر کررہا ہوں لیکن لاکھوں بلکہ کروڑوں بلکہ لاتعداد ایسی نعمتیں اور احسانات ہیں جن کا مجھے ادراک ہی نہیں یا میں احسان فراموشی کے باعث بھول چکا ہوں ۔ بس میں شکر گذار ہوں ہر اس نعمت کا جو آپ نے مجھے عطا کی خواہ وہ میرے علم میں ہو یا نہ ہو، خواہ وہ مجھے یاد ہو یا نہ ہو۔
اے میرے پیارے محسن رب! آپ کا شکر ہے اتنا شکرجتنی آپ کی مخلوق ہے، اتنا شکر جو آپ کو راضی کردے، اتنا شکر جو آپ کے عرش کے وزن کے برابر ہو، اتنا شکر جو آپ کے کلمات کے برابر ہو۔

پروفیسر محمد عقیل


زکوٰۃ کے عملی مسائل

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Thursday Aug 1, 2013


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
نماز کی طرح زکوٰۃ کو ماننا بھی دین اسلام میں لازم ہے بصورتِ دیگرنماز کے منکرین کی طرح زکوٰۃ کا انکار کرنے والے لوگ بھی دائرۂ اسلام سے خارج سمجھے جاتے ہیں ۔
قرآن میں زکوٰۃ کا واضح حکم موجود ہے جیسا درج ذیل آیات میں بیان ہوتا ہے:
۱۔اور نماز قائم کرو اور زکوۃ دو اور جو کچھ بھلائی تم اپنے واسطے آگے بھیجو گے اللہ کے ہاں اسے موجود پاؤ گے۔ بیشک جو کچھ بھی تم کر رہے ہو اللہ دیکھ رہا ہے۔(البقرہ ۱۱۰:۲ )
۲۔(مسلمانو،) نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دیا کرو اور رسول کی اطاعت کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ پڑھنا جاری رکھیں »


مصیبتیں اور ان کا علاج

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Sunday Jul 28, 2013


ہمیں آئے دن پریشانیوں اور مصیبتوں کا سامنا رہتا ہے۔ کبھی بیماری تو کبھی غربت، کبھی ذہنی پریشانی تو کبھی مختلف اقسام کے خوف۔ اس صورت حال کو دیکھ کر ایک عام مسلمان سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ آخر اس سے کیا گناہ سرزد ہوگئے ہیں؟ کوئی ان مشکلات سے نفسیاتی و جسمانی پریشانیوں میں مبتلا ہوجاتا ہے تو کوئی خودکشی کی جانب مائل ہوجاتا ہے۔ کچھ لوگ آگے بڑھ کر خدا ہی کے خلاف ہوجاتے اور اس رب ہی کو برا بھلا کہنے لگ جاتے ہیں۔ لیکن ظاہر ہے یہ سارے اقدام ان مشکلات میں کمی
کی بجائے اضافہ ہی کرتے ہیں۔زیر نظر مختصر کتابچہ ہمیں اسلامی پس منظر مصیبتوں کی وجوہات سمجھاتا، ان سے نبٹبنے کی سائنٹنفک تدابیر تجویز کرتا اور اپنی شخصیت کو ہر قسم کے مصائب سے نبر آزما ہونے کی تعلیم دیتا ہے۔ اس کا مطالعہ ہر شخص کے لئے ضروری اور انتہائی مفید ہے۔
مصیبتیں اور ان کا علاج


حجاب پر مکالمہ

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Saturday Jul 27, 2013

پردے پر اسلامی احکام کی دلنشین پریزنٹیشن ڈاوون لوڈ کرنے کے لئے نیچے کلک کریں۔
حجاب ۔ ماڈرن اور روایت پسند لڑکیوں کا مکاملہ


روزے کی مشکلات اور ان کا علاج

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Friday Jul 26, 2013


از پروفیسر محمد عقیل
تعارف
نماز اور زکوٰۃ کے بعد روزہ تیسری اہم عبادت ہے ۔ رمضان فرض روزوں کا مہینہ ہے جس میں مسلمانوں کے لیے فجر سے مغرب تک کھانے پینے اور مخصوص جنسی عمل سے اجتناب برتنا لازم ہے البتہ مسافر، بیمار یا حیض میں مبتلا خواتین اس سے مستثنیٰ ہیں ۔ روزہ صرف امتِ محمدی پر ہی نہیں بلکہ ماضی کی امتوں پر بھی فرض تھا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ اپنی بگڑی ہوئی شکل میں عیسائیوں ، یہودیوں حتیٰ کہ ہندوؤں کے یہاں بھی اب تک موجود ہے پڑھنا جاری رکھیں »